XI CLASS URDU

Followers

About Me

My photo
Manora ,District :Washim 444404, Maharashtra , India

Wednesday, 15 December 2021

1) منٹو : میرا دوست ،میرا دشمن

   منٹو: میرا دوست، میرا دشمن

الفاظ معنی :

1)چوبی : لکڑی کی بنی ہوئ

2)مرے پر سو درے (محاورہ): ظلم و ستم

3)چرچراتی : چرچر کی آواز کرتی ہوئی

4)نیم وا :آدھا کھلا ہوا

5)خندہ پیشانی:خوش مزاجی،مسکراتے ہوئے(خندہ:مسکرانا)

6)جھکی : بیہودہ گو

7)کج بحث : الٹی سیدھی بحث کرنے والا،جھگڑالو

8)رعونت : نرم ہونا

9) مدح سرائی: تعریف و توصیف

10)ہتک : رسووئی

11)کل : حصہ ، صورت

12)ادھیڑ بن : ادھیڑنے اور بننے کا عمل ،غور وخوص کرنا

13)دانت لگانا : لالچ کرنا ،کسی چیز کی خواہش کرنا

اقتباس نمبر 1 :اڈلفی چیمبر کی چوبی سیڑیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ مجھے بہن کیوں کہہ رہے ہیں ۔میں نے چڑ کر کہا۔"

"نہیں کہتا۔"








👈(3)متعلقہ معلومات فراہم کیجیے

1) منٹو کا گھر میں موجودگی کا وقت :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2) سیڑیاں کی حالت : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3)دروازہ : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
4)باریک مکوڑے کی شکل کےانسان کا نام :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5)پہلی ملاقات کے وقت منٹو کے کپڑے : ۔۔۔۔۔۔۔۔

👈(4)مندرجہ ذیل مکالموں کو متکلم لگاییے
آپ کج بحثی کررہی ہیں "
"حماقت ہے یہ ! "
"دھاندلی ہے ، عصمت بہن ! " 
"آپ مجھے بہن کیوں کہہ رہے ہیں"
"نہیں کہتا "



   

👈(6)صحیح متبادل تلاش کر کے خالی جگہ پر کیجیے
 
1) مجھے ویسے ہی نئے آدمیوں سے ملتے گھبراہٹ ہوا کرتی تھی لیکن یہاں تو وہ نیا آدمی۔۔۔۔۔۔۔۔تھا
2) میں بلبلہ تو ہوں نہیں جو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3)نیم وا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھا
4) کرسی میں ایک باریک مکوڑے کی شکل کا انسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھا
5)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سے منٹو کھڑا ہوگیا
6) منٹو ہمیشہ کرسی پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرتا تھا۔
7) بعض وقت جب منٹو یوں رینگ کر کھڑا ہوتا تو۔۔۔۔۔۔۔معلوم ہوتا تھا
8) میں سمجھتی تھی آپ بڑے دبنگ قسم کے چنگھارتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
9) اور دوسرے لمحے ہم دونوں پوری تندہی سے جٹ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
10) کئی گھنٹے ہمارے جبڑے مشینوں کی طرح مختلف موضوعات پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رہے۔
11) میں نے جلد ہی معلوم کیا کہ میری طرح منٹو بھی۔۔۔۔۔۔۔۔کا عادی ہے
12)بڑی بڑی سیاہ پتلیوں والی آنکھیں دیکھ کر مجھے بے ساختہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یاد آگیے۔
13)مور کے پر اور آنکھوں کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
14)ان آنکھوں کو دیکھ کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔دھک سے رہ گیا۔
15)طنز کے نشتر برساتے اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, 5 December 2021

غزل نمبر 4 : فضا ابن فیضی

        غزل نمبر 4 -فضا ابن فیضی

الفاظ معنی :

1)سیم : چاندی ، نقرہ،روپیہ دولت

2)گہر : موتی

3)طرز دگر : دوسرے لوگوں کی طرح

4) داد ہنر : ہنر کی تعریف

5)بصیرت : عقل،شعور،سمجھ

6)رہرواں : راہگیر (رہروان شوق :مراد محنت کش لوگ)

7)بانکپن : تیڑھاپن

8)غبار سفر : سفر کی مٹی مراد محنت کا صلہ

9)شوریدہ : پریشان،پریشان حال،دیوانہ

10) دشت : جنگل

11)پیمائش : ناپنا

12)راہ گزر : سڑکیں (بنیادی ضرورتیں)

