XI CLASS URDU

Followers

About Me

My photo
Manora ,District :Washim 444404, Maharashtra , India

Thursday, 18 March 2021

Interview Questions

نوٹ : انٹرویو سوالات کی سرگرمی اردو اور انگریزی دونوں مضامین کے پرچے میں پوچھی جاتی ہے۔اس بلاگ میں اردو اور انگریزی دونوں پرچوں کے انٹرویو سوالات کا طریقہ بتایا گیا ہے۔پہلے اردو مضمون کا طریقہ دیا گیا ہے اور اس کے نیچے انگریزی کے Interview Questions دیئے گئے ہیں۔لہذا آخر تک پورا صفحہ پڑھیں۔

SUBJECT =URDU

CLASS = XI ,XII

Question No:5(B)=انٹرویوکیلیے سوالات

     اردو مضمون میں سوال نمبر پانچ کے (ب) میں  کسی شخصیت کے انٹرویو کے لیے سوالات لکھنے کے لیے کہا جاتا ہے۔اس سرگرمی کو حل کرنے کے لیے طلباء کو  چاہیے کہ وہ خود کو ایک رپورٹر تصور کرے۔طلباء کو چاہیے کہ وہ صرف انٹرویو کے لیے سوالات تیار کریں۔ان سوالات  کے جوابات تو وہ شخص دیگا جس کا انٹرویو لینے جارہے ہیں۔ وہ جوابات آپ کو معلوم نہیں ہے ۔آپ کو صرف سوال کر نا ہے۔

👈نمبرات کی ترتیب =

  💎صاحب انٹرویو کاتعارف=01 نمبر

   💎 انٹرویو کے لئےسوالات =04 نمبرات

   👈 کل نمبرات = 05

  چند اہم معلومات ملاحظہ فرمائیے






 نوٹ :  مذکورہ بالا سوالات سے پہلے صاحب  انٹرویو کا تعارف کروانا ضروری ہے جیسے

تعارف

 السلام علیکم ،ہم جس عظیم ہستی کا انٹرویو لینے جارہے ہیں ان کا نام ہے۔۔۔۔۔۔۔ آپ  پچھلے 15 سالوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔اس پیشے  میں اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ آپ سماج کے لیے ایک مشعل راہ ہے  جس کی روشنی نے عوام کی راہ نمائی کی ہے۔ آپ کو حکومت مہاراشٹر کی طرف سے۔۔۔۔۔۔ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔جناب آپ کا  خیر مقدم ہے

انٹرویو کے لیے سوالات :(کم سے کم 06 سوالات )

1)۔۔۔۔
2)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3)۔۔۔۔۔۔۔۔
مشق کے لیے چند انٹرویو کے نمونے ملاحظہ فرماییے

1)نمونہ نمبر 1 (شعاع امید ورک بک کے صفحہ نمبر 122 سے ماخذ)

2)نمونہ نمبر 2

3)نمونہ نمبر 3۔ (شعاع امید ورک بک کے صفحہ نمبر 121 سے ماخذ)



4- نمونہ نمبر 4

5- نمونہ نمبر 5
6- نمونہ نمبر 6















                           








     Subject : English.         


Class : XI,XII

Subject : English

QUESTION NO : 4 (B) :

              Interview Questions

The guidelines for framing Interview questions

👉 Guidlines will be the same as mentioned above for Urdu subject.You have to use all the above mentioned rules.Apart from those rules in Urdu section above ,you can take help from the following guidelines too.

1)Only interview questions are expected from the students.Answer must not be written by the students as interviewee(صاحب انٹرویو) is expected the same

2)Give introduction of interviewee like..

Introduction:

We are about to interview a great personality whose name is... You have been serving in this profession for the past 15 years. You are a beacon of light for society, whose guidance has illuminated the path for the people. You have also been honored with the ... award by the Government of Maharashtra. Sir, we warmly welcome you.


3)Numbers (1,2,3....) must be written one below the other

4)Questions should be written according to the points given.It might be that questions are asked in the form of table.Questions must be according to the table and the same tablular diagram must be formed.

5)You must include the following type questions in your interview questions.

  (A)Initial (personal) questions :There should be 2 or 3 personal questions.These questions must be related to his /her past events.Therefore they must be in past tense

(B)Content Questions (سوال میں دئے گئے مواد کے متعلق سوالات):They should be in present tense .Content questions should be 3/ 4 in quantity.

(c)Probing question: These type of questions aim at taking the knowledge out which people don't know.They target at his / her thought or plan/strategy about anything.

(D)Ending questions : these questions should be about message for people or his future course of action or plan.

(E)Include concluding statement like

"Thank you very much for this valuable interview. I am going to  publish this interview in my college magazine/newspaper.

         🌍Some questions are being given as sample .You may use some of them while framing interview questions


       



Activities From Questions Bank
Answer


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آپ کے اسکول کے ہیڈماسٹر(صدر مدرس)/ پرنسپل سے انٹرویو کے لئے صرف سوالات ترتیب دیجئے 

ج


تعارف :


 السلام علیکم ،ہم جس عظیم ہستی کا انٹرویو لینے جارہے ہیں ان کا نام ہے۔۔۔۔۔۔۔ آپ  پچھلے 15 سالوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔اس پیشے  میں اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ آپ سماج کے لیے ایک مشعل راہ ہے  جس کی روشنی نے عوام کی راہ نمائی کی ہے۔ آپ کو حکومت مہاراشٹر کی طرف سے۔۔۔۔۔۔ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔جناب آپ کا  خیر مقدم ہے



سوالات:

۱) اپنا مختصر تعارف اور تعلیمی سفر کے بارے میں بتائیے۔
۲) آپ کو اس ادارے کا سربراہ بننے کا موقع کیسے ملا؟
۳) ادارے کی موجودہ تعلیمی صورتحال کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
۴) طلبہ کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے آپ نے کون سے اقدامات کیے ہیں؟
۵) اساتذہ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے آپ کیا حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں؟
۶) نصاب اور ہم نصابی سرگرمیوں میں توازن کیسے قائم رکھا جاتا ہے؟
۷) آج کے دور میں طلبہ کو کن بڑے تعلیمی چیلنجز کا سامنا ہے؟
۸) ڈسپلن اور اخلاقی تربیت کے لیے ادارے میں کیا طریقہ کار اپنایا جاتا ہے؟
۹) والدین اور ادارے کے باہمی تعاون کو آپ کتنا ضروری سمجھتے ہیں؟
۱۰) ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم کے بارے میں آپ کا کیا نقطۂ نظر ہے؟
۱۱) غریب اور مستحق طلبہ کے لیے ادارہ کیا سہولتیں فراہم کرتا ہے؟
۱۲) امتحانی نظام کو شفاف اور بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟
۱۳) کھیل، ادب اور ثقافتی سرگرمیوں کی اہمیت کو آپ کس طرح بیان کریں گے؟
۱۴) ادارے کو درپیش سب سے بڑے مسائل کون سے ہیں؟
۱۵) حکومت یا تعلیمی بورڈ سے آپ کی کیا توقعات ہیں؟
۱۶) مستقبل میں ادارے کو کس سمت میں لے جانا چاہتے ہیں؟
۱۷) طلبہ کے کردار سازی میں اساتذہ کا کردار آپ کیسے دیکھتے ہیں؟
۱۸) آج کے نوجوانوں کو آپ کیا نصیحت کرنا چاہیں گے؟
۱۹) کامیاب طالب علم کی پہچان آپ کے نزدیک کیا ہے؟
۲۰) آخر میں والدین اور طلبہ کے لیے آپ کا خصوصی پیغام کیا ہوگا؟

       آپ نے اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا اس کے لئے ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور آپ کے بہتر مستقبل کے لئے دعا گو ہیں۔شکریہ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نمایاں کامیابی حاصل کرنے پر طالب علم سے انٹرویو :


 👈1) میرٹ لسٹ میں جگہ بنانے 
👈۲) ایوارڈ برائے شجاعت حاصل کرنا
👈۳) پائلٹ بننے پر
👈۴) میڈیکل کالج (MBBS  ایم۔بی۔بی۔ایس) میں داخلہ ملنے پر 
👈 ۵) بیرون ملک پڑھائی کیلئےاسکالرشب ملنے پر 
👈۶) مقابلہ جاتی امتحان میں کامیابی حاصل کرنے پر
👈۷) کسی خاتون کے جج بنتے پر


جواب :


تعارف :

            السلام علیکم ، آج  ہم جس عظیم ہستی کا انٹرویو لینے جارہے ہیں وہ ہستی اب کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے ۔ اس مشہور و معروف شخصیت کا نام عفیراء فاطمہ ہے ۔ آپ نے طالب علمی کے زمانے میں ہی نمایاں کامیابی حاصل کر کے اپنے والدین، اساتید اور شہر کا نام روشن کیا ہے۔ آپ کی کامیابی آنے والی نسلوں کے لئے ایک مشعل راہ ہے جسکی روشنی آنے والی نسلوں کی راہ نمائی کرے گی ۔ آپ کو حکومت مہاراشٹر کی طرف سے بھی نوازا گیا ہے۔ میم ! آپ کا خیر مقدم ہے ۔

انٹرویو سوالات :


۱) اس نمایاں کامیابی کو حاصل کر کے آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ؟ 
(۲) آپ کو کسی نہ کسی سے ترغیب ضرور ملی ہوگی ۔ آپ کا  ذریعہ ترغیب کون ہے ؟
۳) آپ کے والدین آپ کی کامیابی کے بارے میں کیا
سوچتے ہیں ؟
(۴) آپ کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیے۔
۵)  آپ دیگر کون کونسی سر گرمیوں میں ملوث ہیں ؟ 
(۶) آپ کے مستقبل کے عزائم کیا ہیں ؟
۷)کیا آپ نے اس کامیابی کی امید کی تھی ؟
۸) آپ کتنے گھنٹے بڑھائی کرتی تھیں؟
۹) آپ کو پڑھائی کے دوران کون کونسی دشواریوں کا سامنا
کرنا پڑا ؟
۱۰) آپ اپنی کامیابی کا ذمہ دار کسے مانتی ہیں؟
(۱۱) آپ قارئین کو کیا پیغام دوں گی ؟
           آپ نے اپنا قیمتی وقت ہمیں دیا اس کے لیے ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور آپ کے بہتر مستقبل کے لیے دعا گو ہیں۔ شکریہ


Thursday, 11 March 2021

(3.6) Group Discussion (Q.N 4 A)

  •    Subject :English (Q.N.4.A)
  •   6.3 Group Discussion

 (گروپ کی شکل میں  بحث و مباحثہ)

