XI CLASS URDU
XII CLASS URDU
- 01 - میری دعا (1)
- 01_منٹو ، میرا دوست میرا دشمن (1)
- 01- طلسم ہوش ربا (1)
- 02- خیر صفات رسول (1)
- 03- شال (1)
- 04- سپاہی اور بٹ مار (1)
- 07- زندگی سے ڈرتے ہو (1)
- 08 - بگل بردار (1)
- 4-نیا شاعر اور زندگی کے مسائل (1)
- 5- لیفٹینی کی مشکلیں (1)
- 5-تیغ دو پیکر (1)
- 6 - رستم و سہراب (1)
- 7 - دیوار چین کے سایے میں (1)
- Activity Sheet Urdu (1)
- English Grammar (3)
- Social Topics (3)
- XII English (7)
- Xii Urdu (2)
- اردو گرامر (1)
- رباعیات (1)
- سماجی مسائل (1)
- غزل -01 - خواجہ حیدر علی آتش (1)
- غزل نمبر 3 (1)
- غزل نمبر 4 (1)
- قطعات (1)
Labels
- 01 - میری دعا (1)
- 01_منٹو ، میرا دوست میرا دشمن (1)
- 01- طلسم ہوش ربا (1)
- 02- خیر صفات رسول (1)
- 03- شال (1)
- 04- سپاہی اور بٹ مار (1)
- 07- زندگی سے ڈرتے ہو (1)
- 08 - بگل بردار (1)
- 4-نیا شاعر اور زندگی کے مسائل (1)
- 5- لیفٹینی کی مشکلیں (1)
- 5-تیغ دو پیکر (1)
- 6 - رستم و سہراب (1)
- 7 - دیوار چین کے سایے میں (1)
- Activity Sheet Urdu (1)
- English Grammar (3)
- Social Topics (3)
- XII English (7)
- Xii Urdu (2)
- اردو گرامر (1)
- رباعیات (1)
- سماجی مسائل (1)
- غزل -01 - خواجہ حیدر علی آتش (1)
- غزل نمبر 3 (1)
- غزل نمبر 4 (1)
- قطعات (1)
Followers
About Me
- Layeeque Sadique Ahmed, Manora ( Contact No.9420712474)
- Manora ,District :Washim 444404, Maharashtra , India
Monday, 9 February 2026
4.1 History Of Novel
Monday, 26 January 2026
4.3 Around The World In Eighty Days
(4.3)Around the World in Eighty Days
Around the World in Eighty Days is an adventure novel written by Jules Gabriel Verne and published in 1873.
The major characters of the novel : Phileas Fogg, Passepartout, Aouda, and Detective Fix.
Phileas Fogg travels through many places during his journey including Brindisi, Suez, Bombay, Calcutta, Hong Kong, Yokohama, San Francisco, New York, and Liverpool.
Phileas Fogg's Club Friends (5 antagonists) :
Thomas Falanagan (the brewer) , Samuel Fallentin (a banker), John Sullivan(also a banker),Andrew Stuart( an engineer), Gauthier Ralph ( the director of bank of England)
Reason Of Travelling :
The bet was for 20,000 pounds, which was a very large amount at that time. Fogg accepted the challenge immediately and started his journey at 8:45 p.m. on Wednesday, 2 October. According to the bet, he had to return to London after 80 days, that is, on Saturday, 21 December at 8:45 p.m.
