XI CLASS URDU

Followers

About Me

My photo
Manora ,District :Washim 444404, Maharashtra , India

Monday, 26 January 2026

4.3 Around The World In Eighty Days

(4.3)Around the World in Eighty Days

Around the World in Eighty Days is an adventure novel written by Jules Gabriel Verne and published in 1873.

The major characters of the novel : Phileas Fogg, Passepartout, Aouda, and Detective Fix.

Phileas Fogg travels through many places during his journey including Brindisi, Suez, Bombay, Calcutta, Hong Kong, Yokohama, San Francisco, New York, and Liverpool.

Phileas Fogg's  Club Friends (5 antagonists) :

 Thomas Falanagan (the brewer) , Samuel Fallentin (a banker), John Sullivan(also a banker),Andrew Stuart( an engineer), Gauthier Ralph ( the director of bank of England) 

Reason  Of Travelling :


 In the Reform Club in England, Phileas Fogg and his friends Falanagan, Fallentin,  and Sullivan were discussing a recent bank robbery. During the discussion, a bet was made between Phileas Fogg and his friends. Fogg confidently said that he could travel around the world in eighty days.

The bet was for 20,000 pounds, which was a very large amount at that time. Fogg accepted the challenge immediately and started his journey at 8:45 p.m. on Wednesday, 2 October. According to the bet, he had to return to London after 80 days, that is, on Saturday, 21 December at 8:45 p.m.

🌙 اردو ترجمہ

اراؤنڈ دی ورلڈ اِن ایٹی ڈیز

اراؤنڈ دی ورلڈ اِن ایٹی ڈیز ایک مہماتی ناول ہے جسے جولس گیبریل ورن نے لکھا اور یہ 1873ء میں شائع ہوا۔

اس ناول کے اہم کردار فلیاس فاگ، پاسپارتو، آؤدا اور ڈیٹیکٹو فکس ہیں۔

سفر کے دوران آنے والے مقامات:

فلیاس فاگ اپنے سفر کے دوران کئی مقامات سے گزرتا ہے جن میں برنڈیسی، سویز، بمبئی، کلکتہ، ہانگ کانگ، یوکوہاما، سان فرانسسکو، نیو یارک اور لیورپول (جہاں وہ گرفتار ہوجاتا ہے)شامل ہیں۔

سفر کرنے کی وجہ:

انگلینڈ کے ریفارم کلب میں فلیاس فاگ اپنے دوست فلاناگن، فاؤنٹین اور سلیون کے ساتھ ایک حالیہ بینک ڈکیتی پر گفتگو کر رہے تھے۔ اسی گفتگو کے دوران فلیاس فاگ اور اس کے دوستوں کے درمیان ایک شرط لگ گئی۔ فاگ نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا کہ وہ اسی دنوں میں دنیا کا سفر مکمل کر سکتا ہے۔
یہ شرط 20,000 پاؤنڈ کی تھی جو اس زمانے میں بہت بڑی    رقم تھی۔ فلیاس فاگ نے فوراً چیلنج قبول کر لیا اور بدھ، 2 اکتوبر کو رات 8:45 بجے اپنا سفر شروع کیا۔ شرط کے مطابق اسے 80 دن بعد یعنی ہفتہ، 21 دسمبر کو رات 8:45 بجے لندن 
واپس پہنچنا تھا۔

Character Sketch



Phileas Fogg:


Phileas Fogg is the protagonist of the novel. He is calm, confident, and punctual. He accepts the challenge to travel around the world in eighty days. During his journey, he faces many difficulties but remains brave and determined. In the end, he completes the journey on time.

Aouda:


Aouda is an Indian girl who is saved by Phileas Fogg. After being rescued, she travels with Fogg around the world. During the journey, she falls in love with him, and in the end, she marries Phileas Fogg.

Passepartout:


Passepartout is Phileas Fogg’s loyal and brave servant. He helps Fogg throughout the journey and remains faithful to him.

Detective Fix:


Detective Fix is a police officer who suspects Phileas Fogg of a bank robbery. He follows Fogg around the world and causes many delays. Later, he realizes his mistake.

🌙 اردو ترجمہ


کرداروں کا خاکہ



فلیاس فاگ:


فلیاس فاگ اس ناول کا مرکزی کردار ہے۔ وہ پرسکون، پراعتماد اور وقت کا پابند انسان ہے۔ وہ اسی دنوں میں دنیا کا سفر کرنے کا چیلنج قبول کرتا ہے۔ سفر کے دوران اسے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن وہ بہادر اور ثابت قدم رہتا ہے۔ آخرکار وہ اپنا سفر وقت پر مکمل کر لیتا ہے۔

آؤدا:


آؤدا ایک ہندوستانی لڑکی ہے جسے فلیاس فاگ بچاتا ہے۔ بچائے جانے کے بعد وہ فاگ کے ساتھ دنیا کا سفر کرتی ہے۔ سفر کے دوران وہ فاگ سے محبت کرنے لگتی ہے اور آخر میں اس سے شادی کر لیتی ہے۔