        گروپ ڈسکشن  ایک رسمی ،باقاعدہ بحث مباحثہ ہوتا ہے۔ بحث میں حصہ لینے والے حضرات  کسی ایک عنوان کا تجزیہ کرتے ہیں،اس عنوان کے مطابق اپنی رائے دیتےہیں اور نظریات کا اظہار کرتے ہیں۔ بارہویں کے امتحان میں تین یا چار افراد کے درمیان میں  گفتگو کروانے کا کہا جاتا ہے۔ اس سرگرمی کے لیے چار نمبرات مختص کیے گئے ہیں۔ بحث میں شریک تمام افراد اپنی اپنی آراء پیش کریں گے۔ یہ افراد ایک دوسری کی بات سے اتفاق بھی رکھ سکتے ہیں اور اختلاف بھی رکھ سکتے ہیں۔چند اہم نکات پر توجہ دیں جیسے۔۔۔

1) مواد کے مطابق خیالی مکالمے بنائیے

2)ہرکردار کو دو یا تین بار بولنے لگائیے

3) اگر سرگرمی میں متکم (کردار )کے نام نہیں دیے گئے ہیں تو  کوئی بھی 3/4 خیالی متکلم منتخب کیجیے۔

           پہلا کردار  evaluator ( تجزیہ کار، جج،اینکر)  کہلاتا ہے۔ یہ evaluator (پہلا کردار)  بحث کی ابتداءکرے گا۔ بحث کے لیے عنوان کا  اعلان کرے گا۔یہ evaluator  سرگرمی میں دیا ہوا کردار بھی ہو سکتا ہے۔ بس آپ اتنا ذہن نشین کر لیں کہ پروگرام کی ابتداء کرنے والا کردار ہی evaluator  کہلائے گا۔

              1) اس سرگرمی کو  حل کرنے کے لیے طلباء کو چاہیے کہ  بات چیت کی شروعات  کرنے کے لئے درجہ ذیل جملہ استعمال کرے۔۔یاد رہے کہ یہ جملہ پہلا کردار (evaluator ،جج) استعمال کرے گا۔


👉  First of all, I welcome all. friends ! I would like  to tell the topic for discussion. it is عنوان کا نام لکھیں....۔... what is your opinion on the topic

     

 2)  اس کے بعد کوئی ایک کردار اپنی بات رکھے گا۔ وہ کچھ اس طرح کے جملے استعمال کرسکتا ہے جو مندرجہ ذیل میں دیئے گئے ہیں۔ آپ کو جو جملے پسند آتے ہیں وہ اس میں سے اٹھا لے

1) Thank you for initiating the topic. I think that....

ٹاپک کی ابتداء کرنے کے لئےشکریہ۔میں سوچتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔(یہ کردار اپنی بات رکھے گا)

2) I believe that...

مجھے یقین ہے کہ۔۔۔

(کردار اپنی بات رکھے گا)

3) Could I make a point please ?

برائے مہربانی،کیا میں اپنی بات رکھ سکتا ہوں؟

4) In my opinion.........= 

........میری رائے میں

5)It seems to me that ........

مجھے ایسا لگتا ہے کہ....

 =( کردار اپنی رائے پیش کر)

       👈 اس طرح تمام کردار اپنی بات رکھیں گے۔

 کردار ایک دوسرے کی بات سے متفق بھی ہو سکتے ہیں اور غیر متفق بھی۔  بات چیت کے دوران کسی کردار کو کسی کی بات سے اتفاق/ رضامندی ہو تو وہ مندرجہ ذیل جملوں استعمال سکتا ہے


👈  کسی بات سے اتفاق،  رضامندی ظاہر کرنے والے جملے👉


1) I agree with you= میں آپ کی بات سے متفق ہوں

2) Absolutely ! 

 (بالکل، یقینا"( صحیح فرمایا آپ نے

3) I think too that۔۔۔۔۔

 میں بھی یہی سوچتا ہوں کہ۔.....۔۔۔ 

(جس کردار کی بات سے  متفق ہے اس کا جملہ دوہرایا جائے گا)

4) Yes ,you are right  =

 آپ بالکل صحیح ہے

5) I favour the thought that.......... 

میں اس سوچ کی طرفداری کرتاہوں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔

(جس بات سے متفق ہے اس بات کو دہرایا جائے گا)

6) Me too ! = 

  (میں بھی( آپ کی پوری بات سے اتفاق کرتا ہوں


👈 مخالفت، ناراضگی، بات سےنااتفاقی  ظاہر کرنے والے جملے👉


1) No. I think differently. On the contrary  I feel that.... 

(کسی کردار کے مخالفت میں اپنی رائے رکھے گا) 

نہیں،میں اس سے الگ سوچتا ہوں۔اس کےبرخلاف میں یہ سوچتا ہوں کہ۔۔۔۔۔۔


2) I respect your opinion but I think  I cannot go along with you

میں آپ کی راۓ کا احترام کرتا ہوں مگر 

مجھے لگتا ہے کہ میں آپ کی راۓ کے ساتھ نہیں چل سکتا۔

3)  I am sorry to say that....

=

....مجھے افسوس ہے یہ کہنے میں کہ 

( کسی کردار کی بات کو کاٹنے کے لئے اپنی بات رکھتا ہے)

4) I am afraid I don't agree with...

مجھے ڈر لگ رہا ہے یہ کہتے ہوئے کہ میں اس سے متفق نہیں ہوں

5) I am sorry  but I see it a little differently=

 مجھے افسوس ہے لیکن میں اسے تھوڑا سا مختلف طور پر دیکھتا ہوں

6) I can see your point but... 

کراس کرنے کے لیے کردار اپنی بات رکھے گا

( میں آپ کا مدعا سمجھ گیا ہوں لیکن۔۔۔۔۔۔۔)


7) you may have something there but..۔۔۔

کردار اپنی بات رکھے گا۔کراس کرنے کے لیے


👈 مشورے یا  تجویز پیش کرنے کے لئے👉

1) I think we should....