🌙 اردو ترجمہ
اراؤنڈ دی ورلڈ اِن ایٹی ڈیز
اراؤنڈ دی ورلڈ اِن ایٹی ڈیز ایک مہماتی ناول ہے جسے جولس گیبریل ورن نے لکھا اور یہ 1873ء میں شائع ہوا۔
اس ناول کے اہم کردار فلیاس فاگ، پاسپارتو، آؤدا اور ڈیٹیکٹو فکس ہیں۔
سفر کے دوران آنے والے مقامات:
سفر کرنے کی وجہ:
یہ شرط 20,000 پاؤنڈ کی تھی جو اس زمانے میں بہت بڑی رقم تھی۔ فلیاس فاگ نے فوراً چیلنج قبول کر لیا اور بدھ، 2 اکتوبر کو رات 8:45 بجے اپنا سفر شروع کیا۔ شرط کے مطابق اسے 80 دن بعد یعنی ہفتہ، 21 دسمبر کو رات 8:45 بجے لندن
Character Sketch
Phileas Fogg:
Aouda:
Passepartout:
Detective Fix:
🌙 اردو ترجمہ
کرداروں کا خاکہ
فلیاس فاگ:
آؤدا:
پاسپارٹو:
ڈیٹیکٹو فکس:
🌙 اردو ترجمہ
Reaction After Arrest:
Reaction Of Aouda:
Reaction of Passepartout
Passepartout was very angry with Detective Fix. He believed that Fix was the cause of all their misfortune because Phileas Fogg had been wrongly arrested. He even fell upon Fix but held back by some policemen.Passepartout thought that he himself is cause of this new misfortune because if Fogg had been warned, he would no doubt have given Fix proof of his innocence and satisfied him of his mistake;atleast Fix would not have continued his journey at the expense and on the heels of his master,only to arrest him the moment he set foot on English soil.Passepartout thought that if Fix had been given proof of Fogg’s innocence earlier, he would not have followed them everywhere and caused so much trouble.
When they reached English soil, Passepartout could not control his emotions. He wept bitterly and felt as if his brain would burst with grief and anger.
Reaction of Phileas Fogg
Phileas Fogg sat quietly on a wooden bench. He was calm and showed no anger on his face. Although the arrest was a great shock, he did not show his feelings outwardly. He carefully placed his watch on the table and kept looking at its moving hands. His expression was firm and serious.
Fix Realizes His Mistake
Later, Detective Fix discovered that the real bank robber had been caught and that Phileas Fogg was innocent. Realizing his mistake, Fix released Fogg immediately.
They reach Railway Station:
They reached the station at 2:40, and there were still 6 hours and 5 minutes left to reach the Reform Club in London. After making inquiries, they came to know that the train for London had left 35 minutes earlier and that no other railway arrangement was possible
🌙 اردو ترجمہ
گرفتاری کے بعد ردِعمل
آؤدا کا ردِعمل:
پاسپارٹو کا ردِعمل
پاسپارٹو جاسوس فکس پر بہت غصے میں تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ان کی تمام بدقسمتیوں کا سبب فکس ہی ہے، کیونکہ فلیاس فاگ کو غلط طور پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ وہ غصے میں آ کر فکس پر جھپٹ بھی پڑا، مگر چند پولیس والوں نے اسے روک لیا۔