پاسپارٹو:


پاسپارٹو فلیاس فاگ کا وفادار اور بہادر خادم ہے۔ وہ پورے سفر میں فاگ کی مدد کرتا ہے اور اس کے ساتھ وفادار رہتا ہے۔

ڈیٹیکٹو فکس:

ڈیٹیکٹو فکس ایک پولیس افسر ہے جو فلیاس فاگ کو بینک ڈکیتی کا مجرم سمجھ لیتا ہے۔ وہ فاگ کا دنیا بھر میں پیچھا کرتا ہے اور کئی رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔ لیورپل کے مقام پر جب فلیاس فکس اپنی منزل پر پہنچنے والا ہیں ہوتا ہے کہ فکس اسے گرفتار کرلیتا ہے۔ لیکن بعد میں اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے۔



👉           The plot moves forward with Phileas Fogg struggling through various obstacles to reach London in time, that is, 21 December at 8:45 p.m. He passes through many places such as Brindisi, Suez, Bombay, Calcutta, Hong Kong, Yokohama, San Francisco, New York, and Liverpool.
                 However, the twist in the story comes when he reaches Liverpool. Liverpool is only six hours away from London, his destination. As soon as Fogg, Aouda, and Passepartout arrive in Liverpool, Detective Fix arrests Fogg on the charge of bank robbery. Fogg is put in prison at the Custom House.
                This arrest was fatal because he was about to achieve his aim. Having arrived in Liverpool at 11:40 a.m. on 21 December, he had until 8:45 p.m. that evening to reach the Reform Club. This means he still had 9 hours and 15 minutes left to reach the Reform Club in London to win the wager, while the journey from Liverpool to London took only 6 hours. Therefore, he had to be released from arrest within 3 hours and 15 minutes.


🌙 اردو ترجمہ


               کہانی آگے بڑھتی ہے جہاں فلیاس فاگ مختلف رکاوٹوں کا سامنا  کرتا ہوا مقررہ وقت پر لندن پہنچنے کی کوشش کرتا ہے یعنی 21 دسمبر رات 8:45 بجے۔ وہ اپنے سفر کے دوران کئی مقامات سے گزرتا ہے جن میں برنڈیسی، سویز، بمبئی، کلکتہ، ہانگ کانگ، یوکوہاما، سان فرانسسکو، نیویارک اور لیورپول شامل ہیں۔
لیکن کہانی میں اصل موڑ اس وقت آتا ہے جب وہ لیورپول پہنچتا ہے۔ لیورپول اس کی منزل لندن سے صرف چھ گھنٹے کے فاصلے پر تھا۔ جیسے ہی فاگ، آؤدا اور پاسپارٹو لیورپول پہنچتے ہیں، ڈیٹیکٹو فکس فاگ کو بینک ڈکیتی کے الزام میں گرفتار کر لیتا ہے۔ فاگ کو کسٹم ہاؤس کی جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔
یہ گرفتاری اس کے لیے نہایت مہلک ثابت ہوئی کیونکہ وہ اپنی منزل کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا۔ چونکہ وہ 21 دسمبر کو 11:40 بجے لیورپول پہنچا تھا، اس کے پاس اسی شام 8:45 بجے تک ریفارم کلب پہنچنے کا وقت تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسے شرط جیتنے کے لیے لندن کے ریفارم کلب پہنچنے کے لیے ابھی بھی 9 گھنٹے اور 15 منٹ باقی تھے، جبکہ لیورپول سے لندن کا سفر صرف 6 گھنٹے کا تھا۔ لہٰذا اسے لازماً 3 گھنٹے اور 15 منٹ کے اندر گرفتار ی سے رہا ہونا ضروری تھا۔

Reaction After Arrest:

Reaction Of Aouda:

Aouda was thunderstruck when she saw Phileas Fogg being arrested. She could do nothing to save her protector and wept bitterly.

Reaction of Passepartout

Passepartout was very angry with Detective Fix. He believed that Fix was the cause of all their misfortune because Phileas Fogg had been wrongly arrested. He even fell upon Fix but held back  by some policemen.Passepartout thought that he himself is cause of this new misfortune because if Fogg had been warned,  he would no doubt have given Fix proof of his innocence  and satisfied him of his mistake;atleast Fix would not have continued his journey at the expense and on the heels of his master,only to arrest him the moment he set foot on English soil.Passepartout thought that if Fix had been given proof of Fogg’s innocence earlier, he would not have followed them everywhere and caused so much trouble.

When they reached English soil, Passepartout could not control his emotions. He wept bitterly and felt as if his brain would burst with grief and anger.