( کردار اپنا مشورہ پیش کریگا)

 میرے خیال میں ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ۔۔۔۔۔۔۔

2) why don't we......

( کردار اپنا مشورہ پیش کریں)

  ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟

3) let's.....

( کردار اپنا مشورہ پیش کریگا)

  ہم کو ایسا کرنا چاہیے کہ/چلو ہم ایسا کرتے ہے۔۔۔۔۔۔۔

4) Couldn't we ?.....

(کردار اپنا مشورہ پیش کریے گا)

  کیا ہم ایسا نہیں کر سکتے؟۔۔۔۔

5) Don't you think we could..?

(کردار اپنا مشورہ پیش کریں گے)

 کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ ہم کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔


👈 رائے طلب کرنے کیلیے جملے👉

1) what is your opinion on ?

 اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟

2)  what do you feel about ?

 اس کے بارے میں آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟

3) I wonder what do you think about ? 

میں حیرت میں ہوں کہ آپ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

4) I would like to know your stand on .... 

میں اس بارے میں آپ کا موقف جاننا چاہوں گا


👈 مداخلت\ بات کاٹنے کے لئے جملے👉

1) I am sorry to interrupt but...

 مداخلت کرنے پر مجھے افسوس ہے لیکن۔۔۔۔۔۔۔

2) Excuse me. Could I add something, please ?

معاف کیجیے گا۔ 

کیا میں اس میں کچھ بات جوڑ سکتا ہوں پلیز ؟

3)That is true.Sorry,but.... 

یہ سچ ہے لیکن مجھے (یہ کہنے کا) افسوس ہے کہ۔۔۔ِ۔


👈جس کردار کی بات  کانٹی گئی ہےوہ ان جملوں سےخود پرقابو پائے(غصے میں نہ آئے) اور اپنی بات جاری رکھے👉

1) Just a moment please= 

 صرف ایک لمحے کیلئے روکیئے پلیز

2)Could I finish what I am saying ?

 میں جو کہہ رہا ہوں کیا میں اسے مکمل کر سکتا ہوں ؟

3) If you would just let me finish ?

 کیا آپ مجھے (اپنی بات) ختم کرنے کی اجازت دیں گے ؟

4) Could you wait for a minute please?

 کیا آپ ایک منٹ کیلئے روک سکتے ہیں پلیز ؟

   گفتگو  کا اختتام کرنے والے جملے 


👈کوئی ایک کردار اس بحث و مباحثے کا اختتام کریگا👈

1) To summarise/ conclude =

 اس بحث کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ۔۔/ اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ۔۔۔۔

2) we can conclude by saying...  


ہم یہ کہہ کر بات ختم کر سکتے ہیں کہ۔۔۔۔

3) let's run quickly through the main ideas  before concluding the discussion

 بحث کو اختتام پر پہنچانے سے پہلے چلو اہم خیالات پر نظرثانی کرتے ہیں(کردار بحث کا خلاصہ بیان کرتا ہے کہ اس بحث سے کیا نتیجہ نکلا)

Activity (Question) from textbook page no:171

 
(آپ کے کلاس کی ایک معاشی طورپر پسماندہ لڑکی ،جسےبیرون ملک میں ایک مشہور ومعروف کالج میں داخلہ ملا ہے ،کو اپنی آگے کی تعلیم جاری رکھنے کے لیۓ پیسوں کی ضرورت ہے۔اسکی مدد کرنے کےلئے اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لئے اپنے 
دوستوں کے درمیان گروپ ڈسکشن کیجئے۔)

Answer :

Sunday, 7 March 2021

Drafting Virtual Message (Q.N.4 A)

                 XII CLASS (ENGLISH)
ورچوول میسج یعنی کسی دوسرے کا پیغام کسی تیسرے تک پہنچا دینا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھر پر کسی آدمی کا کال آتا ہے وہ آپ کے والد سے بات کرنا چاہتا ہے مگر والد گھر پر نہیں ہے اس لیے آپ اسے کوئی پیغام چھوڑ نے کا بولتی ہے تاکہ وہ بات آپ کے والد جب گھر آئیں گے تو انہیں بتا دیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اسی وقت آپ کو باہر جانا ہوتا ہے لہذا آپ ایک کاغذ پر اس فون کے پیغام کو والد کے نام سے لکھتے ہیں اور باہر چلے جاتی ہے۔ آپ کے والد کی غیر حاضری میں آپ نے چھٹی پر جو کچھ بھی لکھا ہے اس پیغام کو ہی ورچول میسج کہتے ہے۔ بعد میں آپ کے والد صاحب آتے ہے اور اس ورچوول میسج کو پڑھ کر فون پر کی گئیں باتوں کو سمجھ جاتے ہیں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ دوست کے ساتھ میں کہیں بیٹھ کر باتیں کر رہے ہیں آپ وہاں سے گھر پر آتے ہیں جلدی جلدی تاکہ آپ کے والدہ کو وہ تمام باتیں بتائیں زبان سے۔۔۔ مگر والدہ گھر پر نہیں ہے۔ اور آپ کو بھی باہر جانا ہے۔ لہذا آپ ایک چٹھی پر وہ تمام باتیں لکھتے ہیں اور باہر چلے جاتے ہیں والدہ کی غیر موجودگی میں لکھی گئی چٹھی کو ہی ورچوئل میسج کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ وہ میسیج غیر حاضری میں لکھا جائے تب ہی اسے ورچوول میسج کہتے ہے
        بارہویں کے امتحان میں بھی دو لوگوں کے درمیان میں گفتگو کروائی جائیں گی ۔ اس گفتگو کی باتوں کو کسی تیسرے شخص کو پہنچانے کے لیے ورچوول میسج لکھنے کا کہا جائے گا  
👉میسیج  لکھنے کا طریقہ virtual message👈

