XI CLASS URDU

Followers

About Me

My photo
Manora ,District :Washim 444404, Maharashtra , India

Monday, 26 December 2022

غزل نمبر 2: نواب مرزا داغ دہلوی

غزل نمبر 2 : نواب مرزا داغ دہلوی

 الفاظ معنی
1)









جواب



 ایک جملے میں جواب دیجیے

1) بگڑے ہوئے مزاج سے پیدا ہونے والی خرابی بیان کیجیے
جواب :  بگڑے ہوئے مزاج والا آدمی کسی کے بھی دل میں گھر بنا نہیں سکتا یعنی بگڑے ہوئے مزاج والا آدمی کسی سے بھی راہ و رسم بڑھانے کے لائق نہیں رہتا
2) اکھل کھرا مزاج کے لوگوں کی  صفحات ایک جملے میں بیان کیجیے
جواب : اکھل کھرا مزاج کچھ بھی کام کا نہیں ہوتا(کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچاتا)کیونکہ سماج یہ سوچتا ہے کہ ایسے بد مزاج سے ہمارا پالا کبھی نہ پڑے
3) مقطع میں پیش کیے گئے شاعر کے خیال کی وضاحت کیجئے
جواب :  شاعر کے مطابق خدا کے فیصلے میں کسی کو اختیار نہیں ہے لہذا خدا نے جسے جو مزاج دیا ہے  وہ اوروں کے مزاج سے الگ ہوگا جیسے ایک مزاج داغ کا ہے دوسرا ان کے محبوب کا ہے۔ ایک منفی مزاج اور دوسرے مثبت مزاج ہے
4) غزل سے صنعت تضاد کا شعر تلاش کیجئے
جواب : 
 میرا جدا مزاج ہے ان کا جدامزاج
پھر کس طرح سے ایک ہو اچھا برامزاج

5) غزل کے قافیوں اور ردیف کی نشاندہی کر کے لکھیے
جواب : قافیہ :  جدا/ برا/ کیا/کا/ہوا/آشنا 
ردیف : مزاج
6)محبوب کے بدلے ہوئے تیور تھے۔ اس خیال کا اظہار کرنے والا شعر لکھیے۔
جواب : کل انکا سامنا جو ہوا خیر ہوگئی
بلی ہوئی نگاہ تھی ، بدلہ ہوا مزاج
7)مطلع میں موجود صنعت کا نام لکھیے۔
جواب : صنعت تضاد
8)مقطع میں سے مصرع اولیٰ اور مصرع ثانی کی نشاندہی کیجیے 
جواب : مصرع اولیٰ :
سچ ہے ،خدا کے دین میں کیا دخل ہو سکے
مصرع ثانی : اک داغ کا مزاج ہے ،اک آپ کا مزاج 
8)محبوب کے غرور کو ظاہر کرنے والا شعر لکھیے۔
جواب: دیکھا نہ اس قدر کسی معشوق کا غرور
اللہ کا دماغ ہے اللہ کیا مزاج
9) خدا کے فیصلے میں کسی کو دخل نہیں اس بات کو ظاہر کر نے والا شعر لکھیے 
جواب :سچ ہے ،خدا کے دین میں کیا دخل ہوسکے
اک داغ کا مزاج ہے ،اک آپ کا مزاج

(⚽) تشریح کیجئے/استحسانی وضاحت کیجیے 

1) کس طرح دل کا حال کھلے اس مزاج سے
 پوچھو مزاج تووہ کہیں آپ کا مزاج
جواب :۔۔۔۔۔۔۔
2) پالا پڑے کہیں نہ کسی بد مزاج سے۔   
 ہر وقت دیکھتے ہیں مزاج آشنا مزاج
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




نوٹ : اپنے طلبہ کو لغت اور ڈکشنری کے استعمال کی عادت ڈالیں ۔ لغت اور ڈکشنری کا استعمال تفہیم کے عمل کو آسان بنا دیتا ہے ۔نیز زبان دانی میں کلیدی رول ادا کرتا ہے

لغت کو اس لنک کی کاپی کو پلے اسٹور میں پیسٹ کرکے  ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

http://play.google.com/store/details?id=com.vovoapps.lughatoffline



4 - حدیقین سے حد گمان تک

 4 - حد یقین سے حد گمان تک 

الفاظ معنی :