Reaction of Phileas Fogg

Phileas Fogg sat quietly on a wooden bench. He was calm and showed no anger on his face. Although the arrest was a great shock, he did not show his feelings outwardly. He carefully placed his watch on the table and kept looking at its moving hands. His expression was firm and serious.

Fix Realizes His Mistake

Later, Detective Fix discovered that the real bank robber had been caught and that Phileas Fogg was innocent. Realizing his mistake, Fix released Fogg immediately.

They reach Railway Station:


         They reached the station at 2:40, and there were still 6 hours and 5 minutes left to reach the Reform Club in London. After making inquiries, they came to know that the train for London had left 35 minutes earlier and that no other railway arrangement was possible

              The special train was not to leave until 3 o’clock. Phileas Fogg urged the engineer to speed up by offering him a large reward. At last, they started for London. It was necessary to cover the distance in five and a half hours, but they reached at 8:50 p.m. Fogg thought that he had lost the bet by 5 minutes 


🌙 اردو ترجمہ

گرفتاری کے بعد ردِعمل 

آؤدا کا ردِعمل:


جب آؤدا نے فلیاس فاگ کو گرفتار ہوتے دیکھا تو وہ حیران و پریشان رہ گئی۔ وہ اپنے محافظ کو بچانے کے لیے کچھ نہ کر سکی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

پاسپارٹو کا ردِعمل


پاسپارٹو جاسوس فکس پر بہت غصے میں تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ان کی تمام بدقسمتیوں کا سبب فکس ہی ہے، کیونکہ فلیاس فاگ کو غلط طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ وہ غصے میں آ کر فکس پر جھپٹ بھی پڑا، مگر چند پولیس والوں نے اسے روک لیا۔

پاسپارٹو نے یہ بھی سوچا کہ اس نئی مصیبت کا اصل سبب وہ خود ہے، کیونکہ اگر اس نے فاگ کو پہلے ہی خبردار کر دیا ہوتا تو وہ یقیناً فکس کو اپنی بے گناہی کا ثبوت دے دیتا اور اسے اس کی غلطی کا احساس کرا دیتا۔ کم از کم فکس اپنے خرچ پر اور اس کے آقا کے پیچھے پیچھے سفر جاری نہ رکھتا اور نہ ہی جیسے ہی وہ انگلستان کی سرزمین پر قدم رکھتا، اسے گرفتار کرنے کی کوشش کرتا۔

پاسپارٹو کو یہ بھی خیال آیا کہ اگر فکس کو پہلے ہی فاگ کی بے گناہی کا ثبوت دے دیا جاتا تو وہ ہر جگہ ان کا پیچھا نہ کرتا اور نہ ہی اتنی زیادہ پریشانی اور مصیبت پیدا کرتا۔

جب وہ انگلستان کی سرزمین پر پہنچے تو پاسپارٹو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور اسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے غم اور غصے سے اس کا دماغ پھٹ جائے گا۔


فلیاس فاگ کا ردِعمل


فلیاس فاگ خاموشی سے ایک لکڑی کی بینچ پر بیٹھ گیا۔ وہ پُرسکون تھا اور اس کے چہرے پر غصے کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔ اگرچہ گرفتاری اس کے لیے بہت بڑا صدمہ تھی، لیکن اس نے اپنے جذبات ظاہر نہیں کیے۔ اس نے احتیاط سے اپنی گھڑی میز پر رکھی اور اس کی سوئیوں کو دیکھتا رہا۔ اس کا چہرہ پختہ عزم اور سنجیدگی کا مظہر تھا۔


فکس کو اپنی غلطی کا احساس

بعد میں ڈیٹیکٹو فکس کو معلوم ہوا کہ اصل بینک لٹیرے کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور فلیاس فاگ بے گناہ ہے۔ اپنی غلطی کا احساس ہونے پر فکس نے فوراً فاگ کو رہا کر دیا۔

وہ ریلوے اسٹیشن پہنچتے ہیں :

     وہ 2:40 بجے اسٹیشن پہنچے اور ریفارم کلب (لندن) پہنچنے کے لیے اب بھی 6 گھنٹے اور 5 منٹ باقی تھے۔ پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا کہ لندن جانے والی ٹرین 35 منٹ پہلے روانہ ہو چکی تھی اور کوئی دوسرا ریلوے انتظام ممکن نہ تھا۔

         خصوصی ریل گاڑی کو تین بجے سے پہلے روانہ نہیں ہونا تھا۔ فلیاس فاگ نے انجن ڈرائیور کو زیادہ رفتار سے چلانے کے لیے بڑا انعام دینے کا وعدہ کیا۔ آخرکار وہ لندن کی طرف روانہ ہوئے۔ ضروری تھا کہ یہ فاصلہ ساڑھے پانچ گھنٹوں میں طے کیا جائے، لیکن وہ رات 8:50 بجے پہنچے۔ فلیاس فاگ کو یقین ہو گیا کہ وہ 5 منٹ کی تاخیر کی وجہ سے شرط ہار چکا ہے۔

Reaction after Losing the bet :



(A) Reaction of Phileas Fogg:



Phileas Fogg bore his misfortune with his usual calmness. He quietly decided to set apart a room in his house in Savile Row for Aouda.