1)تاریخ
2)وقت
3)مکتوب الیہ کا نام :
 ڈییر لگانے کی ضرورت نہیں ہے بس
 Father یا mother یا brother
 یا کسی کا نام لکھیں۔

4)نفس مضمون Main message: 
آسان زبان استعمال کریں۔ دل سے کوئی نئی معلومات نہ لکھے جتنا سامنے والے نے کہا ہے اس کے بارے میں لکھیں دل سے کچھ نہ لکھے۔ گرامر کا صحیح استعمال کریں۔
Indirect speech/ Narration
 :کا استعمال کریں جیسے

آپ کے لیے فلاں فلاں کا کال آیا تھا۔ انہوں نے آپ کے لئے یہ پیغام دیا  کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضمیر کی تیسری حالت 
( third personal pronoun)
 کے استعمال پر خصوصی توجہ دیں۔
5)باکس میں لکھیں
6) الفاظ کی تعداد 35 سے 50 کے درمیان ہونی چاہیے
7)Message
ایسی ہیڈلاین لکھیں
8)کاتب کا نام (Name of the writer)
(درسی کتاب کے صفحہ نمبر 164)
جواب :
                     MESSAGE

07 March 2021

7.00 AM

 Souraji,
   You had a call from your friend Shekar from IHM,Goa.He said that he had got a placement at the Hotel Mumbai.He also said that he was trying to get all the formalities completed. Furthermore he said that he would give his new cell phone number as soon as he got one.
 
Amrita

Wednesday, 1 July 2020

غزل نمبر - 01 (خواجہ حیدر علی آتش

     غزل نمبر -01  (خواجہ حیدر علی آتش)

 الفاظ معانی :
1)تا چند : کب تک
2)دوش : کندھا،شانہ
3)دہان : دہن کی جمع : منہ
4)کڑاپن :سختی،غصہ،کڑے الفاظ،مصائب و آلام
5)مردان خدا : اللہ کے بندے ،مومن
6)کف:ہتھیلی:کف داؤود:حضرت داؤودکی ہتھیلی
7)آہن : لوہا
8)در فردوس : جنت کا دروازہ مراد محبوب کا دروازہ
9)رضوان : دربان
10)دیوارگلشن : مراد محبوب کا گھر
11)انقلاب : تبدیلیاں : انقلاب دہر : زمانے کی تبدیلیاں
12)چشم تر : آنسوں بھری آنکھیں
13)گوشہ : کونہ
14)دامن : آنچل ، پالو
15)آن : پل بھر ،تھوڑی ہی دیر کے اندر
16)تیغ : تلوار : تیغ قضا : موت کی تلوار
17)جوشن :  تلوار کی چوٹ سے بچنے کے لئے ایک لوہے کا لباس۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


جواب 







3) مندرجہ ذیل شعر کی تشریح کیجئے:
 ادب تا چند ،اے دست ہوس ، قاتل کے دامن کا
    سنبھل سکتا نہیں اب دوش سے بوجھ اپنی گردن کا
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ : ٹیچر حضرات کو چاہیے کہ وہ طلبہ کی مدد کریں نیز اردو لغت کے استعمال کی عادت ڈلوائیں)

Monday, 22 June 2020

1)-میری دعا

     1) - میری دعا     (صفی اورنگ آبادی)


https://youtu.be/egRV1HKgzQo?si=Ay2njGLHf2p0z5B8

(لنک کو کاپی پیسٹ کیجیے )


   1)کونین =دونوں جہاں (دنیا+آخرت)       2)غمگسار =ہمدرد، تیماردار
  3)مئے =شراب     4)خوشگوار =اچھے ذائقہ والی   5)گردشِ لیل ونہار =دن اور رات کا چکر مراد زندگی کے اتار چڑاو، آفت ومصیبت،پریشانی، خرابی قسمت  6) نالہ  =فریاد کرنا، روتے ہوئے کچھ کہنا  7)جگر گداز = دل پگھلانے والا، متاثرکن   8)نفس = سانس  9)داتا = فیاض، سخی  10)سائل = مانگنے والا   8)شیوہ =طریقہ   9)مستعار زندگی = ادھار لی ہوئی زندگی مراد دنیاوی زندگی جو مختصر سی ہوتی ہے 9) بقائے دوام =ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی مراد مرنے کے بعد کی زندگی
10)درکار = مطلوب
--------------------------------------____-----------------___________-----------------_______--------------------





https://youtu.be/UomrTnHlR2Q

 


***********************★★***************************★*****★*★**********★************

اشعار کی استحسانی تشریح /استحسانی وضاحت:



























(*) ہدایات کے مطابق درج ذیل سرگرمیاں مکمّل کیجئے


1) مناجات میں اللہ تعالیٰ سے جن باتوں کی التجا کی گئی ہے، انہیں تفصیل سے لکھیے

جواب : (طلبہ اوپر دی گئیں 11 اشعار کی تشریحات کو یک کے بعد دیگرے مختصراً لکھیے) 

