XI CLASS URDU

Followers

About Me

My photo
Manora ,District :Washim 444404, Maharashtra , India

Monday, 30 December 2024

ہجری سال اور عیسوی سال میں فرق

 ہجری سال اور عیسوی سال میں فرق


ہجری (اسلامی) اور عیسوی (گریگورین) سال میں دنوں کی تعداد مختلف ہوتی ہے کیونکہ دونوں مختلف کیلنڈروں پر مبنی ہیں۔


1. عیسوی سال (گریگورین کیلنڈر / شمسی کیلنڈر):


عیسوی سال میں کل 365 دن ہوتے ہیں۔


ہر چوتھا سال (لیپ سال) میں 366 دن ہوتے ہیں۔


عیسوی کیلنڈر شمسی گردش پر مبنی ہے، یعنی زمین کا سورج کے گرد مکمل ایک چکر۔شمسی دن کی شروعات رات ۱۲ سے اگلی رات کے ۱۲ بجے تک تصور کی جاتی ہے۔



2. ہجری سال (اسلامی کیلنڈر /  قمری کیلنڈر ):


ہجری سال میں کل 354 یا 355 دن ہوتے ہیں۔


یہ قمری مہینوں پر مبنی ہے، یعنی چاند کے زمین کے گرد چکر پر۔ قمری مہینے کے دن کی شروعات مغرب  سے اگلے دن کی مغرب تک تصور کی جاتی ہے۔


ہر قمری مہینہ 29 یا 30 دن پر مشتمل ہوتا ہے، اور سال عموماً 354 دن کا ہوتا ہے، لیکن کبھار 355 دن کے سال بھی آتے ہیں۔



اہم فرق:


ہجری سال عیسوی سال سے تقریباً 10-12 دن چھوٹا ہوتا ہے۔


اسی وجہ سے اسلامی تہوار جیسے رمضان، عید الفطر اور عید الاضحی عیسوی کیلنڈر میں ہر سال تقریباً 10 دن پہلے آتے ہیں۔

Wednesday, 18 December 2024

مومن

 میرے عزیز طلباء ! آپ کے لئے علامہ اقبال کا ایک پیغام


        مومن کی زندگی 


ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

افلاک سے ہے اس کی حریفانہ کشاکش

خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن

جچتے نہیں کنجشک وحمام اس کی نظر میں

جِبریل و سرافیل کا صیّاد ہے مومن

(جنّت میں)

کہتے ہیں فرشتے کہ دِل آویز ہے مومن

حُوروں کو شکایت ہے کم آمیز ہے مومن


1- حلقئہ یاراں = یاروں کی محفل،معاشرتی زندگی، گھریلو زندگی (روز مرہ کی زندگی میں مومن نرم دل ہوتا ہے)

2- رزم = جنگ ، معرکہ (حق و باطل کی جنگ میں فولاد جیسا سخت ہوتا ہے )

3) افلاک = فلک ، آسمان

4) حریفانہ کشاکش = دشمنوں جیسا مقابلہ 

5) خاکی = مٹی سے بنا ہوا مگر آسمان سے مقابلہ کرتا ہے

6) کنجشک و حمام = چڑیا اور کبوتر جیسے معمولی پرندے

7) صیاد = شکاری ( جبریل اور اسرافیل جیسے فرشتوں کو بھی غلام بنانے کی صلاحیت اللہ نے مومن کو دی ہے ۔

8) دل آویز = دلفریب باتیں کرنے والا، دلکش

9) کم آمیز = میل ملاپ کرنا،   حور( عورتیں ) سے کم میل رکھتا ہے

Tuesday, 26 November 2024

میرے مراسلے

1)




اردو زبان کو پارلیمانی زبان کا درجہ دیا جانا 


رمضان، امتحان اور نقل بازی ایک اخلاقی بحران کی داستان 





Friday, 8 November 2024

رباعی اور قطعہ میں فرق کیا ہے؟

 رباعی اور قطعہ میں فرق کیا ہے



رباعی عربی لفظ ’’رُبع‘‘ سے بنا ہے۔ رُباعی کے لغوی معنی ہیں ’’چار والے۔‘‘ اصطلاح میں اُس صنفِ نظم کو کہتے ہیں، جس کے چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ اسے ترانہ یا دو بیتی بھی کہتے ہیں

قطعہ کے لغوی معنی ’’ٹکڑا‘‘ یا ’’جزو‘‘ کے ہیں۔ اصطلاح میں اُس نظم کو کہتے ہیں جس میں کوئی خیال یا واقعہ مسلسل بیان کیا گیا ہو۔ قطعے میں مطلع کی موجودگی ضروری نہیں۔ قطعہ کم از کم دو اشعار پر مشتمل ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ کی کوئی قید نہیں۔