(B) Reaction of Aouda:


Aouda was overwhelmed with grief at her protector’s misfortune. From the words spoken by Mr. Fogg, she understood that he was thinking of some serious plan. 

(C) Reaction of Passepartout:


        Passepartout also knew that Englishmen ruled by a fixed idea sometimes turn to desperate actions. Therefore, he kept a close watch on his master. He carefully observed his movements and listened at the door. He feared that something terrible might happen at any moment. He blamed himself for his mistake and felt deeply unhappy.
        He was continuously ascending and descended the stairs  He listened his master's door  and looked through keyhole as if he had a perfect right to do so  and as if he feared that something terrible might happen at any moment. Sometime he thought of Fix but no longer in anger. He cursed himself for his miserable folly . Finding himself too wretched to remain alone, he knocked at Aouda's door went into her room ,seated himself without speaking in a corner and a looked ruefully at the young woman while Aouda was still pensive.
                 Later, Passepartout saw Mr. Fogg and Aouda sitting together quietly, which made him feel relieved.
                   The next morning, Passepartout went out to fix the date for the wedding. There he made a shocking discovery. He realized that it was 21st December, not 22nd December.
By travelling eastward around the world, they had unknowingly gained one day. Passepartout immediately rushed back and informed Phileas Fogg.
Fogg hurried to the Reform Club and reached there exactly at 8:45 p.m. Thus, he won the bet of 20,000 pounds.

Tuesday, 25 November 2025

علامہ اقبال کا پیغام

 

رِندانِ فرانسیس کا میخانہ سلامت
پُر ہے مئے گُلرنگ سے ہر شیشہ حلَب کا
ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عَرب کا
مقصد ہے مُلوکیّتِ انگلِیس کا کچھ اور
قصّہ نہیں نارنج کا یا شہد و رُطَب کا

الفاظ معانی :


(رند = لا مذہبی،  آزاد زندگی والے شرابی ، حلب = ملک شام کا ایک شہر، ہسپانیہ = اسپین، ملوکیت = حکومت، رطب : کھجور، نارنج = ایک پھل


نثری مطلب 


رِندانِ فرانس کا میخانہ سلامت رہے،

فرانس اس زمانہ میں ہر وقت خوشنما گلابی شراب سے بھرا رہتا ہے۔

(یعنی یورپ کی عیش پرست قومیں اپنی رنگ رلیوں اور خوشگزار زندگی میں مگن ہیں۔)


اور اگر یہودیوں کا فلسطین کی سرزمین پر حق مانا جاتا ہے،

تو پھر اسی اصول کے مطابق عربوں کا بھی اسپین (ہسپانیہ) پر حق ہونا چاہیے۔

(یعنی یورپ دوہرے معیار رکھتا ہے—یہودیوں کے تاریخی دعوے کو تو قبول کرتا ہے مگر عربوں کے عظیم ماضی اور اسپین پر صدیوں کی حکومت کو نظرانداز کرتا ہے۔)


انگلستان کی بادشاہت کے اصل مقاصد کچھ اور ہیں،

یہ معاملہ نارنج، شہد یا کھجور جیسے پھلوں کی ۵جارت نہیں ہے۔بلکہ ان کا مقصد سیاست میں حصہ لے کے طاقت حاصل کرنا ہے

(یعنی انگلستان کی سیاسی چالوں، قبضہ گیری اور سامراج کے پیچھے اصل مقصد صرف طاقت، سیاست اور مفادات ہیں—یہ کسی معمولی تجارتی اعتراض یا علاقائی بحث کا مسئلہ نہیں۔)


ادبی نثری مفہوم


فرانس کے آزاد خیال اور عیش پرست لوگوں کی سرزمین آج بھی اپنی رنگین محفلوں اور شراب خانوں سمیت پوری آب و تاب سے قائم ہے، جہاں ہر جام خوش رنگ مَے سے لبریز ہے۔

دوسری طرف دنیا عدالت اور حق کے نام پر عجیب پیمانے بنا رہی ہے—اگر محض تاریخی نسبت کی بنیاد پر یہودیوں کو فلسطین پر حق دار سمجھا جاتا ہے، تو پھر اسی اصول کے تحت عرب اقوام کو بھی اسپین پر دعویٰ کرنے کا حق ہونا چاہیے، کہ وہاں وہ صدیوں تک اپنی تہذیب و حکمرانی کے چراغ روشن کرتے رہے۔

رہی بات انگلستان کی، تو اس کی سلطنت کے پسِ پردہ اصل مقاصد کچھ اور ہیں—یہ بحث نارنج، شہد یا رُطب جیسے معمولی چیزوں کی تجارت نہیں، بلکہ سیاسی مفادات، اقتدار اور سامراجی عزائم کی ہے، جنہیں چھپانے کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشے جاتے ہیں۔