13)بے منظری کی دھند :

  شاعر خود کی ذات میں اتنا کھویا ہوا ہے کہ  اسے سماجی برائیاں بھی دکھائی نہیں دیتیں۔

14)خویش : خود (چشم خویش نگر : خود کا خائزہ لینے والی آنکھیں)

15)تیشہ زنی : سخت لہجہ

16)شیوہ : طریقہ ،اصول

17)اہل قلم : قلم والے لوگ شاعر ،مصنف،ادیب ،تعلیم یافتہ لوگ

18)اپنا خورشید ،اپنی سحر : مراد خود کی قوم و ملت کے اصول و ضابطے

19)چراغ سے چراغ جلانا : دوسروں کے اصولوں پر زندگی گزارنا

Friday, 3 December 2021

غزل نمبر 3 - جگر مراد آبادی

    غزل نمبر 3  - جگر مراد آبادی

 الفاظ معانی :

1)مقامات : جگہ ، ٹھکانے ،درجے ،مدارج

2)ارباب جاں : جان کے مالک مراد انسان

3)لا مکان : عالم الٰہی ،آخرت

4)جستجو : تحقیق و تلاش (جنون جستجو : تحقیق و تلاش کی دھن )

5) جنون جستجو میں جہاں در جہاں کا ہونا :  کسی بات کی تحقیق کے دوران بہت سی ایسی نئی چیزیں نکل کر سامنے آتی ہیں جو  خود تحقیق طلب ہوتی ہیں۔ یہ سلسلہ قبر تک جاری رہتا ہے۔جہاں در جہاں کا ہونا یعنی کسی تحقیق کے دوران نئی نئی باتوں کا انکشاف ہونا۔

6) سیر گاہ : تفریح گاہ ، باغ ، منزل

7)انجم : ستارے ،سیارے 

8)قفس : پنجرہ ،قید خانہ 

9)آشیاں : گھر ،مکان 

10) صورت : کی طرح،کے جیسے (صورت آشیاں : مکان کی طرح دکھائی دینے والے 

11)ورا : کے علاوہ 

12) ورائے نگاہ و زبان اور بھی ہیں :  نگاہ و زبان سے  ظاہر ہونے والی باتوں کے علاوہ اور بھی طریقے ہیں جن سے ہم  دل کے حالات بیان کر سکتے ہیں۔ ہم اشارے اور کنائے سے بھی دل کے حالات بیان کر سکتے ہیں۔

13) صبا :  وہ ہوا جو مشرق سے چلے ، باد صبح

14) بدگمان : شکی ، شک کرنے والا

Tuesday, 23 November 2021

قطعات

                9قطعات (محمد ابراہیم ذوق)


       قطعہ نمبر 1


 الفاظ معنی

1)پیر زال =  بوڑھی عورت مراد دنیا

2) رشتہ الفت = محبت کا رشتہ

3)یہ بال : مراد یہ دنیا


2)معلومات فراہم کرکے سرگرمی مکمل کیجئے 

الف) پیر زال کا مطلب : دنیا 

ب)ردیف : دے 

ج) قافیہ :  توڑ ،جوڑ ،چھوڑ 

د)ہمزہ اضافت کی ترکیب : رشتہ الفت


 02 : قطعہ کی تشریح کیجیے /  پیرزال کے مفہوم کی وضاحت کیجئے۔

تشریح :

           ذوق زندگی گزارنے کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے کہتےہیں کہ یہ دنیا بہت بے مروت ہے اس لئے اس دنیا سے لگاؤ اور محبت کم ہی رکھنا چاہیے ۔یہ دنیا دل لگانے کا مقام نہیں ہے۔" جس سر کا بال ہے اسی سر میں جوڑنا" کا مفہوم یہ ہے کہ ہمارے دل میں دنیا کی اہمیت اتنی ہی ہونا  چاہیے جتنی کہ اہمیت دینے کا حکم ہے۔ دنیا کو اس کے اصل مقام پر ہی رکھنا چاہیے۔ اس سے محبت میں  تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا کو اپنی ضرورت کے لحاظ سے ہی استعمال کرنا چاہیے۔ مگر انسان کی فطرت ہے کہ دنیا کمانے کو ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھ بیٹھتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ  وہ دنیا کی محبت میں اتنا پاگل ہو جاتا ہے کہ اپنی آخرت کھو بیٹھتا ہے۔ شاعر اس دنیا سے رشتہ الفت توڑنے کی دوسری وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا کبھی بھی کسی کی نہیں ہوتی چاہے آپ  دنیا سے گود سے گور تک رشتہ الفت نبھاتے رہیں۔ یہ پیرزال(دنیا) اتنی بے مروت ہے کہ جب چاہے آپ سے رشتہ توڑ دیتی ہے۔ چاہے آپ دنیا سے وفا کرتے رہیں دنیا آپ کے کام نہیں آتی۔

