XI CLASS URDU

Followers

About Me

My photo
Manora ,District :Washim 444404, Maharashtra , India

Monday, 22 June 2020

1)-میری دعا

     1) - میری دعا     (صفی اورنگ آبادی)


https://youtu.be/egRV1HKgzQo?si=Ay2njGLHf2p0z5B8

(لنک کو کاپی پیسٹ کیجیے )


   1)کونین =دونوں جہاں (دنیا+آخرت)       2)غمگسار =ہمدرد، تیماردار
  3)مئے =شراب     4)خوشگوار =اچھے ذائقہ والی   5)گردشِ لیل ونہار =دن اور رات کا چکر مراد زندگی کے اتار چڑاو، آفت ومصیبت،پریشانی، خرابی قسمت  6) نالہ  =فریاد کرنا، روتے ہوئے کچھ کہنا  7)جگر گداز = دل پگھلانے والا، متاثرکن   8)نفس = سانس  9)داتا = فیاض، سخی  10)سائل = مانگنے والا   8)شیوہ =طریقہ   9)مستعار زندگی = ادھار لی ہوئی زندگی مراد دنیاوی زندگی جو مختصر سی ہوتی ہے 9) بقائے دوام =ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی مراد مرنے کے بعد کی زندگی
10)درکار = مطلوب
--------------------------------------____-----------------___________-----------------_______--------------------





https://youtu.be/UomrTnHlR2Q

 


***********************★★***************************★*****★*★**********★************

اشعار کی استحسانی تشریح /استحسانی وضاحت:



























(*) ہدایات کے مطابق درج ذیل سرگرمیاں مکمّل کیجئے


1) مناجات میں اللہ تعالیٰ سے جن باتوں کی التجا کی گئی ہے، انہیں تفصیل سے لکھیے

جواب : (طلبہ اوپر دی گئیں 11 اشعار کی تشریحات کو یک کے بعد دیگرے مختصراً لکھیے) 

2)دنیا میں محبت کی قدر کی بقا کے لئے شاعر کی خواہش تحریر کیجیے 

جواب : (طلبہ نظم کے شعر نمبر 7 کی تشریح سے استفادہ کریں 

3)مناجات کی روشنی میں خدا کی صفات کے بارے میں لکھیے 

جواب : اللہ وہ ہے جو ہر ایک کی بگڑی سنوارتا ہے. اللہ اسے سے ہی مانگنے کا حکم دیتا ہے وہ حاجت روا ہے. دل کو اطمینان بس خدا ہی دے سکتا ہے. وہ غم کے ساتھ غم گسار بھی دیتا ہے. اچھے برے کی تمیز بھی خدا ہی دے سکتا ہے. خدا سخی ہے. خدا اپنے فضل و کرم سے سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹا تا اس سے جتنی بار مانگو وہ اتنی بار عطا کرتا ہے. اس سے ایک مانگو وہ ہزار دیتا ہے 

4)حفاظت سے متعلق شاعر کی التجا کو بیان کیجیے 

جواب :(طلبہ شعر نمبر 6 کی تشریح سے مدد لیں) 

5)دنیا سے متعلق شاعر کے احساسات اور دعا کو لکھیے

جواب :شعر نمبر 7 کی تشریح دیکھیے

(*) درج ذیل کی استحسانی وضاحت کیجیے

جواب:(اشعار کی استحسانی وضاحت اوپر دی جا چکی ہے)

(*) درج ذیل مصرعے پر ذاتی رائے دیجیے

جواب : طلبہ ذاتی رائے از خود تیار کریں)

(*)ہدایات کے مطابق درج ذیل قواعدی سرگرمیاں مکمّل کیجیے

1) بقائے دوام اور زندگی مستعار جیسی ترکیبوں کے بارے میں لکھیے
جواب :طلبہ اس کا جواب خود تیار کریں
2)مناجات سے صنعت تضاد کا شعر تلاش کر کے لکھیے
جواب :محفوظ رکھ فریب سفید و سیاہ سے           گردش نہ مجھ کو گردش لیل و نہار دے


(*) درج ذیل فقروں کے لیے صرف ایک مصرعہ لکھیے 

(طلبہ یہ سرگرمی از خود حل کیجیے) 

👈صحیح متبادل کا انتخاب کرکے خالی جگہ پر کیجیے

   4) کونین میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ذلیل نہ کر۔
الف) سب کے روبرو۔   ب) سب کے سامنے
ج) ہرایک کے سامنے

5) دل کو ہر ایک طرح سے مطمئن بنانے کے لئے شاعر نے غم کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مانگا
الف) خوشگوار۔  ب) غمگسار  ج)شعلہ بار

6) لذت دیدار ہر دم مجھ کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔دےگا
الف)کیف مئےخوشگوار     ب)کیف مئے ناخوشگوار       ج) کف مئے خوشگوار

7) شاعر زندگی کے سبق سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا مطلب سمجھنا چاہتا ہے
الف)بقاۓ دوام   ب)زندگی مستعار  ج)عزت وذلت

8) میں بار بار مانگو جو اے خدا مجھے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دے
   الف)بار بار۔      ب)ایک بار۔      ج) ہر بار




نوٹ : اپنے طلبہ کو لغت اور ڈکشنری کے استعمال کی عادت ڈالیں ۔ لغت اور ڈکشنری کا استعمال تفہیم کے عمل کو آسان بنا دیتا ہے ۔نیز زبان دانی میں کلیدی رول ادا کرتا ہے

لغت کو اس لنک کی کاپی کو پلے اسٹور میں پیسٹ کرکے  ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

http://play.google.com/store/details?id=com.vovoapps.lughatoffline


Wednesday, 10 June 2020

4- نیا شاعر اور زندگی کے مسائل

  4)- نیا شاعر اور زندگی کے مسائل

۷

"شعلے کی شناخت" سے مراد ہے — انسان کے اندر کی وہ روشنی، جذبہ یا انفرادیت جو اسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔

اور "سرگرداں" یعنی تلاش میں، جستجو میں، بےقرار۔


👈"ربط ملت کے لیے فرد کا فنا ہونا ناگزیر نہیں ہے "