2)دنیا میں محبت کی قدر کی بقا کے لئے شاعر کی خواہش تحریر کیجیے 

جواب : (طلبہ نظم کے شعر نمبر 7 کی تشریح سے استفادہ کریں 

3)مناجات کی روشنی میں خدا کی صفات کے بارے میں لکھیے 

جواب : اللہ وہ ہے جو ہر ایک کی بگڑی سنوارتا ہے. اللہ اسے سے ہی مانگنے کا حکم دیتا ہے وہ حاجت روا ہے. دل کو اطمینان بس خدا ہی دے سکتا ہے. وہ غم کے ساتھ غم گسار بھی دیتا ہے. اچھے برے کی تمیز بھی خدا ہی دے سکتا ہے. خدا سخی ہے. خدا اپنے فضل و کرم سے سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹا تا اس سے جتنی بار مانگو وہ اتنی بار عطا کرتا ہے. اس سے ایک مانگو وہ ہزار دیتا ہے 

4)حفاظت سے متعلق شاعر کی التجا کو بیان کیجیے 

جواب :(طلبہ شعر نمبر 6 کی تشریح سے مدد لیں) 

5)دنیا سے متعلق شاعر کے احساسات اور دعا کو لکھیے

جواب :شعر نمبر 7 کی تشریح دیکھیے

(*) درج ذیل کی استحسانی وضاحت کیجیے

جواب:(اشعار کی استحسانی وضاحت اوپر دی جا چکی ہے)

(*) درج ذیل مصرعے پر ذاتی رائے دیجیے

جواب : طلبہ ذاتی رائے از خود تیار کریں)

(*)ہدایات کے مطابق درج ذیل قواعدی سرگرمیاں مکمّل کیجیے

1) بقائے دوام اور زندگی مستعار جیسی ترکیبوں کے بارے میں لکھیے
جواب :طلبہ اس کا جواب خود تیار کریں
2)مناجات سے صنعت تضاد کا شعر تلاش کر کے لکھیے
جواب :محفوظ رکھ فریب سفید و سیاہ سے           گردش نہ مجھ کو گردش لیل و نہار دے


(*) درج ذیل فقروں کے لیے صرف ایک مصرعہ لکھیے 

(طلبہ یہ سرگرمی از خود حل کیجیے) 

👈صحیح متبادل کا انتخاب کرکے خالی جگہ پر کیجیے

   4) کونین میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذلیل نہ کر۔
الف) سب کے روبرو۔   ب) سب کے سامنے
ج) ہرایک کے سامنے

5) دل کو ہر ایک طرح سے مطمئن بنانے کے لئے شاعر نے غم کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مانگا
الف) خوشگوار۔  ب) غمگسار  ج)شعلہ بار

6) لذت دیدار ہر دم مجھ کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔دےگا
الف)کیف مئےخوشگوار     ب)کیف مئے ناخوشگوار       ج) کف مئے خوشگوار

7) شاعر زندگی کے سبق سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا مطلب سمجھنا چاہتا ہے
الف)بقاۓ دوام   ب)زندگی مستعار  ج)عزت وذلت

8) میں بار بار مانگو جو اے خدا مجھے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دے
   الف)بار بار۔      ب)ایک بار۔      ج) ہر بار




نوٹ : اپنے طلبہ کو لغت اور ڈکشنری کے استعمال کی عادت ڈالیں ۔ لغت اور ڈکشنری کا استعمال تفہیم کے عمل کو آسان بنا دیتا ہے ۔نیز زبان دانی میں کلیدی رول ادا کرتا ہے

لغت کو اس لنک کی کاپی کو پلے اسٹور میں پیسٹ کرکے  ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

http://play.google.com/store/details?id=com.vovoapps.lughatoffline


Wednesday, 10 June 2020

4- نیا شاعر اور زندگی کے مسائل

  4)- نیا شاعر اور زندگی کے مسائل

۷

"شعلے کی شناخت" سے مراد ہے — انسان کے اندر کی وہ روشنی، جذبہ یا انفرادیت جو اسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔

اور "سرگرداں" یعنی تلاش میں، جستجو میں، بےقرار۔


👈"ربط ملت کے لیے فرد کا فنا ہونا ناگزیر نہیں ہے "

(وضاحت از طرف مرحوم قاضی حسن الدین، شاہ بابو جونیئر کالج پاتور، ضلع آکولہ) 

انفرادیت اور اجتماعیت یہ دونوں الگ الگ نظریات ہیں ۔فرد اور ملت لازم و ملزوم ہیں ۔اقبال نے کیا خوب کہا ہے 
فردقایم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں 
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں 
اجتماعیت کا نظریہ انسانوں کو نظم و ضبط کے ساتھ اجتماعی زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ملت سے ربط کے بغیر فرد کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی  ۔موج کی ہستی دریا میں ہے بیرون دریا اس کا کوئی وجود نہیں ۔
دوسرا نظریہ انفرادیت کا ہے۔فرد  کی پسند نا پسند اور انفرادی فیصلوں پر اجتماعیت غالب نہ آئے ۔مغرب اس نظریہ کا حامی ہے ۔وہ کسی بھی فرد کو مذہب، خوردونوش، اور ازدواجی رشتوں کے اجتماعیت کا پابند نہیں بناتا ۔فرد جو مذہب چاہیے اختیار کریں جیسا چاہیے کھائے پئے اور جو لباس چاہیے پہنے۔اس معاملے میں وہ اعتدال سے اتنا بھٹکے کہ ہم جنس پرستی کو بھی انفرادیت کے نام پر حلال قرار دے دیا ۔
مصنف کہتا ہے کہ ربط ملت کے لیے فرد  کا فنا ہونا نا گزیر نہیں ہے یعنی ملت و قوم کی فلاح و بقا کے لئے آدمی کی انفرادیت کو قربان نہ کیا جاے ۔یہ بات شاعری کے پس منظر میں کہی گئی ہے ۔کسی شاعر کو مروجہ اسالیب، نظریات، استعارات و تشبیہات اور ردیف و قافیوں کا پابند کرنا اصل میں اس کی انفرادیت کو ختم کرنا ہے ۔شاعر کو یہ آزادی چاہیے کہ وہ جس اسلوب میں چاہے اپنے خیالات و نظریات کی ترسیل کرسکے ۔
مندرجہ بالا محاکمے کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ کسی بھی معاملے میں افراط و تفریط ادمی کو راہ راست سے بھٹکا دیتی ہے ۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اعتدال کی راہ اختیار کریں ۔ملت کی بقا کے لیے اتنا غلو نہ کرے کہ فرد کی privacy ہی داو پر لگ جائے اور فرد کو اتنی آزادی بھی نہ دی جائے کہ وہ انفرادیت کے چکر میں اجتماعیت کو تباہ و برباد کردے۔