     اس  قطعہ میں دنیا کی بے مروتی اور بے وفائی کا اظہار نہایت ہی جامع الفاظ میں کیا گیا ہے۔ شاعر نے صنعت استعارہ کا استعمال کرکے قطعہ کے حسن میں مزید اضافہ کیا ہے۔


                   قطعہ نمبر 2

الفاظ معانی :

1) اندازکلام دردمند : درد مند لوگوں کی باتوں کا انداز

2)  بے درد   :   بے درد لوگ

3)ہم سخن:ہم کلام ساتھی ،بات چیت کرنے والا ساتھی

4)دل خستہ :تکلیف زدہ، مصیبت زدہ،درد رکھنے والا

5) آہ : کلمہ افسوس ، آہ و زاری، غم میں آہیں بھرنا

6)نالہ : فریاد ،رونا 

7)موزوں : مناسب

8)مصرع برجستہ:بے ساختہ مصرع(جملہ)،بناوٹ سے پاک جملہ



02) : تشریح کیجیے / شاعر کی خواہش بیان کیجیے۔

تشریح :

           یہ امر فطری ہے کہ کسی کے درد کو وہی شخص اچھی طرح سمجھ سکتا ہے جو خود درد دل رکھتا ہوں۔ غم رسیدہ ہی ایک غم رسیدہ کا درد محسوس کر سکتا ہے۔ وہ شخص کسی کے درد کو کیا جانے جو کبھی کسی  تکلیف،دکھ درد  سے گزرا ہی نہیں۔ اس لئے شاعر آرزو کرتا ہے کہ میرے ساتھ گفتگو کرنے والا ساتھی(ہم سخن) کوئی مصیبت زدہ(دل خستہ) شخص ہی ہو تاکہ وہ میرا درد پوری طرح سمجھ سکے اور میرا دل ہاتھ میں لے سکے۔ صرف ایسا شخص ہی  میری دردمندی کی باتوں (کلام)کو سمجھ سکتا ہے۔ ایسےشخص نے ہی میرا ہمدرد بننا چاہیے۔ ایسا ہمدرد ہی اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے میرا درد دور کر سکتا ہے ۔مجھے تسلی دے سکتا ہے۔

         شاعر غمزدہ شخص کو بھی مشورہ دیتا ہے کہ درد مند کے سامنے اس کے منہ سے نکلنے والی ہر ایک بات دلکش ہو۔ اس کی بات بھی اتنی دلکش ہونی چاہیے کہ ہم درد شخص غم زدہ شخص کی طرف متوجہ ہوجائے اور اس کے غمزدہ تجربات کو خود سےجوڑ کراس سے اپنائیت محسوس کرے اور اس کو سمجھ سکے۔ ہمدرد شخص غمزدہ شخص کی طرف اسی وقت متوجہ ہوگا جب سنائی گئیں باتیں سادگی کے ساتھ کہی گئیں ہوں۔۔ اس میں بناوٹ نہ ہو۔ اس کی آہ و زاری مناسب اور بے ساختہ ( مصرع برجستہ) ہو۔

     اس قطعہ میں شاعر نے مخاطَب (سننے والا) اور مخاطِب (بولنے والا) دونوں کے لیے مشورے دئے ہے۔مخاطَب دل خستہ ہونا چاہیے اور مخاطِب جو بھی بات کرے وہ دلکش موزوں اور برجستہ ہونی چاہیے۔

                   قطعہ نمبر 3

الفاظ معانی:

1)آبلہ : چھالہ

2) پا :  پیر ، پاؤں

3)مور : چیونٹی 

4) تنور : تندور ، روٹی سیکھنے کی بھٹی


5)تنور طوفان : قرآن میں اللہ نے ارشاد فرمایا :

حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ قُلۡنَا احۡمِلۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الۡقَوۡلُ وَ مَنۡ اٰمَنَ ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۴۰﴾
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابلنے لگا ہم نے کہا کہ اس کشتی میں ہر قسم کے ( جانداروں میں سے ) جوڑے ( یعنی ) دو ( جانور ، ایک نر اور ایک مادہ ) سوار کرا لے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی سوائے ان کے جن پر پہلے سے بات پڑ چکی ہے اور سب ایمان والوں کو بھی اس کے ساتھ ایمان لانے والے بہت ہی کم تھے 
تنور یا التنور ایک روٹی سیکھنے کی بھٹی ہوتی ہے۔حضرت نوح کے وقت بارش اتنی زیادہ ہوئی تھی کہ زمیں سے پانی ابلنے لگا۔یہاں تک کہ آگ کی بھٹی "تنور" سے بھی پانے ابلنے لگا اور ایک طوفان کی شکل اختیا ر کرگیا۔شعر کا مطلب یہ ہے کہ تنور جیسی معمولی چیز بھی طوفان کی وجہ بن سکتی ہے جو دنیائےعشق کو تباہ کر سکتی ہے۔
طوفان نوح کی مزید معلومات :
      https://www.facebook.com/294482190722019/posts/1670330796470478/

(*)سرگرمی نمبر 01 


۲) قطعہ سے معلومات اخذ کرکےسرگرمی مکمل کیجئے

1)صنعتیں : الف) تضاد۔     ب)مبالغہ

2)ہمزہ اضافت : آبلۂ پائے مور

3)زیر اضافت کے الفاظ : راہ عشق،رہ دشوار ،تنور طوفان

 4)شاعر کا تخلص = ذوق

You can take help from textbook of class : 7,8👇





سرگرمی نمبر 02: مندرجہ ذیل کی استحسانی وضاحت (تشریح) کیجیے۔/ 'راہ عشق' کی خصوصیات بیان کیجیے

تشریح :
 شاعر کہتا ہے کہ عشق کی راہ سے گزرنا آسان نہیں ہے۔ یہ بہت ہی دشوار گزار راستہ ہے۔ اس لیے راہ عشق میں قدم سنبھال کر رکھنا چاہیے۔ یہ عام فہم بات ہے کہ راستے میں موجود معمولی سی چیونٹی  کسی راہگیر کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بنتی۔چیونٹی اس کا  راستہ نہیں روک سکتی۔ مگر راہ عشق کا معاملہ الگ ہے۔ اس راہ میں چیونٹی جیسی معمولی چیز بھی بہت بڑا رخنہ پیدا کر سکتی ہے۔ یہاں تک کہ چیونٹی کے پاؤں کا چھالا بھی عشق کی بربادی کی وجہ بن سکتا ہے۔چیونٹی کے پاؤں کے چھالے کےاندر موجود پانی بھی عشق کی کشتی کو ڈبونے کے لیے سیلاب اور تلاطم  کا کام کر سکتا ہے۔ لہذا عشق کی راہ میں معمولی سے معمولی باتوں سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ راہِ عشق میں چھوٹی بڑی رکاوٹیں آجائے تو انہیں فوراً دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی بات کو شاعر نے صنعت تلمیح کا استعمال کرتے ہو ئےسمجھایا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جس طرح حضرت نوح کے گھر کے تنور سے نکلنے والے پانی نے ایک طوفان کی شکل اختیار کر لی تھی جس میں پوری دنیا ڈوب گئی تھی اسی طرح چیونٹی کے پیر کے چھالے کا پانی بھی طوفان برپا کر سکتا ہے۔ اس لیے راہِ عشق میں معمولی سے معمولی باتوں پر توجہ دینی چاہیے۔
           شاعر نے اس قطعہ میں صنعت تلمیع کے علاوہ صنعت تضاد ،صنعت استعارہ اور صنعت مبالغہ بھی استعمال کیا ہے۔


                 قطعہ نمبر 4
الفاظ معانی :
1)جلوئہ گل ہائے رنگا رنگ:مختلف قسم کے پھولوں کا نظارہ
2)نرگس : ایک پھول کا نام جو آنکھ سے مشابہ ہوتا ہے
3)وا : کھلی ہونا (چشم وا ہے : آنکھ کھلی ہے مراد بصارت و بصیرت)
4)آخرش : آخر کار

5) خزاں : پت جھڑ کا موسم ( یہاں مراد ہے موت)

6)نشو  و نما سے پہلے : مراد پیدائش سے پہلے ،نیستی
7)کوئی دم : کچھ وقت کے لیے
8) چمن : باغیچہ (یہاں مراد ہے دنیا)
سرگرمی نمبر 01