(وضاحت از طرف مرحوم قاضی حسن الدین، شاہ بابو جونیئر کالج پاتور، ضلع آکولہ) 

انفرادیت اور اجتماعیت یہ دونوں الگ الگ نظریات ہیں ۔فرد اور ملت لازم و ملزوم ہیں ۔اقبال نے کیا خوب کہا ہے 
فردقایم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں 
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں 
اجتماعیت کا نظریہ انسانوں کو نظم و ضبط کے ساتھ اجتماعی زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے ۔ملت سے ربط کے بغیر فرد کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی  ۔موج کی ہستی دریا میں ہے بیرون دریا اس کا کوئی وجود نہیں ۔
دوسرا نظریہ انفرادیت کا ہے۔فرد  کی پسند نا پسند اور انفرادی فیصلوں پر اجتماعیت غالب نہ آئے ۔مغرب اس نظریہ کا حامی ہے ۔وہ کسی بھی فرد کو مذہب، خوردونوش، اور ازدواجی رشتوں کے اجتماعیت کا پابند نہیں بناتا ۔فرد جو مذہب چاہیے اختیار کریں جیسا چاہیے کھائے پئے اور جو لباس چاہیے پہنے۔اس معاملے میں وہ اعتدال سے اتنا بھٹکے کہ ہم جنس پرستی کو بھی انفرادیت کے نام پر حلال قرار دے دیا ۔
مصنف کہتا ہے کہ ربط ملت کے لیے فرد  کا فنا ہونا نا گزیر نہیں ہے یعنی ملت و قوم کی فلاح و بقا کے لئے آدمی کی انفرادیت کو قربان نہ کیا جاے ۔یہ بات شاعری کے پس منظر میں کہی گئی ہے ۔کسی شاعر کو مروجہ اسالیب، نظریات، استعارات و تشبیہات اور ردیف و قافیوں کا پابند کرنا اصل میں اس کی انفرادیت کو ختم کرنا ہے ۔شاعر کو یہ آزادی چاہیے کہ وہ جس اسلوب میں چاہے اپنے خیالات و نظریات کی ترسیل کرسکے ۔
مندرجہ بالا محاکمے کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ کسی بھی معاملے میں افراط و تفریط ادمی کو راہ راست سے بھٹکا دیتی ہے ۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اعتدال کی راہ اختیار کریں ۔ملت کی بقا کے لیے اتنا غلو نہ کرے کہ فرد کی privacy ہی داو پر لگ جائے اور فرد کو اتنی آزادی بھی نہ دی جائے کہ وہ انفرادیت کے چکر میں اجتماعیت کو تباہ و برباد کردے۔

(*) نورتن تاریخ کے جھروکے میں :

مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر نے 14سال کی عمر میں اپنے والد بادشاہ ہمایوں کے انتقال کے بعد حکومت سنبھالی جس میں سب سے اہم کردار اُنکے اتالیق بیرم خان کا تھا۔اُنھوں نے اپنی سرپرستی میں انتہائی وفاداری کے ساتھ اُنھیں ہندوستان کے تخت پر بٹھایا اور پھر ہندوستان کے شورش زدہ علاقوں میں سازشوں کا سد ِباب کیا۔اسطرح بادشاہ اکبر نے 1556ء تا1605ء تک تقریباً پچاس سال ہندستان پر حکومت بھی کی اور اس دوران اپنی سلطنت کو وسعت دینے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اس دوران شہنشاہ اکبر ِاعظم کے اہم درباریوں میں وہ "نورتن”بھی شامل تھے جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ باکمال تھا اور اُن سب کی زندگی کے چند اہم پہلو ہی اُنکی وہ پہچان بنے جسکی وجہ سے آج بھی اُنکا ذکر مختلف شعبوں میں اہم سمجھا جاتا ہے۔
1- راجا بیربل:
اکبر اعظم کے نورتنوں میں سے ایک برہمن ہندو ۔نام مہیش داس ،ذات بھاٹ ۔ابتدا میں نہایت غریب اور پریشان حال تھے۔اکبر کی تخت نشینی پر دربار میں حاضر ہوئے اور اپنی لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی کی وجہ سے بادشاہ کا قُرب حاصل کر لیا۔اکبر اُنھیں صاحب ِدانشور کہا کرتے تھے ۔ سنسکرت کے عالم تھے۔ بیربل مہم یوسف زئی (سوات و باجوڑ)کی لڑائی میں مارے گئے اور لاش نہ مل سکی ۔اس پر بادشاہ اکبر کو اتنا صدمہ ہوا کہ اُنھوں نے دو دن کھانا نہیں کھا یا ۔
2- ابوالفیض فیضی :
دربار اکبری کے رتن،شیخ مبارک کے بیٹے ، ابوالفضل کے بڑے بھائی ،بلند خیال شاعر اور شگفتہ مزاج عالم تھے۔ قرآن مجید کی تفسیر سواطع الالہام تحریر کی۔ جس میں نقطے والا کوئی حرف نہیں لکھا۔بارھویں صدی کے ثمر قند کے نظامی گنجوی کی مشہور ِزمانہ خمسہ ء نظامی (پانچ مثنویوں) کے جواب میں مثنویاں لکھ ڈالیں۔ہندوئوں کی اہم کتاب مہا بھارت کا ترجمہ فارسی میں کیا۔اپنے علم و حکمت کی وجہ سے شہزادوںکے اتالیق بھی رہے۔ دمہ کی بیماری میں 52سال کی عمر میں انتقال ہوا۔
3- ابو الفضل:
1572ء میں اپنے بڑے بھائی فیضی کے ساتھ دربار ِاکبری میں باریاب ہوئے اور 1600ء میں منصب ِچار ہزاری پر فائز ہوئے۔اپنے وقت کے علامہ اور بلند پایہ مصنف تھے۔علامی تخلص تھااور آزاد خیال فلسفی ہونے کی وجہ سے علماء اُنھیں دہریہ سمجھتے تھے۔اسی لئے اکبر کے "دین الٰہی” کے اجراء کا سبب اُنہی کو گردانا جاتا ہے۔”اکبر نامہ” اور” آئین اکبری” اہم تصانیف اور خطوط کا مجموعہـ” مکتوبِ علامی "فارسی ادب کا شکار سمجھا جاتا ہے۔شہزادہ سلیم (جہانگیر)کا خیال تھا کہ ابو الفضل اُسکے بیٹے خسرو کو ولی عہد بنانا چاہتے ہیں لہذااُنکے اشارے پر راجہ نر سنگھ دیو نے 53سالہ ابو الفضل کو اُس وقت قتل کر دیا جب وہ دکن سے لوٹ رہے تھے۔اعلیٰ ترین خوبی یہ تھی کہ کمال کے واقعہ نویس تھے۔
4- تان سین:
دربارِاکبری کے ایک ایسے اہم نورتن تھے جنکا نام آج بھی ہندوستان کے موسیقار ِاعظم کی حیثیت میں ہر ایک کی زبان پر ہے۔برصغیر ِکی کلاسکی موسیقی اُنکے راگوں پر ہی زندہ ہے۔ لہذا اُنکے بعد آنے والے اُستادوں نے راگ ودیا میں تبدیلی نہیں کی۔”دھرپت راگ” کو موجودہ فنی شکل تان سین نے ہی دی تھی۔درباری کانٹرا ،میاں کی ملہار اور میاں کا سا رنگ جیسے راگ بھی اُنہی کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ وفات پر شنہنشاہ اکبر نے بھی شرکت کی۔
5- عبدالرحیم:
آپ بیرم خان کے فرزند تھے اور لاہور میں پیدا ہوئے۔والد کے قتل کے بعد جب ابھی اُنکی عمر 5سال تھی تو بادشاہ اکبر نے اُنھیں اپنے پاس بُلا لیا اور شہزادوں کے ساتھ پرورش کی۔ 20سال کی عمر میں شہزادہ سلیم (جہانگیر)کا اتالیق بنایا گیا۔ نہایت حسین تھا۔ مختلف معرکوں میں سپاہیانہ جوہر دکھائے اور کئی بغاوتوں کو ناکام کیا۔بہادر سپاہی ،عالم فاضل اور عربی،فارسی،ترکی ،سنسکرت کے ماہر تھے۔ ہندی میں شعر کہتے تھے۔ان سب خوبیوں کی وجہ سے اہم نورتن رہے۔ اُنکی وفات بادشاہ جہانگیر کے دور میں ہوئی۔
6- راجہ مان سنگھ:
برہمن ہندو تھے۔اُنکی وفاداری اور ملنساری اکبر بادشاہ کے دل پر نقش ہو گئی۔اُنکی رفاقت نے بادشاہ کو اپنائیت اور محبت سکھائی۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ اُنکی وجہ سے اکبر بادشاہ کو ہندوستان میں پذیرائی حاصل ہوئی اور تیموری خاندان کی بنیاد بھی مضبوط ہوئی۔بہادری اور جوانمردی میں اپنی مثال آپ تھے لہذا سپہ سالار بھی مقرر ہو ئے۔اُنکی بہن کی شادی جہانگیر سے ہوئی اور پھر جہانگیر کے بیٹے خسرو کے اتالیق بھی مقرر ہوئے۔
7- مُلا دوپیازہ:
اصل نام ابوالحسن اور پیدائش طائف نزد مکہ مکرمہ (عرب) کی تھی۔والد سوتیلی ماں سے اختلاف کی بنا پر گھر چھوڑ گئے تو اُنکی تلاش میں قافلہ در قافلہ سفر کرتے ہوئے ایران پہنچ گئے۔وہاں سے مغل فوج میں تعلق کی بناپرہندوستان آگئے اور ایک مسجد میں قیام کر لیا۔اپنی خوش خلقی اور لطیفہ گوئی سے شہر میں شہرت ہوئی تو ایک دعوت پر مدعو ہونے پر کھانا بہت پسند آیا ۔کھانے کا نام پوچھا تو جواب ملا کہ” دوپیازہ پلائو”۔اُنھوں نے کہا کہ آئندہ کسی بھی دعوت میں شرکت پر اس کھانے کی تمنا ہو گی۔بس وہاں سے ہی اس نام سے مشہور ہوگئے ۔60برس کی عمر میں بیماری کی وجہ سے انتقال ہوا۔
8- راجہ ٹو ڈرمل :
ذات میں کھتری ہندواور دربار ِاکبری میں مقام 22صوبوں کا دیوانِ کُل اور وزیر باتدبیر تھے۔بیوہ ماں کی دُعائوں سے اعلیٰ رُتبہ پایا۔سپاہ گیری اور سرداری کے جوہر نے بھی اُنکی اہمیت اُجاگرکی ۔پابندی ِآئین احکام میں کسی کو رعایت نہیں دیتے تھے لہذا اُن پر سخت مزاجی کا الزام تھا۔انتہائی قابل،معاملہ فہم اور دانشمند کہلائے۔بڑھاپے میں بیماری کی وجہ سے وفات پائی۔
9- مرزا عزیز کوکلتاش :
آپ کی والدہ نے اکبر کو دودھ پلایا تھا لہذا وہ اکبر بادشاہ کے رضاعی بھائی کہلائے اور اس وجہ سے اُنکا حترام بھی بہت تھا۔خان اعظم کا خطاب بھی حاصل ہوا۔ بادشاہ ہر وقت اُنھیں اپنے ساتھ رکھتے تھے اور ہاتھی پر سواری کے وقت اُنھیں خواصی پربٹھاتے تھے۔ ایک طرف سخاوت و شجاعت کی وجہ سے درباری پسند کرتے تھے تو دوسری طرف غصے و سخت مزاج کی وجہ سے چند اچھے انسان اُن سے نالاں بھی تھے۔ طبیعت میں زمانہ سازی بالکل نہ تھی۔ سپاہی کمال کے تھے ۔علمی وعملی صلاحیتوں میں عالمانہ مقام تھا۔فارسی کے ماہر تھے۔طبعی موت پائی۔

