XI CLASS URDU

Followers

About Me

My photo
Manora ,District :Washim 444404, Maharashtra , India

Thursday, 27 June 2024

The Physical Division of India

 The Physical division of India 


(بھارت کی جغرافیائی تقسیم) 




            بھارت (انڈیا) ایک وسیع اور متنوع ملک ہے، جو جغرافیائی طور پر مختلف علاقوں میں تقسیم ہے۔ ان علاقوں کی تقسیم قدرتی مناظر، آب و ہوا، اور ثقافتی خصوصیات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ یہاں بھارت کی جغرافیائی تقسیم کی تفصیل دی گئی ہے


1) : *ہمالیہ کے پہاڑی علاقے* 

*(HimalayanRanges)*:


                شمالی بھارت میں واقع ہیں۔جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم، اور اروناچل پردیش جیسے ریاستیں شامل ہیں۔یہاں ہمالیہ کی بلند ترین چوٹیاں پائی جاتی ہیں۔


2) : *شمالی میدان*

(*NorthernPlains*):

-دریائے گنگا، یمنا، اور برہمپتر کے کنارے واقع ہے۔

-اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، اور آسام جیسے ریاستیں شامل ہیں۔

 - یہ علاقہ زرخیز زمینوں پر مشتمل ہے۔

 

 3 : *جزیرہ نما مرتفع*


*(Peninsular Plateau Region)*



*الف* : *وسطی مرتفع*

*(Central Plateau/ CentralHighlands)*:


       جنوب مغرب سے شمال مشرق تک پھیلا ہوا ہے-

۔مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور اڑیسہ شامل ہیں۔یہاں پہاڑی اور جنگلاتی علاقے زیادہ ہیں۔


*ب* : *جنوبی مرتفع* 

( *Southern Plateau/Deccan Plateau*):

      دکن کے علاقے پر مشتمل ہے۔مہاراشٹر، کرناٹک، تلنگانہ، اور تمل ناڈو شامل ہیں۔یہ علاقہ پتھریلے زمینوں اور پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے۔


4 : *صحرائی علاقے* (*Deserts*):

     شمال مغرب میں واقع ہے۔راجستھان کا زیادہ تر حصہ شامل ہے۔یہاں تھر کا صحرا پایا جاتا ہے۔


5 : *ساحلی علاقے*

(*Coastal Plains*)


الف : *مشرقی ساحلی علاقے* *(Eastern Coastal plain)* :


  خلیج بنگال کے کنارے واقع ہے۔آندھرا پردیش اور تمل ناڈو شامل ہیں۔یہاں کی زمینیں زرخیز ہیں اور زرعی مقاصد کے لیے اہم ہیں۔


ب : *مغربی ساحلی علاقے* *(Western Coastal plain)* :

بحیرہ عرب کے کنارے واقع ہے۔گجرات، مہاراشٹر، گوا، کرناٹک اور کیرالا شامل ہیں۔یہاں کا موسم مرطوب اور زمینیں زرخیز ہیں۔


6 : *جزائر* *(Islands)* :


انڈمان و نکوبار جزائر اور لکشدیپ شامل ہیں۔یہ جزائر بھارت کے مشرقی اور مغربی ساحلوں کے قریب واقع ہیں۔