سرگرمی نمبر 02 :قطعہ کی تشریح کیجییے /  شاعر کو جس بات کا یقین ہے اسے تحریر کیجیے


تشریح :

          یہ دنیا بے ثبات ہے۔ نا پائیدار ہے۔ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ اس کڑوی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ اس دنیا میں جب تک ہماری آنکھیں کھلی رہتی ہیں اس وقت تک ہم طرح طرح کے رنگوں کے پھولوں کا نظارہ کرتے رہتے ہیں۔ یعنی جب تک ہم زندہ ہیں ہم اس دنیا کی رنگارنگی کا مزہ لیتے رہتے ہیں۔ مگر یہ سرمستی کب تلک؟ آخر زندگی میں موسم بہار کب تلک؟ ایک نہ ایک دن ہماری زندگی اختتام کو آجاتی ہے اور ہماری ہستی ویسی ہی ہو جاتی ہے جیسے کہ ہم پیدائش سے پہلے تھے یعنی ہم کچھ نہیں تھے۔ ہم نیستی میں تھے۔ جس طرح مختلف انواع کے پھول موسم بہار میں کھل اٹھتےبیں اور موسم خزاں آنے پر ناپید ہو جاتے ہیں  ٹھیک اسی طرح ہماری بھی زندگی ہے۔ مگر اللہ کا شکر ہے کہ کچھ وقت کے لئے ہی سہی مگر اس نے ہمیں موسم بہار کا سماں دیکھنے کا موقع دیا۔ اور ہم مختلف انواع کے پھولوں کو دیکھ سکے۔ اور زندگی کے مزے لے سکیں۔ ورنہ موسم خزاں میں تو ہم چمن میں موجود گل بوٹے سبزہ اور ہوا دیکھ نہیں سکتے تھے۔

    شاعر نے اپنی آنکھوں کے لیے تشبیہ(مثل نرگس) کا استعمال کرکے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اس نے دنیا کے نظاروں کو اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے بڑے تجسس اور مسرت کے ساتھ دیکھا ہے۔ نرگس کا پھول آنکھ سے مشابہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے لیے چمن کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔صنعت مزیل (گلشن ،گل) اور صنعت مراعات النظیر کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔

Thursday, 4 November 2021

08 - رباعیات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میر انیس

      08- رباعیات۔۔۔۔۔۔میر انیس

  👈 رباعی نمبر 01:

 الفاظ معنی ::

  1)دار فنا  :  موت کا گھر مراد دنیا

2) دام : پھندا ، جال (دام بلا : مصیبت کا جال)

3) : عدم

  • کسی کام کے نہ کرنے یا کسی چیز کے نہ ہونے کی حالت، کسی امر کا نہ ہونا، (مرکبات میں نفی کے معنی میں آتا ہے) جیسے:عدم پیروی، عدم تعمیل، عدم تشدد وغیرہ
  • نیستی، نہ ہونا، ناپیدی، نابودگی، معدوم ہونے کی حالت
  • غیر حاضری
  •  ہمارے پیدا ہونےکے پہلے کا زمانہ