ہدایت کے مطابق سرگرمیاں حل کیجیے 

اقتباس نمبر 1 صفحہ نمبر 22: ہمارے عہد کی معاشرت کا سب سے بڑا المیہ.................. میری ذات غیر مشروط ہیں 
 سرگرمیاں از طرف صبیحہ مومن میڈم، ممبئی 


                مشقی سرگرمیاں (صفحہ نمبر 25)




























Sunday, 7 June 2020

٣- شال - علی عباس حسینی

     ٣-   شال -  (علی عباس حسینی)


(اقتباس کے لحاظ سے سرگرمیاں پڑھنے کے لیے مندرجہ بالا لنک☝️کو کاپی پیسٹ کریں)



(*) خاکے پر مبنی سرگرمیاں 



ہدایات کے مطابق درج ذیل سرگرمیاں مکمّل کیجئے 

1)افسانے کی تعریف بیان کرکے اس کے اجزا کی نشاندہی کیجئے 


4)حمیدہ کی اس وقت کی کیفیت بیان کیجئے جب عبید نے اس کے کندھوں پر شال ڈالی



5)منع کرنے کے باوجود حمیدہ کے شال دینے پر عبید نے جو کچھ طے کیا، اسے تحریر کیجیے 


6)رکشے پر بیٹھتے وقت عبید نے سردی سے بچنے کا جو انتظام کیا، اسے بیان کیجیے
  (یا)






8 )عبید کی ذمہ داریاں بیان کیجیے




10)حمیدہ کا چور کو کوسنا بیان کیجیے 




13)افسانے کی روشنی میں اس کے کرداروں کا تعارف پیش کیجئے
عبید، حمیدہ، رکشے والا، عیدن

جواب :طلبہ یہ سرگرمی از خود حل کیجئے





(*) اسباب بیان کیجیے 

1) سخت سردی کے باوجود عبید کا شال نہ اوڑھنا :



3)عبید کا تعجب میں پڑنا:





(*) درج ذیل جملوں کی استحسانی وضاحت کیجئے

https://drive.google.com/file/d/15gVW5jO_FOU3iN5Jqj3tqlkYSQoXHGyF/view?usp=drivesdk
(جملوں کی استحسانی وضاحت مندرجہ بالا ☝️لنک پر کاپی کر کے حاصل کی جا سکتی ہے)










(*) ذیل میں دیے ہوئے موضوعات پر ذاتی رائے تحریر کیجیے 

(طلبہ ان سرگرمیوں کو از خود حل کیجیے) 

(*) ہدایت کے مطابق درج ذیل قواعدی سرگرمیاں مکمّل کیجئے 

1)محارے اور ان کا مفہوم 
1)مل ول جانا =سلوٹیں پڑجانا  2)کھوے سے کھوا چھلنا=بہت تکلیف ہونا 3)جان کھپانا =سخت محنت کرنا  4)پیچ و تاب کھانا =بیقرار ہونا 5)پانی پانی ہونا =بہت شرمندہ ہونا
        (ان محاوروں کا جملے میں استعمال طلبہ از خود کریں ) 

2)سبق سے رکشے والے کی مقامی زبان کے فقرے الگ کیجئے انہیں معیاری زبان میں لکھیے

     (طلبہ یہ سرگرمی از خود تیار کریں) 

...................................................................................................................................

            👈ایک جملے میں جواب دیجیے👉

1) چار باغ اسٹیشن کو لڑکی کی رخصتی کے بعد  کا گھر کہا گیا ہے وجہ بیان کیجیے۔  جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2) عبید نے اپنی بیوی کی دی ہوئی شال نہ نکالی اسباب بیان کیجیے۔   جواب:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3) حمیدہ کی خواہش کے بارے میں معلومات دیجئے۔ جواب:۔۔۔۔۔۔۔۔
4) حمیدہ کی شال کی خوبصورتی بیان کیجیے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5) رکشے پر بیٹھتے وقت عبید کے پاس موجود سردی سے حفاظت کرنے والی چیزوں کا ذکر کیجئے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
6) پگلی کے تعلق سے شہر کے دولت مند لوگوں کی لاپرواہی بیان کیجیے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
7) عبید نے شال کے تعلق سے کون سے جھوٹی کہانی گھڑی بیان کیجیے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
8) شال چوری ہونے کی خبر سن کر حمیدہ پر ہونے والے ردعمل کو بیان کیجئے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
9) ماما عیدن نے حمیدہ کو جو مشورہ دیا اسے بیان کیجئے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  👈 متبادلات پر مبنی سرگرمیاں/ خالی جگہ پر کیجیے👉

1) عبید جب ٹرین سے اترا تو اس وقت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بج جکے تھے
2)   عبید جشن بہار کے مشاعرے میں شریک ہونے۔۔۔۔۔۔گیا تھا
3)۔۔۔۔۔۔مہینے میں عبید جشن مشاعرہ میں شریک ہونے گیا تھا
4) حمیدہ نے شال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں رکھا تھا۔
5)موۓ کیڑے کی کیا مجال کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
6) حمیدہ تھوڑی دیر سوچتی رہی پھر جھپٹ کر اپنی چہیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نکال لائی
7) رکشے والا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا
8) عبید نےحمیدہ کی شال کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تہہ کھول کر ٹخنوں پر لٹکا دیا۔
9) رکشے والا اپنی ٹھنڈک دور کرنے کے لیے رکشہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلا رہا تھا۔
10) رکشے والے کے چہرے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھلک رہے تھے
11) جہاں ہاتھ پر ہاتھ ڈھرے بیٹھے رہے ، وہاں اپنی ہی جسم کی گرمی۔۔۔۔۔۔۔ بن جائیں گی
12) اس نے پوچھا ،'کہاں کے رہنے والے ہو؟
وہ بولا،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ
13) سارے  پردیسی  لکھنؤ کے ہر سفید پوش کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پکارنے لگتے ہیں۔
14) عبید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں کام کرتا ہے۔
15)پگلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر پڑی تھی
16) حمید نے اٹیچی کیس کھولا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
17)عبید  نے جھوٹی کہانی گھڑی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔
18)حمیدہ نے گھبرا کر عبید سے بلند آواز میں پوچھا۔۔۔۔۔۔
19)  مسافروں نے شال جس طرح لے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔
20) معلوم ہوتا ہے شال کروٹ لینے میں پھسل کر۔۔۔۔۔۔۔۔
21)عبید نے شرم سے گردن جھکائی اور۔۔۔۔۔۔۔۔