رباعی اور قطعہ میں فرق کیا ہے؟

      آج کل عموماً دو شعروں کا مختصر قطعہ کہنے کا رواج ہے۔آ چوں کہ رباعی میں بھی دو شعر ہوتے ہیں، اس لیے عام قارئین قطعہ اور رباعی میں فرق ملحوظ نہیں رکھتے۔ قدیم شعرا کے دیوانوں میں قطعات اور رباعیات کو خلط ملط کر دیا گیا۔ حالاں کہ دونوں اصناف جدا ہیں اور ان کے درمیان حدِ فاصل قائم رکھنا ضروری ہے۔ درجِ ذیل تین امور کی بنا پر دونوں میں فرق کیا جاسکتا ہے۔

وزن :  رباعی ہمیشہ مخصوص اوزان میں کہی جاتی ہے، جب کہ قطعہ کے لیے کوئی وزن مخصوص نہیں۔

*مطلع: رباعی میں ہمیشہ مطلع موجود ہوتا ہے جب کہ قطعہ میں عموماً مطلع نہیں ہوتا۔

 تعدادِ اشعار: رباعی ہمیشہ دو شعروں پر مشتمل ہوتی ہے، جب کہ قطعہ کے اشعار کی تعداد مقرر نہیں۔

Tuesday, 22 October 2024

مسلم اراکین اسمبلی امت مسلمہ کے مسائل پر کیوں نہیں بولتے ؟

 مسلم اراکین اسمبلی امت مسلمہ کے مسائل پر کیوں نہیں بولتے؟



            آمریت کے اس دور میں اقلیتوں کے ساتھ اتنی جارحیت اور نا انصافی کا سلوک کیا جا رہا ہے کہ امت مسلمہ کا ہر فرد اس بات کا منتظر ہے کہ سیکولر پارٹیاں بالعموم اور مسلم رہنما بالخصوص ان کے لئے آواز اٹھائے۔اسی امید پر امروز میں فردا تلاش کرتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ آج نہیں تو کل یہ لوگ اپنی زبان کھولے گے مگر ۔۔

  

*آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک


     اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ لیڈران جو عوام کا ووٹ لیکر اعلیٰ منصبی پر فائز ہوتے ہیں ۔جنہیں عوام اپنا نمائندہ بنا کر بھیجتی ہے وہ عوام کے لئے آواز کیوں نہیں اٹھاتے ؟

    اس سوال کا جواب بڑا آسان ہے۔

ان عامداروں کو پارٹی لائن پر ہی چلناپڑتا ہے۔اور یہی اصول ہے کہ پارٹی جو کہے وہ کرو۔آپ بیان بھی نہیں دے سکتے ہیں پارٹی لائن سے ہٹ کر۔اسی لئے کچھ مفکر حکومت میں حصےداری کی بات کرتے ہیں ۔جب تک مسلمانوں کی خودکے پارٹی کی حصہ داری نہیں ہوگی اس وقت تک محتاجی کی زندگی گزارنی ہی پڑے گی۔ممالک متحدہ میں مسلم کی آبادی ℅21 ہے اور یادو کی آبادی صرف ℅6 ۔مگر حکومت میں حصے داری ہونے کی وجہ سے وہاں یادو کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔یہی معاملہ برہمنوں،راچپوتوں اور راجبروں کا بھی ہے۔پچھلے

ممالک متحدہ کے اسمبلی الیکشن میں

 5۔97 فی صد مسلمانوں نےنام نہاد سیکولر پارٹیوں کو ووٹ دیا اور 38 مسلم غلاموں کو منتخب کر کے لائے۔اگر ان 38 امیدواروں میں سے *اپنی* خود کی پارٹی کے 25 امیدوار بھی منتخب ہوتے تو بات کچھ اور ہوتی۔

      خیر۔۔۔خوش آئند خبر یہ ہےکہ علماء نے ہی ان ℅ 5۔97 نے کو یکجا کرنے میں اہم رول ادا کیا تھا (اگرچہ کہ ہدف کا انتخاب غلط کیا گیا تھا) ۔اللہ انہیں بہترین جزا دے ۔آمین۔پچھلے پارلیمانی انتخابات میں علماء نے اہم رول ادا کیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بھی جماعت اکثریت ثابت نہ کر سکی اور ایک مخلوط حکومت پر اکتفا کرنا پڑا۔یہ سب علماء کی کاوشوں کا ثمرہ تھا۔ یہ حقیقت بھی مصدقہ ہے کہ ہند میں انقلاب علماء ہی لائے گے ۔ہند کی کشتی جو کچوکے کھا رہی ہے اسے ساحل پار کرانے کا فریضہ علماؤں کو ہی ادا کرنا ہوگا۔اس کے لئے علماء کو مذہبی رہنمائی سے آگے بڑھ کر معاشرت کے رہنما بننا ہوگا۔عصری رہنمائی بھی کرنی ہوگی۔انہیں لییڈ بآئی اکژامپل(lead by example) کرنا ہوگا۔مدارس کے ساتھ ساتھ اسکولوں کو بھی ٹار گیٹ کرنا ہوگا۔جمعے کے بیانات میں عصری تعلیم کے تعلق سے کچھ جملے بولے جائے۔ٹیچرز کو ایمانداری کی تلقین کی جائے اور سرپرستوں کو سنجیدہ بنایا جائےاور اور ۔۔۔۔۔