1)























⬅️"کمایا اتنا ہی کہ گھر کی سفیدی اور لباس کے اجلے پن پر داغ دھبے نہ دکھائی دیں" اس جمل کی وضاحت کیجئے۔نیز اس جملہ پر اپنی رائے دیجئے۔➡️

جواب:اس جملہ میں عزتِ نفس، قناعت، سادگی اور باوقار زندگی کا ایک خوبصورت اصول پوشیدہ ہے۔ یعنی معاش کم ہو، مگر بے داغ ہو… رزق حلال ہو، چاہے کم ہی کیوں نہ ہو، مگر اتنا ہو کہ انسان باعزت طریقے سے زندگی گزار سکے۔
        میری نظر میں اس جملے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ انسان کی اصل دولت اس کی کمائی نہیں، اس کی کمائی کی پاکیزگی ہے۔ معاش کم ہونا جرم نہیں، مگر بدنامی اور حرام کے داغ انسان کی شخصیت کو گہنا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ خوش قسمت ہیں جو کم کماتے ہیں مگر عزت سے چلتے ہیں کیونکہ 'آبرو ہزار نعمت ہے'۔حرام کمائی کے نقصان بہت زیادہ ہے حرام کمائی زیادہ ہو سکتی ہے مگر عزت جاتی رہتی ہے۔سکون چھن جاتا ہے۔معاشرہ بدگمانی کے ساتھ یاد کرتا ہے۔ اسلئے کہاوت مشہور ہے "نیم کے نیچے سو جانا بہتر ہے، حرام کے نیچے تخت نہ چاہیے۔
        اس کے برعکس رزق حلال کا راستہ اپنانے والے کی کمائی کم ہو سکتی ہے مگر عزت بر قرار رہتی ہے۔ دل مطمئن رہتا ہے۔معاشرہ احترام سے دیکھتا ہے۔ 
        سورۃ بقر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
 "وَكُلُوا مِن رِّزْقِ اللَّهِ حَلَالًا طَيِّبًا" (اللہ کے رزق میں سے کھاؤ، حلال اور پاکیزہ)
        آگے اللہ حرام سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہتا ہے "وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ" (آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ)
        اسی طرح قناعت کی اہمیت کو قرآن نے کچھ ان الفاظمیں بیان کیا ہے "لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ"  (اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا)
     حدیثِ مبارکہ میں بھی رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔ "حلال کمائی طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے"
       آپ ﷺ نے ایک اور جگہ فرمایا "جو رزق تمہیں تھوڑا بھی ملے، اگر حلال ہے تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے۔"
      اسی طرح سادگی و قناعت کے بارے میں صحیح بخاری میں فرمایا گیا ہے کہ 
"قناعت نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے"
        با الفاظ دیگر قرآن و حدیث میں متعدد حوالے موجود ہیں جو ہمیں رزق حلال کمانے، قناعت کرنے اور سادہ زندگی گزارنے کی تلقین کرتے ہیں۔ 
         زیر بحث موضوع کو ہم ایک مثال کے ذریعے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ ایک شخص پوری زندگی ایک چھوٹی سی ملازمت کرتا ہے۔ اس کا گھر سادہ ہے، لباس صاف اور دل مطمئن۔ معاشرہ اسے بااخلاق، معزز اور شرافت کی علامت سمجھتا ہے۔دوسرا شخص بہت دولت کماتا ہے، مگر جائز و ناجائز کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس کے پاس سب کچھ ہے لیکن بھروسہ، عزت اور دل کا سکون نہیں۔
     پہلا شخص ہی دراصل جملے کے اس مفہوم کا زندہ نمونہ ہے۔
       قصہ کوتاہ کہ زیر بحث جملے میں رزقِ حلال کی عظمت، سادگی کا وقار اور عزتِ نفس کی خوشبو ہے۔ پیغام یہ دیا گیا ہے کہ عزت والا فقر، ذلت والی امیری سے بہتر ہے۔ کمائی اتنی ہو کہ داغ نہ لگے، اور دل سیاہ نہ ہو۔ سفیدی کا مطلب صرف گھر اور لباس کی چمک نہیں، کردار اور نیت کا اجلا پن بھی ہے۔