(*) نورتن تاریخ کے جھروکے میں :

مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر نے 14سال کی عمر میں اپنے والد بادشاہ ہمایوں کے انتقال کے بعد حکومت سنبھالی جس میں سب سے اہم کردار اُنکے اتالیق بیرم خان کا تھا۔اُنھوں نے اپنی سرپرستی میں انتہائی وفاداری کے ساتھ اُنھیں ہندوستان کے تخت پر بٹھایا اور پھر ہندوستان کے شورش زدہ علاقوں میں سازشوں کا سد ِباب کیا۔اسطرح بادشاہ اکبر نے 1556ء تا1605ء تک تقریباً پچاس سال ہندستان پر حکومت بھی کی اور اس دوران اپنی سلطنت کو وسعت دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اس دوران شہنشاہ اکبر ِاعظم کے اہم درباریوں میں وہ "نورتن”بھی شامل تھے جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ باکمال تھا اور اُن سب کی زندگی کے چند اہم پہلو ہی اُنکی وہ پہچان بنے جسکی وجہ سے آج بھی اُنکا ذکر مختلف شعبوں میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
1- راجا بیربل:
اکبر اعظم کے نورتنوں میں سے ایک برہمن ہندو ۔نام مہیش داس ،ذات بھاٹ ۔ابتدا میں نہایت غریب اور پریشان حال تھے۔اکبر کی تخت نشینی پر دربار میں حاضر ہوئے اور اپنی لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی کی وجہ سے بادشاہ کا قُرب حاصل کر لیا۔اکبر اُنھیں صاحب ِدانشور کہا کرتے تھے ۔ سنسکرت کے عالم تھے۔ بیربل مہم یوسف زئی (سوات و باجوڑ)کی لڑائی میں مارے گئے اور لاش نہ مل سکی ۔اس پر بادشاہ اکبر کو اتنا صدمہ ہوا کہ اُنھوں نے دو دن کھانا نہیں کھا یا ۔
2- ابوالفیض فیضی :
دربار اکبری کے رتن،شیخ مبارک کے بیٹے ، ابوالفضل کے بڑے بھائی ،بلند خیال شاعر اور شگفتہ مزاج عالم تھے۔ قرآن مجید کی تفسیر سواطع الالہام تحریر کی۔ جس میں نقطے والا کوئی حرف نہیں لکھا۔بارھویں صدی کے ثمر قند کے نظامی گنجوی کی مشہور ِزمانہ خمسہ ء نظامی (پانچ مثنویوں) کے جواب میں مثنویاں لکھ ڈالیں۔ہندوئوں کی اہم کتاب مہا بھارت کا ترجمہ فارسی میں کیا۔اپنے علم و حکمت کی وجہ سے شہزادوںکے اتالیق بھی رہے۔ دمہ کی بیماری میں 52سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
3- ابو الفضل:
1572ء میں اپنے بڑے بھائی فیضی کے ساتھ دربار ِاکبری میں باریاب ہوئے اور 1600ء میں منصب ِچار ہزاری پر فائز ہوئے۔اپنے وقت کے علامہ اور بلند پایہ مصنف تھے۔علامی تخلص تھااور آزاد خیال فلسفی ہونے کی وجہ سے علماء اُنھیں دہریہ سمجھتے تھے۔اسی لئے اکبر کے "دین الٰہی” کے اجراء کا سبب اُنہی کو گردانا جاتا ہے۔”اکبر نامہ” اور” آئین اکبری” اہم تصانیف اور خطوط کا مجموعہـ” مکتوبِ علامی "فارسی ادب کا شکار سمجھا جاتا ہے۔شہزادہ سلیم (جہانگیر)کا خیال تھا کہ ابو الفضل اُسکے بیٹے خسرو کو ولی عہد بنانا چاہتے ہیں لہذااُنکے اشارے پر راجہ نر سنگھ دیو نے 53سالہ ابو الفضل کو اُس وقت قتل کر دیا جب وہ دکن سے لوٹ رہے تھے۔اعلیٰ ترین خوبی یہ تھی کہ کمال کے واقعہ نویس تھے۔
4- تان سین:
دربارِاکبری کے ایک ایسے اہم نورتن تھے جنکا نام آج بھی ہندوستان کے موسیقار ِاعظم کی حیثیت میں ہر ایک کی زبان پر ہے۔برصغیر ِکی کلاسکی موسیقی اُنکے راگوں پر ہی زندہ ہے۔ لہذا اُنکے بعد آنے والے اُستادوں نے راگ ودیا میں تبدیلی نہیں کی۔”دھرپت راگ” کو موجودہ فنی شکل تان سین نے ہی دی تھی۔درباری کانٹرا ،میاں کی ملہار اور میاں کا سا رنگ جیسے راگ بھی اُنہی کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ وفات پر شنہنشاہ اکبر نے بھی شرکت کی۔