پاسپارٹو نے یہ بھی سوچا کہ اس نئی مصیبت کا اصل سبب وہ خود ہے، کیونکہ اگر اس نے فاگ کو پہلے ہی خبردار کر دیا ہوتا تو وہ یقیناً فکس کو اپنی بے گناہی کا ثبوت دے دیتا اور اسے اس کی غلطی کا احساس کرا دیتا۔ کم از کم فکس اپنے خرچ پر اور اس کے آقا کے پیچھے پیچھے سفر جاری نہ رکھتا اور نہ ہی جیسے ہی وہ انگلستان کی سرزمین پر قدم رکھتا، اسے گرفتار کرنے کی کوشش کرتا۔
پاسپارٹو کو یہ بھی خیال آیا کہ اگر فکس کو پہلے ہی فاگ کی بے گناہی کا ثبوت دے دیا جاتا تو وہ ہر جگہ ان کا پیچھا نہ کرتا اور نہ ہی اتنی زیادہ پریشانی اور مصیبت پیدا کرتا۔
جب وہ انگلستان کی سرزمین پر پہنچے تو پاسپارٹو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور اسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے غم اور غصے سے اس کا دماغ پھٹ جائے گا۔
فلیاس فاگ کا ردِعمل
فلیاس فاگ خاموشی سے ایک لکڑی کی بینچ پر بیٹھ گیا۔ وہ پُرسکون تھا اور اس کے چہرے پر غصے کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہو رہا تھا۔ اگرچہ گرفتاری اس کے لیے بہت بڑا صدمہ تھی، لیکن اس نے اپنے جذبات ظاہر نہیں کیے۔ اس نے احتیاط سے اپنی گھڑی میز پر رکھی اور اس کی سوئیوں کو دیکھتا رہا۔ اس کا چہرہ پختہ عزم اور سنجیدگی کا مظہر تھا۔
فکس کو اپنی غلطی کا احساس
وہ ریلوے اسٹیشن پہنچتے ہیں :
وہ 2:40 بجے اسٹیشن پہنچے اور ریفارم کلب (لندن) پہنچنے کے لیے اب بھی 6 گھنٹے اور 5 منٹ باقی تھے۔ پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا کہ لندن جانے والی ٹرین 35 منٹ پہلے روانہ ہو چکی تھی اور کوئی دوسرا ریلوے انتظام ممکن نہ تھا۔
خصوصی ریل گاڑی کو تین بجے سے پہلے روانہ نہیں ہونا تھا۔ فلیاس فاگ نے انجن ڈرائیور کو زیادہ رفتار سے چلانے کے لیے بڑا انعام دینے کا وعدہ کیا۔ آخرکار وہ لندن کی طرف روانہ ہوئے۔ ضروری تھا کہ یہ فاصلہ ساڑھے پانچ گھنٹوں میں طے کیا جائے، لیکن وہ رات 8:50 بجے پہنچے۔ فلیاس فاگ کو یقین ہو گیا کہ وہ 5 منٹ کی تاخیر کی وجہ سے شرط ہار چکا ہے۔
Reaction after Losing the bet :
(A) Reaction of Phileas Fogg:
(B) Reaction of Aouda:
(C) Reaction of Passepartout:
Tuesday, 25 November 2025
علامہ اقبال کا پیغام
رِندانِ فرانسیس کا میخانہ سلامت
پُر ہے مئے گُلرنگ سے ہر شیشہ حلَب کا
ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عَرب کا
مقصد ہے مُلوکیّتِ انگلِیس کا کچھ اور
قصّہ نہیں نارنج کا یا شہد و رُطَب کا
الفاظ معانی :
(رند = لا مذہبی، آزاد زندگی والے شرابی ، حلب = ملک شام کا ایک شہر، ہسپانیہ = اسپین، ملوکیت = حکومت، رطب : کھجور، نارنج = ایک پھل
نثری مطلب
رِندانِ فرانس کا میخانہ سلامت رہے،
فرانس اس زمانہ میں ہر وقت خوشنما گلابی شراب سے بھرا رہتا ہے۔
(یعنی یورپ کی عیش پرست قومیں اپنی رنگ رلیوں اور خوشگزار زندگی میں مگن ہیں۔)
اور اگر یہودیوں کا فلسطین کی سرزمین پر حق مانا جاتا ہے،
تو پھر اسی اصول کے مطابق عربوں کا بھی اسپین (ہسپانیہ) پر حق ہونا چاہیے۔