تشریح:

1. “رندانِ فرانس کا میخانہ سلامت” — یورپ کی تہذیبی مستی


اقبال یہاں فرانس اور یورپ کی عیش پسندی، ان کے تہذیبی غرور اور مادہ پرستی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

فرانس اس زمانے میں


فکری آزادی،


لادینیت،


شراب و عشرت،


اور انفرادی بے باکی

کی علامت سمجھا جاتا تھا۔



اقبال کہتے ہیں:

یورپ اپنی مستی، رنگینی اور آزادی کے نشے میں ہے، دنیا پر حکومت بھی کر رہا ہے اور اپنی تہذیب کو بہترین بھی سمجھتا ہے۔

---
2. “خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق…” — دوہرے معیار کا پردہ فاش


انیسویں اور بیسویں صدی کے آغاز میں

یورپ نے فلسطین میں یہودی آبادکاری کی کھلی حمایت کی۔

اقبال کے زمانے میں یہودیوں کا فلسطین پر تاریخی حق کا دعویٰ زوروں پر تھا۔


اقبال کہتے ہیں:

اگر تم ہزاروں سال پہلے کے ایک تاریخی تعلق کو بنیاد بنا کر فلسطین یہودیوں کو دے سکتے ہو تو پھر اسلامی اسپین (اندلس) بھی عربوں کو واپس دینے کے قابل ہے، کیونکہ وہ وہاں آٹھ سو سال حکومت کر چکے!


یہ جملہ یورپ کے دوہرے اخلاقی معیار کو نمایاں کرتا ہے۔



---


3. “مقصد ہے ملوکیتِ انگلِیس کا کچھ اور…” — برطانوی سامراج کی اصل چال


اس دور میں انگلستان دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھا۔


عرب دنیا تقسیم کی جا رہی تھی،


نئی ریاستیں بن رہی تھیں،


تیل کی سیاست شروع ہو چکی تھی،


فلسطین کا مسئلہ شدت پکڑ رہا تھا۔



اقبال کہتے ہیں:

انگلستان کے اصل مقاصد سیاسی اور سامراجی ہیں۔

یہ معاملہ نارنج، شہد یا کھجور جیسے چھوٹے مسائل کا نہیں—

بلکہ مشرق وسطیٰ پر قبضہ، تیل کے ذخائر، تجارت اور عالمی حکمرانی کا ہے۔


ان چھوٹے پھلوں کا ذکر طنزیہ ہے، یعنی:

"یہ تو محض بہانے ہیں، اصل میں مقصد کچھ اور ہے!"



---


4. مکمل پیغام


ان اشعار میں اقبال بتاتے ہیں کہ:


یورپ خود کو مہذب کہتا ہے مگر دنیا پر حکمرانی کے لئے اخلاقی اصولوں کو بدل دیتا ہے۔


مشرق کی قوموں کو تقسیم، کمزور اور منتشر رکھنے کے لئے طرح طرح کی دلیلیں گھڑتا ہے۔


فلسطین، اسپین اور عرب دنیا سب اس دوہرے معیار کا شکار ہیں۔



اقبال قاری کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ طاقتور اقوام کے فیصلے انصاف پر نہیں بلکہ مفاد پر مبنی ہوتے ہیں۔





Tuesday, 29 July 2025

مسلمانوں کی موجودہ ابتر حالت اور جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں

مسلمانوں کی موجودہ ابتر حالت اور جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں


دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان علم، اتحاد، اور کردار کے زیور سے آراستہ رہے، وہ دنیا کی عظیم طاقت بنے رہے۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے قرآن و سنت کی تعلیمات سے روگردانی کی، عصری علم کو نظر انداز کیا، زوال اور پستی ان کا مقدر بن گئی۔ آج امت مسلمہ مختلف خطوں میں ظلم، استبداد، اور پسماندگی کا شکار ہے۔کتنی افسوس کی بات ہے کہ وہ قوم جس کی ابتداء اقراء سے ہوتی ہوں ،تعلیمی میدان میں دیگر قوموں سے کافی پیچھے رہ گئی
شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے
کہ سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا 

         آج دنیا بھر کے مسلمان باہمی انتشار، سیاسی غلامی، معاشی بحران اور علمی پسماندگی میں مبتلا ہیں۔ تعلیم کا فقدان، اخلاقی انحطاط، اور قیادت کا بحران مسلمانوں کی زبوں حالی کا اہم سبب ہے۔

کسی شاعر نے سچ کہا:

> خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا



آج امت مسلمہ کو علم و کردار کی دولت سے دوبارہ آراستہ ہونے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں مسلمانوں کی تعداد دو ارب سے زائد ہے، مگر وہ عالمی سطح پر سیاسی، سماجی اور اقتصادی لحاظ سے کمزور ہیں۔تعلیمی معیار تو زوال پزیری کے تحت الثرا کو پہچ گیا ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ کسی قوم کو تباہ و برباد کرنا ہو تو اس سے اس کی مادری زبان چھین لی جائے وہ قوم خود بخود زوال پذیری کا شکار ہو جائے گی۔ زبان تہذیب دیتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ مذہب کی کوئی زبان نہیں ہوتی مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ہمارا مذہب اور ہماری تہذیب کی اصل تعلیمات کا منبع ہماری مادری زبان ہی ہوتی ہے۔بھلا ہم اس زبان کی کیسے فراموش کر سکتے ہیں جس میں اسلامی ادب کا خزانہ عربی زبان سے زیادہ موجود ہے۔
                اردو زبان مسلمانوں کی تہذیب، ثقافت، اور علمی ورثے کی آئینہ دار ہے۔ اسی زبان نے جنگ آزادی کے دوران تحریکات کو زبان دی، شعور بخشا، اور اتحاد کا پیغام عام کیا۔ شاعری، نثر، خطابت، اور صحافت کے ذریعے اردو نے مسلمانوں کو بیدار کیا۔

مولانا حالی، علامہ اقبال، اور مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مفکرین نے اردو کو ذریعہ بنا کر قوم کی رہنمائی کی۔ اردو زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک فکری اور ثقافتی اثاثہ ہے جسے زندہ رکھنا ہماری قومی اور دینی ذمہ داری ہے۔

>                جس قوم کی زبان مر جائے، اس کی شناخت مٹ جاتی ہے۔  
                ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد مسلمانوں کی     عظیم قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی مسلمانوں کی قیادت میں لڑی گئی۔ یہی وہ جنگ تھی جسے انگریزوں نے ’’غدر‘‘ کا نام دیا، مگر حقیقت میں یہ ’’جنگِ آزادی‘‘ تھی۔

        آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر اس جدوجہد کا عظیم نشان ہیں۔ قربان جاؤں اس عظیم بادشاہ پر جس نے 80 سال کی عمر میں انگریزوں سے لڑنے کے لئے تلوار اٹھائی۔ اپنی سلطنت کو لوٹتے دیکھا۔ اپنے 18 بیٹون کو انڈیا گیٹ پر پھانسی کے پھندے پر لٹکتے دیکھا۔ وہ نہ صرف تخت سے محروم کیے گئے بلکہ انہیں قید کر کے رنگون (برما) میں جلاوطن کر دیا گیا۔ وہاں وہ بے کسی اور کسمپرسی کی حالت میں انتقال کر گئے۔ یہ قصہ مشہور ہے کہ جب بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بھوک لگی تو ناشتہ کے لئے برتن پیش کیا گیا۔ جب برتن سے کپڑا اٹھایا گیا تو  کیا دیکھتے ہیں کہ برتن میں ان کے ایک بیٹے اور پوتے کے سر کٹے ہوئے ہیں۔ کیا کسی نے تاریخ میں بھی ایسی قربانی دی ہے؟ ان کا کرب انگیز شعر آج بھی دلوں کو چیر دیتا ہے:

> کتنا ہے بدنصیب ظفر دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

        ظفر نے آزادی کے لیے سب کچھ قربان کر دیا، اور ان کی قربانی مسلمانوں کے جذبہ حریت کی مثال بن گئی۔ اس ملک عزیز کے لئےٹیپو سلطان اور سراج الدولہ نے موت کو گلے لگانا پسند کیا مگر انگریزوں کے سامنے جھکنا پسند نہیں کیا

            علماء نے بھی آزادی کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ ہزاروں علماء کو انگریزوں نے تختہ دار پر لٹکایا۔ مولانا فضل حق خیرآبادی، مولانا احمد اللہ شاہ، اور ہزاروں گمنام مجاہدین نے اپنا خون وطن کی مٹی میں جذب کر دیا۔لکھنو سے لاہور تک کوئی پیڑ ایسا نہ تھا کہ جس پر کسی عالم کی لاش نہ لٹک رہی ہو

> چمن کو خون سے سینچا ہے ہم نے
ہمارا حق ہے یہ آزادی ہماری

حیدرآباد کے نظام میر عثمان علی کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ محمڈن انگلو انڈین کالج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بن سکا۔ نظام میر عثمان علی نے ہی حیدرآباد میں عثمانیہ یونیورسٹی کی بنیاد ڈالی جہاں سائنس اور ریسرچ کی کتابوں کو مقامی زبانوں میں ترجمہ کیا جاتا اور ترجمہ کی ہوئی کتابوں سے سائنس، میڈیکل اور انجینئرنگ پڑھائی جاتی مگر افسوس انضمام حیدرآباد کے وقت چند شر پسندوں نے اس ترجمہ گاہ کو جلا دیا جس کی باقیات آج بھی موجود ہے۔اس طرح ہندوستان سائنس کے ایک بڑے خزانہ سے محروم ہوگیا۔ آزادی کے بعد چین کے خلاف جنگ کے لئے  5 ٹن سونا بطور تحفہ دینے والے کوئی اور نہیں بلکہ میر عثمان علی ہی تھے۔

