XI CLASS URDU

Followers

About Me

My photo
Manora ,District :Washim 444404, Maharashtra , India

Thursday, 26 February 2026

رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان

 رمضان، امتحان اور نقل بازی
ایک اخلاقی بحران کی داستان

فیچر نویس: (لئیق احمد محمدصادق، مانورہ،ضلع باسم) : 
               رمضان المبارک کا مہینہ نزولِ قرآن، تزکیۂ نفس اور کردار سازی کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس زمانہ ہے جس میں مسلمان صرف بھوک اور پیاس ہی سے نہیں بلکہ جھوٹ، فریب اور بددیانتی سے بھی رکنے کا عہد کرتا ہے۔ مگر ہمارے تعلیمی اداروں میں ایک عجیب تضاد دکھائی دیتا ہے: ہاتھ میں تسبیح، زبان پر دعا، اور امتحان پیڈ کے نیچے پرچی۔
              یہ سوال اب محض طالب علموں تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے تعلیمی نظام کے ضمیر سے پوچھا جا رہا ہے: 
         کیا رمضان میں روزہ رکھ کر امتحان میں نقل کرنا ایمان داری ہے یا ایمان کے ساتھ مذاق؟
            اگر جائز ہے تو اتنا ڈر کیوں؟ اگر ناجائز ہے تو پارسائی کیوں؟اگر پارسائی کی نمائش ہے تو منافقت سے انکار کیوں  ؟ قرآن تو اقراء کی بات کرتا ہے، ایمانداری کیوں بات کرتا ہے۔ قرآن مجید واضح اعلان کرتا ہے:
“اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔”
          یہ حکم صرف زبان کے سچ کا نہیں بلکہ عمل کی سچائی کا بھی ہے۔ نقل بازی میں جھوٹ شامل ہے، دھوکا شامل ہے اور نااہلی کو قابلیت کے پردے میں چھپایا جاتا ہے۔ یہ سب اس قرآنی حکم کے صریح خلاف ہے۔
نبی کریم ﷺ نے اخلاقی اصول کو اور زیادہ واضح کر دیا:
“جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔”
                امتحان میں نقل کرنا صرف سوال کا جواب چرا لینا نہیں بلکہ استاد، والدین، ادارے اور معاشرے سب کو دھوکا دینا ہے۔ یوں یہ عمل فرد کا نہیں بلکہ اجتماعی اخلاق کا قتل ہے۔
               رمضان ہمیں برائی سے رکنے کی تربیت دیتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
“بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔”
              اگر روزہ رکھنے والا طالب علم نقل کرتا ہے تو گویا عبادت کی صورت باقی رہتی ہے مگر روح ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں عبادت اور کردار کے درمیان دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔
            اس منظرنامے کا سب سے خطرناک پہلو استاد کا کردار ہے۔ جب استاد نقل کرواتا ہے یا جان بوجھ کر آنکھ بند کر لیتا ہے تو وہ صرف ایک طالب علم کو فائدہ نہیں پہنچا رہا ہوتا بلکہ پورے معاشرے کو نقصان پہنچا رہا ہوتا ہے۔ قرآن کا اصول ہے:

“نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی میں مدد نہ کرو۔”

            نقل میں تعاون دراصل گناہ میں شرکت ہے، اور یہ شرکت نسلوں کی فکری بنیاد کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
اسی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ: ڈگریاں مل جاتی ہیں، قابلیت نہیں بنتی۔
عہدے مل جاتے ہیں، اہلیت نہیں آتی۔
ڈاکٹر بنتے ہیں مگر علاج سے ناواقف،
انجینئر بنتے ہیں مگر حساب سے بے خبر،
اور فیصلہ کرنے والے بنتے ہیں مگر انصاف سے عاری۔
 شکایت ہے مجھے یا رب خداوندان مکتب سے
کہ سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا 

             قرآن نے اجتماعی زندگی کا اصول بتایا:
“امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو۔”

             نقل کے ذریعے حاصل کی گئی کامیابی امانت نہیں بلکہ خیانت ہے۔ جب نااہل افراد اہل بن کر سامنے آتے ہیں تو قوم کا مستقبل تجربہ گاہ بن جاتا ہے، اور عوام اس تجربے کے نتائج بھگتتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف عبادت اور گناہ تک محدود نہیں بلکہ حقوق العباد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ نقل کرنے والا: والدین کا حق مارتا ہے جنہوں نے اعتماد کیا،
استاد کا حق مارتا ہے جس نے سکھایا،
محنت کرنے والے طالب علم کا حق مارتا ہے،اور قوم کا حق مارتا ہے جو اہل افراد کی منتظر ہوتی ہے۔
          رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ قیامت کے دن محض نماز روزہ کافی نہ ہوگا بلکہ حقوق العباد کا حساب بھی ہوگا۔ اس لیے یہ خیال کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج سب کچھ معاف کرا دیں گے، خود ایک خطرناک خود فریبی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں ایمانداری کے سبق غیر مسلم معاشروں سے سننے پڑ رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ وہ ایماندار کیوں ہیں، سوال یہ ہے کہ ہم ایمان والے ہو کر بے ایمانی کیوں سیکھ رہے ہیں؟
رمضان کا اصل پیغام یہی ہے کہ ایمان صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ کردار کا نام ہے۔ نقل بازی اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ جو شخص ان دونوں کو اکٹھا کرتا ہے وہ لاعلمی یا سہولت پسندی کے ذریعے ایک ایسے مرض میں مبتلا ہوتا ہے جسے قرآن نے منافقت کہا ہے۔
         ضرورت اس بات کی ہے کہ: طالب علم نقل کو گناہ سمجھے،
استاد نقل کو جرم سمجھے،
اور ادارہ نقل کو بغاوت سمجھے۔
جب تک نقل کامیابی کا راستہ بنی رہے گی، قوم کی ناکامی یقینی رہے گی۔ اور جب تک ہم کردار کو تعلیم سے الگ رکھتے رہیں گے، ڈگریاں تو بڑھتی رہیں گی مگر انسان کم ہوتے جائیں گے۔
رمضان ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ علم عبادت ہے، اور عبادت دیانت داری مانگتی ہے۔ نقل بازی نہ صرف تعلیم کی توہین ہے بلکہ ایمان کی بھی۔
     آخر میں اداروں کی انتظامیہ کے لئے کہ ان کے بیدار ہونے کا وقت آگیا ہے۔ان کی بیداری قوم کی بیداری ہے کیوں کہ تعلیمی ادارے صرف عمارتوں کا نام نہیں، یہ قوم کی فکری درسگاہیں ہیں۔ یہاں اگر دیانت کا چراغ بجھ جائے تو پورا معاشرہ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ نقل کو نظر انداز کرنا دراصل آنے والی نسلوں کے مستقبل سے کھیلنا ہے۔ انتظامیہ اگر آج خاموش رہی تو کل یہی خاموشی قومی زوال کی دستاویز بن جائے گی- ضرورت اس امر کی ہے کہ سخت نگرانی، اخلاقی تربیت اور واضح احتسابی نظام قائم کیا جائے۔ امتحان کو عبادت کی طرح پاکیزہ اور امانت کی طرح محفوظ بنایا جائے۔ کیونکہ جس قوم کے امتحان محفوظ نہیں ہوتے، اس کے مستقبل محفوظ نہیں رہتے*۔ لہذا میں بس اتنا ہی کہوں گا۔۔۔۔

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
 افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی 

No comments:

Post a Comment

رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان

 رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان فیچر نویس: (لئیق احمد محمدصادق، مانورہ،ضلع باسم) :                 رمضان المبارک کا م...