(یعنی یورپ دوہرے معیار رکھتا ہے—یہودیوں کے تاریخی دعوے کو تو قبول کرتا ہے مگر عربوں کے عظیم ماضی اور اسپین پر صدیوں کی حکومت کو نظرانداز کرتا ہے۔)
انگلستان کی بادشاہت کے اصل مقاصد کچھ اور ہیں،
یہ معاملہ نارنج، شہد یا کھجور جیسے پھلوں کی ۵جارت نہیں ہے۔بلکہ ان کا مقصد سیاست میں حصہ لے کے طاقت حاصل کرنا ہے
(یعنی انگلستان کی سیاسی چالوں، قبضہ گیری اور سامراج کے پیچھے اصل مقصد صرف طاقت، سیاست اور مفادات ہیں—یہ کسی معمولی تجارتی اعتراض یا علاقائی بحث کا مسئلہ نہیں۔)
ادبی نثری مفہوم
فرانس کے آزاد خیال اور عیش پرست لوگوں کی سرزمین آج بھی اپنی رنگین محفلوں اور شراب خانوں سمیت پوری آب و تاب سے قائم ہے، جہاں ہر جام خوش رنگ مَے سے لبریز ہے۔
دوسری طرف دنیا عدالت اور حق کے نام پر عجیب پیمانے بنا رہی ہے—اگر محض تاریخی نسبت کی بنیاد پر یہودیوں کو فلسطین پر حق دار سمجھا جاتا ہے، تو پھر اسی اصول کے تحت عرب اقوام کو بھی اسپین پر دعویٰ کرنے کا حق ہونا چاہیے، کہ وہاں وہ صدیوں تک اپنی تہذیب و حکمرانی کے چراغ روشن کرتے رہے۔
رہی بات انگلستان کی، تو اس کی سلطنت کے پسِ پردہ اصل مقاصد کچھ اور ہیں—یہ بحث نارنج، شہد یا رُطب جیسے معمولی چیزوں کی تجارت نہیں، بلکہ سیاسی مفادات، اقتدار اور سامراجی عزائم کی ہے، جنہیں چھپانے کے لیے طرح طرح کے بہانے تراشے جاتے ہیں۔
تشریح:
1. “رندانِ فرانس کا میخانہ سلامت” — یورپ کی تہذیبی مستیاقبال یہاں فرانس اور یورپ کی عیش پسندی، ان کے تہذیبی غرور اور مادہ پرستی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
فرانس اس زمانے میں
فکری آزادی،
لادینیت،
شراب و عشرت،
اور انفرادی بے باکی
کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
اقبال کہتے ہیں:
یورپ اپنی مستی، رنگینی اور آزادی کے نشے میں ہے، دنیا پر حکومت بھی کر رہا ہے اور اپنی تہذیب کو بہترین بھی سمجھتا ہے۔
---
2. “خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق…” — دوہرے معیار کا پردہ فاش
انیسویں اور بیسویں صدی کے آغاز میں
یورپ نے فلسطین میں یہودی آبادکاری کی کھلی حمایت کی۔
اقبال کے زمانے میں یہودیوں کا فلسطین پر تاریخی حق کا دعویٰ زوروں پر تھا۔
اقبال کہتے ہیں:
اگر تم ہزاروں سال پہلے کے ایک تاریخی تعلق کو بنیاد بنا کر فلسطین یہودیوں کو دے سکتے ہو تو پھر اسلامی اسپین (اندلس) بھی عربوں کو واپس دینے کے قابل ہے، کیونکہ وہ وہاں آٹھ سو سال حکومت کر چکے!
یہ جملہ یورپ کے دوہرے اخلاقی معیار کو نمایاں کرتا ہے۔
---
3. “مقصد ہے ملوکیتِ انگلِیس کا کچھ اور…” — برطانوی سامراج کی اصل چال
اس دور میں انگلستان دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھا۔
عرب دنیا تقسیم کی جا رہی تھی،
نئی ریاستیں بن رہی تھیں،
تیل کی سیاست شروع ہو چکی تھی،
فلسطین کا مسئلہ شدت پکڑ رہا تھا۔
اقبال کہتے ہیں:
انگلستان کے اصل مقاصد سیاسی اور سامراجی ہیں۔
یہ معاملہ نارنج، شہد یا کھجور جیسے چھوٹے مسائل کا نہیں—
بلکہ مشرق وسطیٰ پر قبضہ، تیل کے ذخائر، تجارت اور عالمی حکمرانی کا ہے۔
ان چھوٹے پھلوں کا ذکر طنزیہ ہے، یعنی:
"یہ تو محض بہانے ہیں، اصل میں مقصد کچھ اور ہے!"