          قصہ کوتاہ یہ کہ مسلمانوں کو اپنی تابناک تاریخ سے سبق   لینا ہوگا۔ اتحاد، تعلیم، اور کردار کے ذریعے ہی ہم موجودہ زبوں حالی سے نکل سکتے ہیں۔ اردو زبان کو فروغ دینا، اپنی تہذیب کو زندہ رکھنا، اور قربانیوں کو یاد رکھنا ہی ہماری بقا کا راستہ ہے۔

> سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا (علامہ اقبال)

Friday, 14 February 2025

اردو زبان کو پارلیمانی زبان کا درجہ دیا جانا

 اردو زبان کو پارلیمانی زبان کا درجہ دیا جانا

             بھارت نے اردو کو پارلیمانی زبان کا درجہ اس کی تاریخی، ثقافتی، اور سماجی اہمیت کی وجہ سے دیا ہے۔ اس کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:


1. تاریخی اور ثقافتی پس منظر


اردو بھارت کی ایک قدیم زبان ہے، جو صدیوں سے وہاں بولی اور لکھی جاتی رہی ہے۔ مغلیہ دور میں یہ دربار کی اہم زبان رہی اور آزادی کی تحریک میں بھی اس کا نمایاں کردار تھا۔


2. آبادی اور بولنے والوں کی تعداد


بھارت میں لاکھوں لوگ اردو بولتے اور سمجھتے ہیں، خاص طور پر اتر پردیش، بہار، دہلی، تلنگانہ،مہاراشٹر جموں کشمیر راجستھان اور مغربی بنگال جیسے علاقوں میں اردو کو سرکاری طور پر تسلیم کرنا ایک بڑی آبادی کی زبان کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مزید برآں کہ یہ امر جگ ظاہر بھی ہے کہ اکثر و بیشتر اردو زبان پر ہندی زبان کا ملمع چڑھایا جاتا ہے۔ در حقیقت وہ اردو زبان ہی ہوتی ہے مگر بول چال کی زبان کو ہندی کے دائرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہندی کو علمی سطح پر  چوتھے نمبر کی زبان بنانے میں اردو کا بہت بڑا ساتھ ہے۔ بھارت میں اردو زبان کی گفتگو کو ہندی زبان گردانہ جاتا ہے


3. آئینی حیثیت اور اقلیتی حقوق


بھارتی آئین کی آرٹیکل 29 اور 30 اقلیتوں کو اپنی زبان، ثقافت، اور تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق دیتا ہے۔ اردو چونکہ بھارتی مسلمانوں اور دیگر کمیونٹیز کی ایک اہم زبان ہے، اس لیے اسے پارلیمانی زبانوں میں شامل کیا گیا۔


4. کثیر لسانی پالیسی


بھارت میں کئی زبانیں پارلیمانی زبانوں میں شامل کی گئی ہیں تاکہ مختلف لسانی گروہوں کو نمائندگی دی جا سکے۔ اردو کو اس فہرست میں شامل کرنا اسی پالیسی کا حصہ ہے۔


5. اردو کا ادبی اور تعلیمی کردار


اردو زبان کا ایک مضبوط ادبی ورثہ ہے، اور یہ بھارت کی مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ حکومت اس زبان کی ترویج کے لیے مختلف اقدامات بھی کرتی ہے، جیسے کہ اردو اکادمیوں کا قیام۔


6) اردو  کا قومی زبانوں کے گروپ میں شامل ہونا :

              جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ  بھارت کی کوئی قومی زبان (راشٹریہ بھاشا) نہیں ہے۔ بھارت میں ۲۲ زبانوں کو آئینی زبان (constitutional languages ) کا درجہ حاصل ہے ۔ان 22 زبانوں میں اردو زبان بھی شامل ہے

             قصہ کوتاہ کہ بھارت نے اردو کو سیاسی، ثقافتی، اور لسانی وجوہات کی بنیاد پر پارلیمانی زبان کا درجہ دیا، تاکہ اس کے بولنے والے طبقے کو مناسب نمائندگی اور حقوق دیے جا سکیں۔

Tuesday, 11 February 2025

Wh Question

     For framing Wh question we must ascertain that there are two ways of framing Wh question 

1) Wh For Subject 

2) Wh For Object 

         If you frame a question for knowing subject,  you should frame interrogative sentence without helping verb/Modal Auxiliary. 

       Secondly if you frame a question for knowing object, you should frame sentence with helping verb/modal Auxiliary


👉The usage of helping verb is allowed only when we expect sentence Object as its answer

👉 Look at this example

Tree planting became a natural choice.