ازقلم  : *لئیق احمد محمد صادق* ، مانورہ ضلع باسم

Wednesday, 29 May 2024

اس دور کی تعلیم کا معیار الگ ہے

 ا             اس دور کی تعلیم کا معیار الگ ہے

تعلیم تو آتی ہے جہالت نہیں جاتی


         ریاست مہاراشٹر کے بارہویں اور دسویں جماعت کے نتائج آچکے ہیں۔اردو اسکولوں کے نتائج قابل رشک ہیں۔صد فی صد نتائج کے ہدف کو اکثر و بیشتر اسکول اور کالجوں نے عبور کیا ہے۔مگر غور کرے تو تعلیمی نظام زوال پزیری کے تحت الثرا تک پہچتا ہوا نظر آرہاہے۔کیا نتائج کا اچھا آجانا ہی تعلیم کا مقصد ہے ؟ نہیں بالکل نہیں ۔۔ہمارے بچے *تعلیم یافتہ* تو ہو رہے ہیں مگر *علم یافتہ* کب بنے گے ؟ اس سوال کا جواب *ہنوز دلی دور است* کے مصداق ہے۔یہ تشویش افزا سوال تعلیمی اداروں کے التفات کی دعوت دیتا ہے۔ کیا ہمارے ادارے میعاری تعلیم دے رہے ہیں ؟ کیا ہمارے ٹیچرز سست و کاہلی کی انتہا تک نہیں پہچ گئے ہیں ؟ ہمارے اداروں کی انتظامیہ کیا کر رہی ہیں ؟ کیا یہ نام نہاد قوم کے رہبروں کے پاس ایسا پلان نہیں ہے جو غیر مذاہب کی انتظامیہ اور ٹیچروں کے پاس ہیے؟ سورۃ بقر میں فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم ہے *ہم نے ان کے قلب اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے نہ وہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ محسوس کر سکتے ہیں* یہ الگ بات ہے کہ اس آیت میں منافقین کا تذکرہ کیا گیا ہے ، مگر مجھے شک ہے کہ اس آیت کے دائرے میں وہ ناکارہ ٹیچرز اور لالچی انتظامیہ نہ آجائے جو لاشعوری طور پر آر ایس ایس کے ایجنڈے کا اطلاق اردو اداروں میں کر رہے ہیں۔آر ایس ایس تو صرف مسلمانوں کو برباد کرنے کا سوچتی رہتی ہے مگر ہمارے ٹیچر حضرات اور ان کی انتظامیہ تو باقاعدہ اپنی قوم کو برباد کر رہے ہین۔
        جو اسکولیں اپنے نتائج کی نمائش کرکے منافقانہ جشن منارہی ہیں وہ میؔر کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں 

*ہستی اپنی حباب کی سی ہے*
*یہ نمائش سراب کی سی ہے*

  ان ٹیچرز سے کوئی پوچھے۔کیا آپ نے نتائج کے شایان شان طلباء کو سنوارا ہے ؟
کیا آپ نے  انہیں مقابلہ جاتی امتحان کے قابل بنایا ہیں ؟
کیا آپ کے طلباء غیروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں ؟
 اگر نہ ہے آپ کا جواب تو  کیوں خوشیاں منارہے ہوں ان  کی بربادی کی؟ آپ نے بچون کو اسکول میں نہیں بلکہ ہٹلر کے نازی کیمپ میں بلایا تھا۔جشن وہی منائے جنہوں نے قوم کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے کوشش کی ہو۔میں جانتا ہوں کہ ایسے ٹیچرز چند ہوں گے جنہوں نے اپنے نصاب کے مقاصدواہداف (aims and objectives ) کو پائے تکمیل تک پہنچایا ہوگا ورنہ ایسے لعین تو بہت مل جائے گے جو غریب طلباء کو رہبر /گائڈ خریدنے پر مجبور کرتے ہیں اور اسی گائڈ کو نوٹ بک پر نقل کرنے لگاتے ہیں ۔یہی انکا ہوم ورک ہوتاہے۔کلاس روم میں پورا پریڈ اس نقل شدہ جواب کی جانچ کے نام پر سوائے وقت گزاری کے کچھ نہیں کرتے۔کیا ایسے ٹیچر انقلاب لا سکتے ہیں۔انہیں کون بتائیں کہ تشکیل علوم کے طریقئہ تدریس پر گائڈ کی مدد سے عمل نہیں کیا جا سکتا؟تشکیل علوم کی تکمیل کے لئے جماعت میں سرگرمیاں مکمل کرنی ہوتی ہیں۔اب آپ ہی بتائیے کس پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔آیا طلباء پر یا پھر ٹیچرز پر ؟ طلباء سے زیادہ ان نکموں پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔لہذا میری اللہ سے یہی التجا ہے؀

*ساقیا دیکھ کے بھرنا شراب پیمانے میں*
*چند کم ظرف چلے آئے ہیں میخانے میں*

ازقلم*: *لئیق صادق احمد، مانورہ ضلع باسم (9420712474)

 

Friday, 12 January 2024

Question No 2 (B): Summary

        Question No:02 (B)

            Summary خلاصہ

Mark scheme 

Title =     01 Mark

Presentation= 01 Mark

Covering all points =01 mark

Total Marks : 03

.........................______________________....................