نوٹ : اپنے طلبہ کو لغت اور ڈکشنری کے استعمال کی عادت ڈالیں ۔ لغت اور ڈکشنری کا استعمال تفہیم کے عمل کو آسان بنا دیتا ہے ۔نیز زبان دانی میں کلیدی رول ادا کرتا ہے

لغت کو اس لنک کی کاپی کو پلے اسٹور میں پیسٹ کرکے  ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

http://play.google.com/store/details?id=com.vovoapps.lughatoffline



Saturday, 23 May 2020

An Astrologer's Day


       An Astrologer's Day
👉To know the urdu translation and explanation, you may follow this link 

Part One

 

Part Two






Monday, 20 April 2020

دنیا اپنے خاتمہ کے آخری مرحلہ پر ہے

                    دنیا اپنے خاتمہ کے  آخری مرحلہ پر ہے


                 اللہ نے فرشتے اور جن جیسی مخلوقات کے باوجود انسان کو بنایا آدم کی شکل دی۔ فرشتوں نے کہا کہ تو آدم کیوں بناتا ہے جبکہ تیری حمد و ثنا کے لئے ہم تو ہیں لیکن اللہ تو خالقِ مطلق ہے۔ فرشتے تو خاموش ہوگئے لیکن ابلیس جو جن تھا اس نے حکم عدولی کی اور ملعون ہوا۔ ابلیس دراصل اپنی انا کی وجہ سے مایوس ہوا،اسلئے اس نے ایک بار بھی توبہ کرنے کا نہیں سوچا۔ انسان کو اللہ نے توبہ جیسی بڑی نعمت دی ہے۔ توبہ جسے ہم استغفار کہتے ہیں بہت اہم چیز ہے۔
                  انسان کو آدم کی شکل میں زمین پر بھیج کر اللہ نے امتحان رکّھا ہے۔ اس نے پہلے احکامات اور ڈرانے والے بھیجے۔ کمزوروں کیلئے توفیق جیسی سہولت بھی عنایت کی۔ ویسے اسکے احکامات آدمؑ سے محمدؐ تک ایک ہی تھے لیکن قرآن جو آخری احکام ہیں اس میں انسانوں سے ہر معصیت کے خلاف جدوجہد کرنے کا حکم دیا۔ ایک چیز جسکے خلاف اللہ نے ذاتی طور پر اعلان کیا وہ سود ہے۔ سود گناہِ کبیرہ ہے، اتنا بڑا کہ اسکے بارہ میں بہت وعیدیں آئی ہیں۔ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ اسلئے کہ آجکل تاویل نکالنے میں لوگ بہت وقت صرف کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ نے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور انکار پر پھٹکار لگائی، حکمِ سود پر بھی عمل پیرا ہونا ہوگا، بلا تاویل کے کہ انکار پر پھٹکار ہے۔پھٹکار کیوں پڑرہی ہے؟ پٹھکار کے باوجود اللہ جو رحیٖم ہے بندوں کو موقع دیتا ہے کہ توبہ کرو لیکن کرتے ہی نہیں۔ دنیا کی چیزوں کا پیچھا کرنے والوں کا اللہ روزِ آخرت میں کوئی وزن نہیں رکّھے گا، یہی تو سورۂِ کہف کی آخری آیات میں لکھا ہے!
                  سود سے اجتناب بہت آسان ہے اگر انسان تجزیہ کرے۔ ہمارے پاس دنیا کی تعلیم ہو تب بھی کوئی یقین دہانی ہے کہ عزّت کی جائیگی۔ کیا فسادات میں ڈاکٹر یا انجینئر مارے نہیں گئے؟ مارنے والوں کے پاس کیا بہتر سندیں تھیں۔ کیا بڑا گھر ہو تو مکین کی جان کی امان دی جاتی ہے؟ کیا چھوٹا یا کچّا گھر ہو تو انکی جان سب سے پہلے لی جاتی ہے۔ تنخواہ کو خرچ کرنے کی بجائے مزید کمانے کا سامان کرنے کی جستجو ہو تو پھر کیا ہو؟ مزدوری کرتے وقت دیانتداری سے کام کیا تو کیا برکت نہیں رہتی؟
                      ایک بار مسجد میں حلقہ کے بعد کسی نے کہا کہ محلّہ کا ہر دوسرا گھر مزید توسیع کیا جارہا ہے اور اسکے لئے سود پر قرض لیا جاتا ہے۔ کچھ روز پہلے مکان والا پریشان تھا کہ اسکی ملازمت ذات کی بنیاد پر ملی تھی اور ذات حق ہے یا باطل اسکے نوکری پر سوال تھا۔ وہ نوکری جانے اور تنخواہ پر لئے گئے قرض کے لئے فکر مند تھا۔ پھر جیسے تیسے اس نے اپنی ذات کو حق بجانب کیا تو سب بھول گیا۔ بیوی کے ساتھ اسطرح دو افراد نے حج بھی کرلیا۔ پہلا قرض جاری ہے۔ پھر گھر کی مزید توسیع کیلئے قرض لیا۔ پیشہ استاد کا ہے لیکن خود کی زبان ایسی کہ کوئی ہندو بنیا بھی شرما جائے کہ بھائی پنڈت سے زیادہ جعلی سرکاری زبان بولتے ہیں۔ہماری اس جھوٹی ذات کی ملازمت، سود پر سود کے قرض اور حج!ہمارے انہی اقدام پر قرآن میں وعیدیں آتی ہیں لیکن ہم قرآن پر قرآن تلاوت کئے جاتے ہیں لیکن فائدہ نہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ کسی جادوگر یا پنڈت کے منتر پڑھ لینے کی طرح جلد جلد قرآن پر انگلی پھیر کر پڑھ لینے سے ثواب مل جائیگا، ویسے ہی جیسے ہم غیر زبان میں، خلط ملط الفاظ کی کوئی حدیث اور اسکا ترجمہ پڑھتے نہیں، سمجھتے نہیں لیکن بھیج دیتے میرا مطلب ہے سنیڈ کردیتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہوا کہ پیسہ کے عوض ثواب خریدنا!
                     