(Choose the correct Wh question to get the sentence subject as an answer from the given options.)

a) What became a natural choice ?

b)What did become a natural choice?


To form a Wh-question that asks for the subject of a sentence, we follow these grammar rules:


1. Identifying the Subject in the Given Sentence


Sentence: Tree planting became a natural choice.


Subject: Tree planting


Verb: became


Object/Complement: a natural choice



Since we need to frame a question where the answer is the subject ("Tree planting"), we must use the correct Wh-question structure.


2. Rule for Subject Questions (Without Auxiliary "Do/Did")


When asking about the subject, we do not use auxiliary verbs like do, does, or did.


The structure is: Wh-word + main verb + rest of the sentence?


Example:


What caused the accident? (The subject is "What" and directly replaces the noun that caused the accident.)


Who wrote this book? (The subject is "Who", replacing the person who wrote the book.)




Applying this to our sentence:


"What became a natural choice?" (✓ Correct)


The subject Tree planting is replaced by What, and the verb became remains unchanged.



3. Rule for Object Questions (With Auxiliary "Did")


If we ask about the object, we use do/does/did as an auxiliary verb.


Structure: Wh-word + auxiliary verb (do/does/did) + subject + main verb?


Example:


What did you see? (Object question; "you" is the subject.)


Who did she meet? (Object question; "she" is the subject.)




Applying this rule to our sentence:


"What did become a natural choice?" (✗ Incorrect)


 In short , Firstly we must decide which answer we want to get - whether subject or Object ? .Definitely we want subject as an answer.


If a subject is expected as an answer of Wh , no use of  helping verb is allowed grammatically.



Final Answer:


✔ "What became a natural choice?" (Correct)

✗ "What did become a natural choice?" (Incorrect).


     

Saturday, 18 January 2025

Difference Between Specially And Especially

 Difference Between Specially And Especially 

1. Specially:


Meaning

:کسی خاص مقصد کے لیے یا کسی خاص طریقے سے کئے گئے کام کو ظاہر کرنے کے لئے specially کا استعمال کیا جاتا ہے 


Examples:


This dress was specially designed for the wedding.

(یہ لباس خاص طور پر شادی کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔)


The cake was specially baked for her birthday.

(یہ کیک خاص طور پر اس کی سالگرہ کے لیے بنایا گیا تھا۔)




Note ::

 "Specially" کسی مخصوص یا خاص مقصد کی نشاندہی کرتا ہے۔


👈دوسرا فرق یہ ہے کہ specially کا ااستعمال past participle

 ( Participle adjective ) سے پہلے کیا جاتا ہے۔ Participle adjective وہ لفظ ہوتا ہے جو 3 Verb  تو ہوتا ہے مگر یہ verb جملہ میں adjective یعنی صفت کا کام انجام دیتا ہے۔ adjective پہچاننے کے لئے جملہ میں کیسا؟(?Howا)کا سوال کریں۔ حاصل جواب adjective یعنی صفت ہوگا۔ اب ان جملوں پر غور کریں 

You are a specially invited guest. 

آپ خاص طورپر مدعو کئے ہوئے مہمان ہوں

🔆کیسے مہمان ہے ؟ 

جواب : مدعو کئے ہوئے (invited )

یہاں  invited لفظ verb ہونے کے باوجود adjective کا کام انجام دے رہا ہے 

---


2.. Especially:


Meaning

: کسی چیز کی اہمیت پر زور دینا یا کسی خاص چیز کو دوسروں کے مقابلے میں نمایاں کرنا۔


Examples:


I love reading, especially mystery novels.

(مجھے پڑھنا پسند ہے، خاص طور پر جاسوسی ناول۔)


The weather is beautiful, especially in the evening.

(موسم خوبصورت ہے، خاص طور پر شام کے وقت۔)



Note

: "Especially" کسی چیز کی خاصیت یا ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف زور دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے



---


Quick Comparison in One Sentence:


This cake was specially made for the party, and it is especially delicious!

(یہ کیک خاص طور پر پارٹی کے لیے بنایا گیا تھا، اور یہ خاص طور پر مزیدار ہے!)


تذکیر و تانیث)مذکر اور مونث)

تذکیر و تانیث( مذکر و مونث)

            ایسے غیر ذی روح اسما جنکے آخر میں الف آتا ہے انکی تذکیر و تانیث حرفوں کی تعداد پر منحصر ہوتی ہے۔اگر وہ چار حرفی لفظ ہوتو مذکر اور سہ حرفی ہوتو مونث ہوتا ہے

جیسے :

مذکر : دریا، شوربا ،صحرا

مونث : وفا، ضیا ، رضا

4.3 Around The World In Eighty Days

(4.3) Around the World in Eighty Days Around the World in Eighty Days is an adventure novel written by Jules Gabriel Verne and published in ...