---
4. مکمل پیغام
ان اشعار میں اقبال بتاتے ہیں کہ:
یورپ خود کو مہذب کہتا ہے مگر دنیا پر حکمرانی کے لئے اخلاقی اصولوں کو بدل دیتا ہے۔
مشرق کی قوموں کو تقسیم، کمزور اور منتشر رکھنے کے لئے طرح طرح کی دلیلیں گھڑتا ہے۔
فلسطین، اسپین اور عرب دنیا سب اس دوہرے معیار کا شکار ہیں۔
اقبال قاری کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ طاقتور اقوام کے فیصلے انصاف پر نہیں بلکہ مفاد پر مبنی ہوتے ہیں۔
Tuesday, 29 July 2025
مسلمانوں کی موجودہ ابتر حالت اور جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیاں
Friday, 14 February 2025
اردو زبان کو پارلیمانی زبان کا درجہ دیا جانا
اردو زبان کو پارلیمانی زبان کا درجہ دیا جانا
بھارت نے اردو کو پارلیمانی زبان کا درجہ اس کی تاریخی، ثقافتی، اور سماجی اہمیت کی وجہ سے دیا ہے۔ اس کی چند بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
1. تاریخی اور ثقافتی پس منظر
اردو بھارت کی ایک قدیم زبان ہے، جو صدیوں سے وہاں بولی اور لکھی جاتی رہی ہے۔ مغلیہ دور میں یہ دربار کی اہم زبان رہی اور آزادی کی تحریک میں بھی اس کا نمایاں کردار تھا۔
2. آبادی اور بولنے والوں کی تعداد
بھارت میں لاکھوں لوگ اردو بولتے اور سمجھتے ہیں، خاص طور پر اتر پردیش، بہار، دہلی، تلنگانہ،مہاراشٹر جموں کشمیر راجستھان اور مغربی بنگال جیسے علاقوں میں اردو کو سرکاری طور پر تسلیم کرنا ایک بڑی آبادی کی زبان کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ مزید برآں کہ یہ امر جگ ظاہر بھی ہے کہ اکثر و بیشتر اردو زبان پر ہندی زبان کا ملمع چڑھایا جاتا ہے۔ در حقیقت وہ اردو زبان ہی ہوتی ہے مگر بول چال کی زبان کو ہندی کے دائرے میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہندی کو علمی سطح پر چوتھے نمبر کی زبان بنانے میں اردو کا بہت بڑا ساتھ ہے۔ بھارت میں اردو زبان کی گفتگو کو ہندی زبان گردانہ جاتا ہے
3. آئینی حیثیت اور اقلیتی حقوق
بھارتی آئین کی آرٹیکل 29 اور 30 اقلیتوں کو اپنی زبان، ثقافت، اور تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حق دیتا ہے۔ اردو چونکہ بھارتی مسلمانوں اور دیگر کمیونٹیز کی ایک اہم زبان ہے، اس لیے اسے پارلیمانی زبانوں میں شامل کیا گیا۔
4. کثیر لسانی پالیسی
بھارت میں کئی زبانیں پارلیمانی زبانوں میں شامل کی گئی ہیں تاکہ مختلف لسانی گروہوں کو نمائندگی دی جا سکے۔ اردو کو اس فہرست میں شامل کرنا اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
5. اردو کا ادبی اور تعلیمی کردار
اردو زبان کا ایک مضبوط ادبی ورثہ ہے، اور یہ بھارت کی مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ حکومت اس زبان کی ترویج کے لیے مختلف اقدامات بھی کرتی ہے، جیسے کہ اردو اکادمیوں کا قیام۔
6) اردو کا قومی زبانوں کے گروپ میں شامل ہونا :
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بھارت کی کوئی قومی زبان (راشٹریہ بھاشا) نہیں ہے۔ بھارت میں ۲۲ زبانوں کو آئینی زبان (constitutional languages ) کا درجہ حاصل ہے ۔ان 22 زبانوں میں اردو زبان بھی شامل ہے
قصہ کوتاہ کہ بھارت نے اردو کو سیاسی، ثقافتی، اور لسانی وجوہات کی بنیاد پر پارلیمانی زبان کا درجہ دیا، تاکہ اس کے بولنے والے طبقے کو مناسب نمائندگی اور حقوق دیے جا سکیں۔
Tuesday, 11 February 2025
Wh Question
For framing Wh question we must ascertain that there are two ways of framing Wh question
1) Wh For Subject
2) Wh For Object
If you frame a question for knowing subject, you should frame interrogative sentence without helping verb/Modal Auxiliary.
Secondly if you frame a question for knowing object, you should frame sentence with helping verb/modal Auxiliary
👉The usage of helping verb is allowed only when we expect sentence Object as its answer
👉 Look at this example
Tree planting became a natural choice.
(Choose the correct Wh question to get the sentence subject as an answer from the given options.)
a) What became a natural choice ?
b)What did become a natural choice?
To form a Wh-question that asks for the subject of a sentence, we follow these grammar rules:
1. Identifying the Subject in the Given Sentence
Sentence: Tree planting became a natural choice.
Subject: Tree planting
Verb: became
Object/Complement: a natural choice
Since we need to frame a question where the answer is the subject ("Tree planting"), we must use the correct Wh-question structure.