               مسجد میں ایک نوجوان کہنے لگا کہ پھر اگر قرض سے ٹرک نہ خریدا تو ترقی کیسے ہوگی؟ قرض لیکر ایم بی اے نہیں کیا تو ترقی کیسے ممکن ہو؟ اگر دادا کا وہ کھیت جو مسجد کے متولّی ہونے کی وجہ سے انکی ذمّہ داری تھا، اسے بیچ کر ایم ڈی، ایم بی بی ایس نہیں کیا تو ترقی کیسے ہوگی؟ اگر استاد صاحب قرض لیکر گھر نہیں بڑھاتے تو بٗڑھاپہ میں کیا کھائینگے؟
جواب یہ ہے کہ اگر تعلیم حاصل کرنے کے وقت ادھر ادھر کرنے، ابا کی جیسی تیسی چلتی دوکان پر وقت گزاردینے کے، کسی جگہ رشوت بنام ڈونیشن دے کر نوکری حاصل کرلینے کا سوچنے کی بجائے وہ تعلیم حاصل کرتے جس کی ہمارے استعداد ہے، جسمیں ہمیں دلچسپی ہو تو پھر اس معیاری تعلیم کی وجہ سے ہمیں روزگار مل جاتا۔ ہم نوکری کے حساب سے تعلیم حاصل کرنے کی بجائے اگر پسند کی تعلیم حاصل کرتے تو پھر بھیڑ میں جسکے پاس پیسہ اسکی نوکری کیلئے پانچ کے پچاس لاکھ نہیں دینے پڑتے۔ اس سب کے گزرجانے کے بعد پھر مجبوراً قرض لیکر ٹرک چلانا، ایندھن کے دام جو بھی ہوں کرایہ کا نہ بڑھنا، بڑھتا سود اور ہر ماہ قسط کی ادائیگی کیلئے پریشان نہ رہنا پڑتا۔ ٹرک چلایا یا نہیں ہم سے یہ نہیں پوچھا جائیگا البتہ ٹرک چلایا تو سودی قرض لیا کیوں تھا یہ سوال ضرور ہوگا۔
استاد سے یہ سوال ہوگا کہ نچلی ذات کا نہ ہوتے ہوئے بھی جھوٹ بول کر نچلی ذات کا کیوں بنا؟ جس جگہ تدریس کرتا تھا وہاں مقیم کیوں نہیں تھا؟ اردو کی تعلیم کیلئے معمور، خود کے بچّے اردو کیوں نہیں پڑھتے؟ مطلب آپکی تعلیم دینا ناقص اور تم اسے مان کر نقص دور نہیں کرتے، روزی حلال نہیں کرتے جو پہلے ہی دو بار مشکوک ہے! سب برابر ہیں اسکے لئے کوشش کرنے کی بجائے ذات پات کے نظام کو ختم کرنے کا سوچا ہوتا، لیکن نہیں اسمیں خوشی سے شامل ہوا۔ پھر قرض پر قرض لیا، حج مقروض پر فرض نہیں اسلئے گناہ پر گناہ کو گناہ لازم۔
ایم بی اے کرکے موٹی تنخواہ پانا گناہ نہیں لیکن اسکی بنیاد اگر سودی قرض ہے تو معمولی بابو بننے پر اکتفا کرتا۔ مینیجر کیوں نہیں بنے یہ سوال آخرت میں نہیں ہوگا۔
ابّا نے دادا سے یہ سوال نہیں کیا کہ مسجد کا کھیت یا گاؤں کی جاگیر آپکے نام کیسے کرلی؟ نام نہاد اونچی ذات کے تھے تو ماں بھی بگڑے دماغ کی آئی۔ غیروں کی "اعلیٰ" اسکول میں منت، سماجت اور ساری کمائی لگاکر پڑھایا۔ بچّہ کو اردو کا الف اور عربی کا اللہ نہیں دکھایا۔ پھر بھی میاں گِری کی اسلئے سرکاری میڈیکل کالج میں نمبر نہیں آیا۔ پھر جّگاڑ لگایا۔ سویت ہونین کے ایشیائی ممالک میں قائم کردہ میڈیکل کالج کے دلال "سر" کا رابطہ ہاتھ آیا۔ تاجکستان، کرغیزستان سب کو جہالت میں روس کیا رشیا بنایا۔ انہی میں سے کسی کو مغرب یعنی ولایت کا خیال آیا تو مغرب یعنی جرمنی، فرانس یا برطانیہ تو کیا ہاتھ پّرتا، بلغاریہ بھی راس آیا۔ وہاں داخلہ کیلئے مسجد کا پچایا کھیت بیچا تو بچّہ کھانے کی خرابی کی وجہ سے بھاگ آیا یا پھر جم ہی گیا تو ایم بی بی ایس کا محض کاغذ ساتھ لایا۔ اب صرف ایم بی بی ایس سے کام نہیں چلیگا کا کیڑا امّی کا کاٹ چکا تھا، کسی خاصگی کالج سے ایم ایس تو نہیں ہوتا، ایک کروڑ دیکر ایم ڈی کی سند چھاپنے کا طے پایا۔
چونکہ معالج یعنی ڈاکٹر تو سند کا نہیں عمل کا کام ہے، سرکاری ڈاکٹر بننے کا خیال آیا، لیکن کیا پھر سے ۵۰ لاکھ روپیہ نکل پایا!
                            سودی کاروبار سے لڑکر بغیر جان گنوائے شہید کا درجہ ملتا لیکن میاں کو مسلمان بننے سے زیادہ "کوالٹی لائف" جینے کی پڑی رہتی ہے۔ انکی نظر میں حق وہی ہے جس کی ذریعہ ان کو محنت نہ کرنی پڑے اور پیٹ بڑا ہونے کا سامان رہے۔ دواخانوں میں جانا، باہر کھانا، عمدا عمارت میں رہنا بھلے ہی اسکی صفائی کی سّدھ گھر میں نہ ہو، ارمانوں کے انبار ہونا۔۔۔۔۔
روزہ نماز سامنے والوں کے مزاج کے مطابق بتاتے ہیں کہ رشتہ ہاتھ سے نہ جائے۔۔۔۔
                           