Wednesday, 21 December 2022

3 - چھوڑ کر ہم ساتھ اپنا جائیں گے

           3۔چھوڑ کر ہم ساتھ اپنا جائیں گے


الفاظ معنی :















👈صحیح متبادل تلاش کرکے جملے مکمل کیجیے/خالی جگہ پر کیجیے


1) عصمت جاوید کی اولادیں :۔۔۔۔۔۔
2) رنگ و روپ بگڑنے کی وجہ: ۔۔۔۔۔۔
3) نماز کی پابندی: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4) عصمت جاوید کاوطن ثانی :۔۔۔۔۔۔۔
5) عصمت جاوید کے گھر کا نام:۔۔۔۔۔۔
6)  عصمت جاوید کا مکان جس علاقے میں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
7) عصمت جاوید کی پہلی کتاب کا نام:۔۔۔۔۔۔۔۔
8) عصمت جاوید کی پہلی کتاب کا سن اشاعت:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
9) زبان و ادب کو سمجھنے کے لیے جس مصنف کی کتابوں کا مطالعہ کافی ہے:۔۔۔۔۔۔۔
10)عصمت جاوید ایک اچھے نثر نگار اور شاعر تھے اس بات کا ثبوت انکی کتاب :۔۔۔۔۔۔۔
11) میں نے اکثر شاعروں کو دیکھا ہے کہ وہ نثر کا ایک صفحہ : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
12) عصمت جاوید کی شاعری دل کی کم اور :۔۔۔۔۔۔۔۔۔
13) اورنگ آباد دکن آکر ادب میں سرخ رو ہونے والے پہلے ادیب : ۔۔۔۔۔
14)  عصمت جاوید اور ڈاکٹر مجید بیدار نے جنہیں پی ایچ ڈی کرنے دی :۔۔۔۔۔۔
15 ) شب آہنگ کے مصنف کا نام ۔۔۔شاہ حسین لہری
16)  شب آہنگ کے پیش لفظ  کے مصنف: ۔۔۔۔۔۔۔۔
17)عصمت جاوید کے غصہ کی وجہ بنی :  ابتدائی باتوں کو رد کرنا
18)  اپنے آپ کو تنہا محسوس کرنے کا دور   ۔۔۔وظیفے کے بعد شروع ہوتا ہے
19)  سروس کے دوران فرد بھول جاتا ہے کہ : ۔۔میں ریٹائر بھی ہوگا
20) انہوں نے میرے ساتھ  زندگی بھر ۔۔۔نیک برتائو کیا
21 )  عصمت جاوید جو بھی لکھتے تھے : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
22) عصمت جاوید نے اورنگ آباد  میں گزارے  ۔۔۔پینتیس سال
23) اورنگ اباد میں قیام کے دوران عصمت جاوید نے  جتنا سیکھا : ۔۔۔۔۔۔۔
24) 'نمی رویم براہی کہ کارواں رفتہ است' کا مطلب :۔۔۔۔۔۔۔
25)  مضمون 'ڈاکٹر عصمت جاوید کی ترجمہ نگاری اور زبان دانی' کے مصنف کانام ہے : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
26 )عصمت جاوید شیخ جیسی شخصیت کو فراموش کرنا : ۔۔۔۔۔۔
27)ان کے توانا جسم پر اثر انداز نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
28)عصمت جاوید کا جہاں تبادلہ ہوا۔۔۔۔۔
29)پروفیسر عبدالستار دلوی عمر میں عصمت جاوید سے   چھوٹے تھے 
30)پروفیسر عبدالستار دلوی سے اختلاف کرنا عصمت جاوید کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
31)زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو کا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
32)عصمت جاوید کی ذات سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
33)ذہن سوچ اور فکر سے۔۔۔۔۔۔۔۔
34) عصمت جاوید نے غصے میں ۔۔۔۔۔۔ان کے ہاتھ سے کاغذات لے لئے








علامہ اقبال کا پیغام

  رِندانِ فرانسیس کا میخانہ سلامت پُر ہے مئے گُلرنگ سے ہر شیشہ حلَب کا ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عَر...