 5) کارواں : قافلہ 

6) سرا: سرائے،مسافر خانہ، lodge

(*) ہدایت کے مطابق سرگرمیاں مکمل کیجئے 

👈کیا سوچ کے اس دار فنا میں آئے

 آفت میں پھنسے، دام بلا میں آئے

 اس طرح عدم سے آئے دنیا میں انیس

 جیسے کوئی کارواں سرا میں آئے

(1) خاکہ مکمل کیجئے۔




(2)
 ان اشعار میں شاعر کے پیغام کی استحسانی وضاحت کیجئے/تشریح کیجئے

 تشریح:  ہم کیا سوچ کر اس دنیا میں آئے تھے؟  کہ پرسکون زندگی گزاریں گے۔ مگر اس دمیں ایسی پریشانیاں ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں آنا خود کو مصیبتوں میں گرفتار کروانا ہے۔ یہاں اتنی مصیبتیں اور پریشانیاں ہے کہ انسان ان کے ہی جال میں زندگی بھرپھنسارہتا ہے۔ پیدائش کے بعد سے ہی ان مصیبتوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے  ہے اور موت تک جاری رہتا ہے۔ انسان سکون کی امید میں اور عیش و عشرت کی چاہ میں تمام مصیبتوں اور  آفتوں کو برداشت کیے جاتا ہے۔ یہاں تک کہ موت کا وقت آجاتا ہے۔ جب انسان اپنی زندگی پر غور کرتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ ہم نے زندگی کو پرسکون بنانے کے لئے مصیبتیں اور مشقتیں اٹھائی ہیں۔ مگر سکون نصیب نہیں ہوا۔ زندگی دیکھتے ہی دیکھتے ختم ہونے جا رہی ہے۔ اسے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی کی میعاد تو بہت ہی قلیل ہے۔ اس قلیل مدت کو بیان کرنے کے لیے شاعر نے ایک تشبیہہ کا استعمال کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کوئی مسافر یا کوئی کارواں جب کسی سفر پر روانہ ہوتا ہے تو دوران سفر رفع تھکن کیلئے رات میں کسی سرائے میں آرام کرتا ہے۔وہ اس  سرائے میں  تھوڑا ہی وقت گزارتا ہے اور  اپنی منزل کی طرف کوچ کر دیتا ہے ۔ ہماری زندگی بھی اسی سرائے  میں گزارے ہوئے لمحات کے مانند ہے۔ جس طرح ایک مسافر سرائے میں کچھ وقت  آرام کرنے کے بعد  سفر پر نکل پڑتا ہے اسی طرح ہمارا بھی اصل سفر موت کے بعد کی زندگی ہے۔ اس دنیا میں ہم کچھ وقت گزارنے کے لیے آئے ہیں

Sunday, 17 October 2021

7- زندگی سے ڈرتے ہو

   7- زندگی سے ڈرتے ہو

                        (ن۔م۔ارشد)

الفاظ معنی

1)رشتہ ہائے آہن:مضبوط رشتہ

2)حرف اور معنی کے رشتہ ہائےآہن سے، آدمی ہے وابستہ

 آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ: آدمی اور دوسرے انسانوں کی زندگی کے درمیان میں ایسا ہی رشتہ ہے جیسے کہ  حرف اور اس کے معنی کے درمیان میں رشتہ ہے۔ انسان اس رشتے کو توڑنے سے نہیں ڈرتا

3) پہلے بھی تو گزرے ہیں دور نارسائی کی: قدیم زمانوں میں ایسی مثالیں ملتی ہے جب ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی۔ اور ناکامی ہاتھ لگی تھی۔

4) شب زباں بندی : زبان سے اظہار کرنے کی پابندی۔

5)رہِ خدا وندی:حکمرانوں کا طریقہ یا اصول

6)دیو کا سایہ، رات کا لبادہ:خوف و اندیشوں کا اثر، ظلم و ستم کا دور

7)ازدحام انسان: ہجوم ، بھیڑ، کارواں

8)راہرو :راہ گیر ،مسافر

Monday, 4 October 2021

۲- خیر صفات رسول

 - خیر صفات رسول ﷺ

۱)قوسین مقام  =مراد آپ ﷺ ( معراج میں وہ مقام جہاں آپؐ اور اللہ کے درمیان فاصلہ دو کمان کے برابر تھا

2) جسم پہ بارش سنگ : ان الفاظ میں طائف کے مقام پر آپؐ پر کیے گیے مظالم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔آپؐ پر کیے گئے مظالم کا مختصرا" تذکرہ اس لنک میں شامل آرٹیکل میں کیا گیا ہے

https://www.express.pk/story/881969

(اس لنک کو کاپی پیسٹ کرکے اوپن کیجیے )

(*) درج ذیل  اقتباس کا بغور مطالعہ کرکے دی ہوئیں سرگرمیاں ہدایت کے مطابق مکمل کیجئے:

1) خاکہ مکمل کیجیے










(*) متعلقہ معلومات لکھ کر خاکہ مکمل کیجیے















(*)خالی جگہ پر کیجیے






نوٹ : اپنے طلبہ کو لغت اور ڈکشنری کے استعمال کی عادت ڈالیں ۔ لغت اور ڈکشنری کا استعمال تفہیم کے عمل کو آسان بنا دیتا ہے ۔نیز زبان دانی میں کلیدی رول ادا کرتا ہے

لغت کو اس لنک کی کاپی کو پلے اسٹور میں پیسٹ کرکے  ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

http://play.google.com/store/details?id=com.vovoapps.lughatoffline

رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان

 رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان فیچر نویس: (لئیق احمد محمدصادق، مانورہ،ضلع باسم) :                 رمضان المبارک کا م...