         

Sunday, 12 April 2020

2)سپاہی اور بٹ مار

            2)سپاہی اور بٹ مار









(*)ہدایات کے مطابق درج ذیل سرگرمیاں مکمّل کیجئے
1)سپاہی کے زمانے کے روپیے، ارزانی اور سپاہی کی تنخواہ سے متعلق معلومات لکھیے

2)سبق پڑھ کر اس زمانے کی طرزِ معاشرت کی تفصیل تحریر کیجئے

3)تباہ حال بڑھیا کی مدد کے لیے سپاہی کے خیال کی وجہ قلم بند کیجیے

4)رہزنی کی واردات کو اپنے الفاظ میں بیان کیجیے

5)بٹ ماروں کے ذریعے جکڑے ہوئے سپاہی کے محسوسات اور خدشات کو لکھیے

6)سلطان کے ذریعے رعایا کی بہبودی کے لیے کیے جانے والے کاموں کے بارے میں لکھیے                        (یا)

(*) اسباب بیان کیجیے
1)مفتی اعظم کے فرمان کا لکھا جانا

2)سپاہی کا اپنے آپ پر لعنت کرنا

(*) استحسانی وضاحت کیجیے
1)برساتوں میں ندی پر دریائے اعظم کا گمان ہونے لگتا ہے

2)اس علاقے کو خلق اللہ طنزاً پٹ پڑ گنج کہنے لگی تھی

3)واللہ! وہ بھی کیا زمانے تھے. بارہ برس میں میرا درماہہ بارہ تنکے سے بڑھتے بڑھتے بیس ہو گیا تھا

4)جیٹھ نکل کر اشاڑھ کی آمد آمد تھی جب میں نے گھر جانے کا ارادہ کیا

5)اکیلے دکیلے کا اللہ بیلی:


پس منظر:
اس کہاوت سے متعلق ایک بڑھیا کی دلچسپ حکایت ہے ،جو یہ ہے:
دہلی سے دس میل کے فاصلے پر ایک نالا تھا جہاں درختوں کے جھنڈ بکثرت تھے۔ایک بڑھیا اس جگہ بیٹھ کر بھیک مانگا کرتی تھی اور اس کے بیٹے پوتے ان درختوں کے جھنڈ اور جھاڑیوں کی اوٹ میں چھپ کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔جب ایک دو آدمیوں کا وہاں سے گزر ہوتا تھا تووہ بڑھیا پکار کر کہتی تھی’’اکیلے دکیلے کا اللہ بیلی‘‘۔بڑیا کے یہ جملے سن کر اس کے بیٹے پوتے سمجھ جاتے تھے کہ کوئی تنہا شخص گزررہا ہے یا اس کے ساتھ دو ایک آدمی ہوں گے۔لہٰذا وہ لوگ فوراً گھات سے نکل کر اس آدمی کے مال و اسباب کو لوٹ لیا کرتے تھے۔اور اگر وہ مقابلہ کرتا تو اس کو ماڑ ڈالتے۔اس کے بر عکس جب کئی آدمی مل کر وہاں سے گزرتے تو وہ ٹھگوں کی نانی آواز لگاتی’’جماعت سے کراہت ہے‘‘یا’’جمعہ جماعت کی خیر۔‘‘اس وقت وہ راہزن اپنی گھات سے باہر نکلنے سے باز رہتے کیونکہ بڑھیا کے ان جملوں سے وہ سمجھ جاتے تھے کہ ایک ساتھ کئی آدمی آ رہے ہیں۔مدت تک یہ سلسلہ جاری رہااور لوٹ مار ہوتی رہی۔آخرکار جب وہ بڑھیا اور اس کے بیٹے پوتے ایک روز پکڑے گئے تو ان صداؤں کا بھید کھلا۔کچھ دنوں کے بعد اس بڑھیا نے اس نالے پرایک پل بنوایا جو فریدآباد کے نزدیک بڑھیا کے پل کے نام سے مشہور ہوا۔
6)بندے کا بال بال آپ کے احسان سے گندھا رہے گا

(*) ذیل میں دیے ہوئے موضوعات پر ذاتی رائے تحریر کیجیے
1)سلطان کا فرمان
2)اس سبق کے حوالے سے کل اور آج میں نظر آنے والا فرق
3)نیک شگون یا بد شگون
4)غصے میں سپاہی کا بدزبانی کرنا
5)'ہمیں مصارف شادی میں کفایت شعاری سے کام لینا چاہیے'
نوٹ : طلبہ ذاتی رائے کی سرگرمی از خود حل کریں
(*) ہدایت کے مطابق درج ذیل قواعد ی سرگرمیاں مکمّل کیجئے


جواب:1)وقت اتنا گزر گیا تھا کہ مجھے اسکا کچھ علم نہ تھا کہ مغرب ہو چکی تھی 
2)وقت اتنا گذر گیا تھاکہ مجھے  اسکا کوئ علم نہ ہوا مگر مغرب تو ہو چکی تھی۔
3)حالانکہ کہ وقت کتنا گزر گیا تھا پھر بھی مجھے اسکا علم نہ ہوا اور مغرب ہو چکی تھی
4)سبق میں استعمال کئے گئے دس محاوروں کو تلاش کر کے ان کا مفہوم لکھیے