اہم نکات :

1)پورا خلاصہ/اختصار(summary)ایک ہی پیراگراف میں  لکھنا چاہیے۔

Whole summary should be written in one single paragraph. 

2)  اختصار (summary) کو عنوان (title) دینا لازمی ہے۔

Add a catchy title to summary ۔

3)اقتباس میں استعمال شدہ اقوال، ضرب المثل، مثال اور ریمارک کو خارج کر دیں گے جیسے

 Reported speech ,quotations, examples and remarks must be omitted like :

👉The farmers of Maharashtra grow varied type of cropses like cotton,soybean,sorghum and cotton.
 

Summary : The farmers of Maharashtra grow varied type of cropses.

3) فقرہ (clause) کو الفاظ میں تبدیل کریں جیسے
Change clause into words like :

👉1)This is a pen which is red in colour➡️ This is a red pen.

 ✡2)The life history of man written by himself ➡️ Autobiography
✡3) A sound that cannot be heard➡️ Inaudible.
✡4) A list of books ➡️ Catalogue
✡5) A sentence whose meaning is unclear➡️ Ambiguous

4) خلاصہ میں صرف اہم نکات کو ہی شامل کریں

A summary must contain only key points 

5)Write summary in third person.

6)adverb کو خارج کریں (Avoid adverb )

1)That's usually a good thing to do.➡️That's a good thing to do 

2)That's is fairly good coffees. ➡️That's is good coffee

3)I totally agree. ➡️ I agree.

4)Actually, I disagree.➡️I disagree. 


🔅Passage For Summary 🔅




Answer :



Thursday, 28 December 2023

 کہ خدا تین اقانیم کا مجموعہ ہے، جو خدا (باپ)، مسیح (بیٹا اور روح القدس پر مشتمل ہے۔ یہ تینوں الگ الگ ہیں مگر ایک دوسرے سے جدا بھی نہیں، باپ خدا ہے، بیٹا خدا ہے اور روح القدس بھی خدا ہے، مگر یہ تین نہیں بلکہ ایک خدا ہے۔ جب کہ اسلام میں اس عقیدہ کو قرآن و حدیث میں شرک قرار دیا گيا ہے۔ اسلام کے مطابق خدا صرف ایک ہی ہے، جو اللہ ہے، اس کا کوئی بیٹا یا بیوی نہیں، نہ ہی اس کی کوئی روح ہے،[1] اسلام میں عیسیٰ مسیح ایک برگزیدہ نبی ہیں اور روح القدس جبریل فرشتہ کا لقب ہے۔ جب کہ خدا یعنی اللہ کو باپ جیسے الفاظ سے پکارنے کی روایت بھی نہیں پائی جاتی۔

اسلامی روایات کے مطابق جب عیسیٰ اللہ کے پاس چلے گئے تو مسیحیوں میں اختلافات پیدا ہو گئے - کچھ لوگ کہنے لگے کہ عیسیٰ "اللہ کا بندہ و رسول" تھے۔ جبکہ کچھ لوگ کہنے لگے کہ "وہ تو خود رب تھے " اور کچھ کا کہنا تھا کہ وہ اللہ کا بیٹا تھے، جو آگے چل کر ”مسیحی“ کہلائے۔

Thursday, 31 August 2023

Urdu Papers Of Board With Model Answer Papers

Question Paper

 February 2021




















Question Paper

 February 2022
















_________________________

Model Answer Paper


 February 2022












________________________

Question Paper 


August 2022


















_________________________



Question Paper


 February 2023



















_________________________

Model Answer Paper 


February 2023















________________________

Question Paper


 August 2023


















________________________

Model Answer Paper 


August 2023














________________________

Question Paper 


February 2024


















Model Answer Paper


 February 2024















Question Paper


 July 2024



















......................................

Question Paper


 February 2025


















Model Answer Paper

February 2025
















Question Paper

June 2025



















Model Answer Paper

July 2025












Question Paper

February 2026

























رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان

 رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان فیچر نویس: (لئیق احمد محمدصادق، مانورہ،ضلع باسم) :                 رمضان المبارک کا م...