2. Rule for Subject Questions (Without Auxiliary "Do/Did")
When asking about the subject, we do not use auxiliary verbs like do, does, or did.
The structure is: Wh-word + main verb + rest of the sentence?
Example:
What caused the accident? (The subject is "What" and directly replaces the noun that caused the accident.)
Who wrote this book? (The subject is "Who", replacing the person who wrote the book.)
Applying this to our sentence:
"What became a natural choice?" (✓ Correct)
The subject Tree planting is replaced by What, and the verb became remains unchanged.
3. Rule for Object Questions (With Auxiliary "Did")
If we ask about the object, we use do/does/did as an auxiliary verb.
Structure: Wh-word + auxiliary verb (do/does/did) + subject + main verb?
Example:
What did you see? (Object question; "you" is the subject.)
Who did she meet? (Object question; "she" is the subject.)
Applying this rule to our sentence:
"What did become a natural choice?" (✗ Incorrect)
In short , Firstly we must decide which answer we want to get - whether subject or Object ? .Definitely we want subject as an answer.
If a subject is expected as an answer of Wh , no use of helping verb is allowed grammatically.
Final Answer:
✔ "What became a natural choice?" (Correct)
✗ "What did become a natural choice?" (Incorrect).
Saturday, 18 January 2025
Difference Between Specially And Especially
Difference Between Specially And Especially
1. Specially:
Meaning
:کسی خاص مقصد کے لیے یا کسی خاص طریقے سے کئے گئے کام کو ظاہر کرنے کے لئے specially کا استعمال کیا جاتا ہے
Examples:
This dress was specially designed for the wedding.
(یہ لباس خاص طور پر شادی کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔)
The cake was specially baked for her birthday.
(یہ کیک خاص طور پر اس کی سالگرہ کے لیے بنایا گیا تھا۔)
Note ::
"Specially" کسی مخصوص یا خاص مقصد کی نشاندہی کرتا ہے۔
👈دوسرا فرق یہ ہے کہ specially کا ااستعمال past participle
( Participle adjective ) سے پہلے کیا جاتا ہے۔ Participle adjective وہ لفظ ہوتا ہے جو 3 Verb تو ہوتا ہے مگر یہ verb جملہ میں adjective یعنی صفت کا کام انجام دیتا ہے۔ adjective پہچاننے کے لئے جملہ میں کیسا؟(?Howا)کا سوال کریں۔ حاصل جواب adjective یعنی صفت ہوگا۔ اب ان جملوں پر غور کریں
You are a specially invited guest.
آپ خاص طورپر مدعو کئے ہوئے مہمان ہوں
🔆کیسے مہمان ہے ؟
جواب : مدعو کئے ہوئے (invited )
یہاں invited لفظ verb ہونے کے باوجود adjective کا کام انجام دے رہا ہے
---
2.. Especially:
Meaning
: کسی چیز کی اہمیت پر زور دینا یا کسی خاص چیز کو دوسروں کے مقابلے میں نمایاں کرنا۔
Examples:
I love reading, especially mystery novels.
(مجھے پڑھنا پسند ہے، خاص طور پر جاسوسی ناول۔)
The weather is beautiful, especially in the evening.
(موسم خوبصورت ہے، خاص طور پر شام کے وقت۔)
Note :
: "Especially" کسی چیز کی خاصیت یا ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف زور دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے
---
Quick Comparison in One Sentence:
This cake was specially made for the party, and it is especially delicious!
(یہ کیک خاص طور پر پارٹی کے لیے بنایا گیا تھا، اور یہ خاص طور پر مزیدار ہے!)
4.1 History Of Novel
(4.1) History Of Novel 1. Complete the following statements: i) The two types of conflicts that the plot may have ________ ii) The word “pi...
-
Question Paper February 2021 Question Paper February 2022 _________________________ Model Answer Paper February 2022 ____________________...
-
1) طلسم ہوش ربا نئے الفاظ کے معنی 1) راوی =کسی واقعہ، بات یا خبر کا بیان کرنے والا 2)ظف...
-
Appeal/تعارف نامہ (نوٹ : تعارف نامہ / Appeal اردو اور انگریزی دونوں مضامین کے پیپرز میں پوچھا جاتا ہے۔ اس بلاگ میں تعارف نامہ(Appeal) کے ک...