     یہ تمام مقاصد اسی وقت پورے ہوگے جب علماء اپنی ذمہ داری طہہ کرے کہ ہاں ، عصری قیادت بھی انہی کی ذمہ داری ہے ہم اسی وقت عروج پائیں گے جب مدارس کو ٹکنالوجی کے زیور سےآراستہ اور اسکولوں کو ایمانداری کی روح سے شرابور کیا جائے

*ازقلم: لئیق احمدمحمدصادق

Thursday, 27 June 2024

The Physical Division of India

 The Physical division of India 


(بھارت کی جغرافیائی تقسیم) 




            بھارت (انڈیا) ایک وسیع اور متنوع ملک ہے، جو جغرافیائی طور پر مختلف علاقوں میں تقسیم ہے۔ ان علاقوں کی تقسیم قدرتی مناظر، آب و ہوا، اور ثقافتی خصوصیات کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ یہاں بھارت کی جغرافیائی تقسیم کی تفصیل دی گئی ہے


1) : *ہمالیہ کے پہاڑی علاقے* 

*(HimalayanRanges)*:


                شمالی بھارت میں واقع ہیں۔جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم، اور اروناچل پردیش جیسے ریاستیں شامل ہیں۔یہاں ہمالیہ کی بلند ترین چوٹیاں پائی جاتی ہیں۔


2) : *شمالی میدان*

(*NorthernPlains*):

-دریائے گنگا، یمنا، اور برہمپتر کے کنارے واقع ہے۔

-اتر پردیش، بہار، مغربی بنگال، اور آسام جیسے ریاستیں شامل ہیں۔

 - یہ علاقہ زرخیز زمینوں پر مشتمل ہے۔

 

 3 : *جزیرہ نما مرتفع*


*(Peninsular Plateau Region)*



*الف* : *وسطی مرتفع*

*(Central Plateau/ CentralHighlands)*:


       جنوب مغرب سے شمال مشرق تک پھیلا ہوا ہے-

۔مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور اڑیسہ شامل ہیں۔یہاں پہاڑی اور جنگلاتی علاقے زیادہ ہیں۔


*ب* : *جنوبی مرتفع* 

( *Southern Plateau/Deccan Plateau*):

      دکن کے علاقے پر مشتمل ہے۔مہاراشٹر، کرناٹک، تلنگانہ، اور تمل ناڈو شامل ہیں۔یہ علاقہ پتھریلے زمینوں اور پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے۔


4 : *صحرائی علاقے* (*Deserts*):

     شمال مغرب میں واقع ہے۔راجستھان کا زیادہ تر حصہ شامل ہے۔یہاں تھر کا صحرا پایا جاتا ہے۔


5 : *ساحلی علاقے*

(*Coastal Plains*)


الف : *مشرقی ساحلی علاقے* *(Eastern Coastal plain)* :


  خلیج بنگال کے کنارے واقع ہے۔آندھرا پردیش اور تمل ناڈو شامل ہیں۔یہاں کی زمینیں زرخیز ہیں اور زرعی مقاصد کے لیے اہم ہیں۔


ب : *مغربی ساحلی علاقے* *(Western Coastal plain)* :

بحیرہ عرب کے کنارے واقع ہے۔گجرات، مہاراشٹر، گوا، کرناٹک اور کیرالا شامل ہیں۔یہاں کا موسم مرطوب اور زمینیں زرخیز ہیں۔


6 : *جزائر* *(Islands)* :


انڈمان و نکوبار جزائر اور لکشدیپ شامل ہیں۔یہ جزائر بھارت کے مشرقی اور مغربی ساحلوں کے قریب واقع ہیں۔