5- عبدالرحیم:
آپ بیرم خان کے فرزند تھے اور لاہور میں پیدا ہوئے۔والد کے قتل کے بعد جب ابھی اُنکی عمر 5سال تھی تو بادشاہ اکبر نے اُنھیں اپنے پاس بُلا لیا اور شہزادوں کے ساتھ پرورش کی۔ 20سال کی عمر میں شہزادہ سلیم (جہانگیر)کا اتالیق بنایا گیا۔ نہایت حسین تھا۔ مختلف معرکوں میں سپاہیانہ جوہر دکھائے اور کئی بغاوتوں کو ناکام کیا۔بہادر سپاہی ،عالم فاضل اور عربی،فارسی،ترکی ،سنسکرت کے ماہر تھے۔ ہندی میں شعر کہتے تھے۔ان سب خوبیوں کی وجہ سے اہم نورتن رہے۔ اُنکی وفات بادشاہ جہانگیر کے دور میں ہوئی۔
6- راجہ مان سنگھ:
برہمن ہندو تھے۔اُنکی وفاداری اور ملنساری اکبر بادشاہ کے دل پر نقش ہو گئی۔اُنکی رفاقت نے بادشاہ کو اپنائیت اور محبت سکھائی۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ اُنکی وجہ سے اکبر بادشاہ کو ہندوستان میں پذیرائی حاصل ہوئی اور تیموری خاندان کی بنیاد بھی مضبوط ہوئی۔بہادری اور جوانمردی میں اپنی مثال آپ تھے لہذا سپہ سالار بھی مقرر ہو ئے۔اُنکی بہن کی شادی جہانگیر سے ہوئی اور پھر جہانگیر کے بیٹے خسرو کے اتالیق بھی مقرر ہوئے۔
7- مُلا دوپیازہ:
اصل نام ابوالحسن اور پیدائش طائف نزد مکہ مکرمہ (عرب) کی تھی۔والد سوتیلی ماں سے اختلاف کی بنا پر گھر چھوڑ گئے تو اُنکی تلاش میں قافلہ در قافلہ سفر کرتے ہوئے ایران پہنچ گئے۔وہاں سے مغل فوج میں تعلق کی بناپرہندوستان آگئے اور ایک مسجد میں قیام کر لیا۔اپنی خوش خلقی اور لطیفہ گوئی سے شہر میں شہرت ہوئی تو ایک دعوت پر مدعو ہونے پر کھانا بہت پسند آیا ۔کھانے کا نام پوچھا تو جواب ملا کہ” دوپیازہ پلائو”۔اُنھوں نے کہا کہ آئندہ کسی بھی دعوت میں شرکت پر اس کھانے کی تمنا ہو گی۔بس وہاں سے ہی اس نام سے مشہور ہوگئے ۔60برس کی عمر میں بیماری کی وجہ سے انتقال ہوا۔
8- راجہ ٹو ڈرمل :
ذات میں کھتری ہندواور دربار ِاکبری میں مقام 22صوبوں کا دیوانِ کُل اور وزیر باتدبیر تھے۔بیوہ ماں کی دُعائوں سے اعلیٰ رُتبہ پایا۔سپاہ گیری اور سرداری کے جوہر نے بھی اُنکی اہمیت اُجاگرکی ۔پابندی ِآئین احکام میں کسی کو رعایت نہیں دیتے تھے لہذا اُن پر سخت مزاجی کا الزام تھا۔انتہائی قابل،معاملہ فہم اور دانشمند کہلائے۔بڑھاپے میں بیماری کی وجہ سے وفات پائی۔
9- مرزا عزیز کوکلتاش :
آپ کی والدہ نے اکبر کو دودھ پلایا تھا لہذا وہ اکبر بادشاہ کے رضاعی بھائی کہلائے اور اس وجہ سے اُنکا حترام بھی بہت تھا۔خان اعظم کا خطاب بھی حاصل ہوا۔ بادشاہ ہر وقت اُنھیں اپنے ساتھ رکھتے تھے اور ہاتھی پر سواری کے وقت اُنھیں خواصی پربٹھاتے تھے۔ ایک طرف سخاوت و شجاعت کی وجہ سے درباری پسند کرتے تھے تو دوسری طرف غصے و سخت مزاج کی وجہ سے چند اچھے انسان اُن سے نالاں بھی تھے۔ طبیعت میں زمانہ سازی بالکل نہ تھی۔ سپاہی کمال کے تھے ۔علمی وعملی صلاحیتوں میں عالمانہ مقام تھا۔فارسی کے ماہر تھے۔طبعی موت پائی۔

ہدایت کے مطابق سرگرمیاں حل کیجیے 

اقتباس نمبر 1 صفحہ نمبر 22: ہمارے عہد کی معاشرت کا سب سے بڑا المیہ.................. میری ذات غیر مشروط ہیں 
 سرگرمیاں از طرف صبیحہ مومن میڈم، ممبئی 


                مشقی سرگرمیاں (صفحہ نمبر 25)




























رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان

 رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان فیچر نویس: (لئیق احمد محمدصادق، مانورہ،ضلع باسم) :                 رمضان المبارک کا م...