     💎اضافی سرگرمیاں💎




















  👈ایک جملے میں جواب دیجییے👉

1)تھانیسر کے علاقے سے آنے والی اطلاع کے متعلق لکھییے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2)  بارہ برس میں سپاہی کی بڑھنے والی درماہہ کی رقم کے بارے میں معلومات فراہم کیجئے۔
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3) سپاہی کی بیٹی کی عمر کے متعلق بیان کیجیے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔
4) ہر گھر میں موجود صندوق میں پس انداز کی جانے والی چیز کے بارے میں لکھیے۔
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5) گون یا گونا  کے متعلق معلومات فراہم کیجئے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
6) بڑھیا کے ذریعے دعائیہ  لہجے میں بلند آواز میں کہے جانے والے الفاظ بیان کیجیے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
7) بیٹی کے مصارف شادی کے لیےسپاہی نے جتنے تنکوں کا انتظام کیا تھا اس کے بارے میں لکھیے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔
8) سپاہی نے جس سوچ کے ساتھ بڑھیا کی مدد کی اس کی وجہ لکھیے/ تباہ حال بڑھیا کی مدد کے لیے سپاہی کے خیال کی وجہ قلمبند کیجئے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔۔
9) مصنف کے سر پر ڈالے گئے کپڑے کے بارے میں لکھیے
جواب :۔۔۔۔۔ 
10)موٹے اور پسینے کی بدبو سے بھرے ہوئے کپڑے کا سپاہی پر ہونے والا اثر بیان کیجیے
جواب:۔۔۔۔۔۔۔
11) بٹ ماروں کا منشا بیان کیجیے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔
12) سپاہی چیخ نہ سکا وجہ بیان کیجیے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔
13) سپاہی نے ہاتھ پاؤں ہلانے کی سعی اور تیز کردی وجہ بیان کیجیے
جواب :۔۔۔۔۔۔۔۔
14) سپاہی دوہرا خوش نصیب تھا وجہ بیان کیجیے
جواب :
15)عورتوں کے پردے کے متعلق بیان کیجیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

   👈 متبادلات پر مشتمل سرگرمیاں /خالی جگہ 👉


1) سلطان والی شان نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سے مشاورت کی
2)  ہندوں تالاب قدیم پر پوجاپاٹھ بھی کرتے تھے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھی بجاتے تھے
3) انتظام سلطنت میں ہشیاری اور خبرداری کی غرض سے  حضرت دہلی اور اس کے گرد و نواح میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلح فوج ہر وقت تیار رہتی تھی
4)سپاہی جس فوج میں تھا اس علاقے کا نام۔۔۔۔۔۔۔۔
5) سپاہی کی فوج ۔۔۔۔۔۔۔ندی کے کنارے قیام کرتی تھی۔
6) برساتوں میں ندی پر ۔۔۔۔۔۔کا گمان ہونے لگتا
7)اسی بنا پر اس علاقے کو خلق اللہ طنزا''۔۔۔۔۔۔ِ۔ِ۔۔ کہنے لگی تھی۔
8)اس زمانے میں پانچ تنکا ماہانہ پانے والے۔۔۔۔۔۔۔۔سے رہتے تھے
9)بارہ برس میں سپاہی کا درماہہ اتنا ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔
10)سلطان بہلول لودھی کا جاری کیا ہوا تانبے کا سکہ ۔۔۔۔۔کہلاتا تھا
11)بہلولی سکہ جس دھات کا بنا ہواتھا۔۔۔۔۔۔۔۔
12) گون یا گونا کا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔
13)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا یہ اکیسواں سنئہ جلوس تھا
14) گوار مسلمانوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی بو باس ابھی بہت کچھ باقی تھی
15) جمعہ کے سوا ہر دن پہنے جانے والا ہندوانہ لباس۔۔۔۔۔۔۔تھا
16)سپاہی کو گھر بلایا گیا تھا بیٹی کی شادی کے۔۔۔۔۔۔۔۔
17)سپاہی نے جس مہینے گھر جانے کا ارادہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
18)مصارف شادی کے لئے انتظام کی گئی رقم ۔۔۔۔۔۔۔۔
19) سامنے ایک پلیا تھی جس کے نیچے نالہ ابھی۔۔۔۔۔۔تھا
20) میں نے کمر سے خنجر نکالنا چاہا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
21) تنہا آدمی کا خدا ہی مددگار ہوگا ہم معنی قول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
22) گھوڑا پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہوگیا کا ہم معنی فقرہ۔۔۔۔۔۔۔۔
23) یہ نہیں جانتے کہ کس کو چھیڑا ہے کا ہم معنی جملہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
24) تھوڑی دیر میں گھوڑا قابو میں آ گیا کا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔
25) یہ جگہ تو حضرت دہلی سے۔۔۔۔۔۔۔دور ہے
26) کپڑا اتنا موٹا اور پسینے سے بھرا ہوا تھا کہ مجھے ۔۔۔ِ۔۔۔۔۔آگئی
27)سراؤں کا خرچ۔۔۔۔۔۔سے ادا کیا جاتا تھ
28) شیر کو اس علاقے میں تھے نہیں،ہاں مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت تھے
29) میں نے ہاتھ پاؤں ہلانے کی سعی اور تیز کر دی کہ مہاوت سمجھ لے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
30) معتبر سنگھ نے۔۔۔۔۔۔۔۔  سرگوشی میں کچھ کہا اور کئی بار کہا۔
31)  رئیس زادہ۔۔۔۔۔ جا رہا تھا




نوٹ : اپنے طلبہ کو لغت اور ڈکشنری کے استعمال کی عادت ڈالیں ۔ لغت اور ڈکشنری کا استعمال تفہیم کے عمل کو آسان بنا دیتا ہے ۔نیز زبان دانی میں کلیدی رول ادا کرتا ہے

لغت کو اس لنک کی کاپی کو پلے اسٹور میں پیسٹ کرکے  ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں:

http://play.google.com/store/details?id=com.vovoapps.lughatoffline

رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان

 رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان فیچر نویس: (لئیق احمد محمدصادق، مانورہ،ضلع باسم) :                 رمضان المبارک کا م...