ازقلم  : *لئیق احمد محمد صادق* ، مانورہ ضلع باسم

Wednesday, 29 May 2024

اس دور کی تعلیم کا معیار الگ ہے

 ا             اس دور کی تعلیم کا معیار الگ ہے

تعلیم تو آتی ہے جہالت نہیں جاتی


         ریاست مہاراشٹر کے بارہویں اور دسویں جماعت کے نتائج آچکے ہیں۔اردو اسکولوں کے نتائج قابل رشک ہیں۔صد فی صد نتائج کے ہدف کو اکثر و بیشتر اسکول اور کالجوں نے عبور کیا ہے۔مگر غور کرے تو تعلیمی نظام زوال پزیری کے تحت الثرا تک پہچتا ہوا نظر آرہاہے۔کیا نتائج کا اچھا آجانا ہی تعلیم کا مقصد ہے ؟ نہیں بالکل نہیں ۔۔ہمارے بچے *تعلیم یافتہ* تو ہو رہے ہیں مگر *علم یافتہ* کب بنے گے ؟ اس سوال کا جواب *ہنوز دلی دور است* کے مصداق ہے۔یہ تشویش افزا سوال تعلیمی اداروں کے التفات کی دعوت دیتا ہے۔ کیا ہمارے ادارے میعاری تعلیم دے رہے ہیں ؟ کیا ہمارے ٹیچرز سست و کاہلی کی انتہا تک نہیں پہچ گئے ہیں ؟ ہمارے اداروں کی انتظامیہ کیا کر رہی ہیں ؟ کیا یہ نام نہاد قوم کے رہبروں کے پاس ایسا پلان نہیں ہے جو غیر مذاہب کی انتظامیہ اور ٹیچروں کے پاس ہیے؟ سورۃ بقر میں فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم ہے *ہم نے ان کے قلب اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے نہ وہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ محسوس کر سکتے ہیں* یہ الگ بات ہے کہ اس آیت میں منافقین کا تذکرہ کیا گیا ہے ، مگر مجھے شک ہے کہ اس آیت کے دائرے میں وہ ناکارہ ٹیچرز اور لالچی انتظامیہ نہ آجائے جو لاشعوری طور پر آر ایس ایس کے ایجنڈے کا اطلاق اردو اداروں میں کر رہے ہیں۔آر ایس ایس تو صرف مسلمانوں کو برباد کرنے کا سوچتی رہتی ہے مگر ہمارے ٹیچر حضرات اور ان کی انتظامیہ تو باقاعدہ اپنی قوم کو برباد کر رہے ہین۔
        جو اسکولیں اپنے نتائج کی نمائش کرکے منافقانہ جشن منارہی ہیں وہ میؔر کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں 

*ہستی اپنی حباب کی سی ہے*
*یہ نمائش سراب کی سی ہے*

  ان ٹیچرز سے کوئی پوچھے۔کیا آپ نے نتائج کے شایان شان طلباء کو سنوارا ہے ؟
کیا آپ نے  انہیں مقابلہ جاتی امتحان کے قابل بنایا ہیں ؟
کیا آپ کے طلباء غیروں کا مقابلہ کر سکتے ہیں ؟
 اگر نہ ہے آپ کا جواب تو  کیوں خوشیاں منارہے ہوں ان  کی بربادی کی؟ آپ نے بچون کو اسکول میں نہیں بلکہ ہٹلر کے نازی کیمپ میں بلایا تھا۔جشن وہی منائے جنہوں نے قوم کے مستقبل کو سنوارنے کے لئے کوشش کی ہو۔میں جانتا ہوں کہ ایسے ٹیچرز چند ہوں گے جنہوں نے اپنے نصاب کے مقاصدواہداف (aims and objectives ) کو پائے تکمیل تک پہنچایا ہوگا ورنہ ایسے لعین تو بہت مل جائے گے جو غریب طلباء کو رہبر /گائڈ خریدنے پر مجبور کرتے ہیں اور اسی گائڈ کو نوٹ بک پر نقل کرنے لگاتے ہیں ۔یہی انکا ہوم ورک ہوتاہے۔کلاس روم میں پورا پریڈ اس نقل شدہ جواب کی جانچ کے نام پر سوائے وقت گزاری کے کچھ نہیں کرتے۔کیا ایسے ٹیچر انقلاب لا سکتے ہیں۔انہیں کون بتائیں کہ تشکیل علوم کے طریقئہ تدریس پر گائڈ کی مدد سے عمل نہیں کیا جا سکتا؟تشکیل علوم کی تکمیل کے لئے جماعت میں سرگرمیاں مکمل کرنی ہوتی ہیں۔اب آپ ہی بتائیے کس پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔آیا طلباء پر یا پھر ٹیچرز پر ؟ طلباء سے زیادہ ان نکموں پر محنت کرنے کی ضرورت ہے۔لہذا میری اللہ سے یہی التجا ہے؀

*ساقیا دیکھ کے بھرنا شراب پیمانے میں*
*چند کم ظرف چلے آئے ہیں میخانے میں*

ازقلم*: *لئیق صادق احمد، مانورہ ضلع باسم (9420712474)

 

Compering [Question No.04 (C)]

Question No. 04(C) Marks : 04 Common Answer for any question about compering نظامت کے لئیے کوئی بھی سوال آئے درج ذیل جواب لکھیے सूत्रसंचालन ...