🌍Report Writing : روداد نگاری =XI ,XII Class
🌍News Writing خبر نویسی= X Class
Note :The format and steps are same for both report writing and news writing.News writing is asked in class 10 while report writing is asked in 11 and 12 classes.Remember the activity of Report writing or news writing is asked in English and Urdu subjects .
Tree Plantation Drive Held In Sulemaniya CollegeManora,01 July (Gopal Sharma ):
Today the tree plantation drive was taken up in Sulemaniya Junior College to create awareness about and love for trees among students. Prior to this drive, an introductory programme was held in which students , parents and citizens participated.
The tree plantation drive was a part of the week which is organised annually as 'National Tree Plantation Week' between 01 July to 07 July.Mr. A.k Sharma ,the district forest officer, gave his special presence as chief guest .The president of Halima Education Society Iqbal Suleman Langha presided the programme. The programme started with conventionally lighting the lamp.Naim Ahmed Khan, the principal , gave introductory speech and facilitated the chief guest and the president with shawl and bouquet. Students delivered speeches on the importance and safety of trees. Gazanfer Husain, the representative from the staff , insisted need of such type of drive to create awareness among ignorant people.Mr A k Sharma promised " I will write to education minister and request him to launch such type of programme in every school".He also thanked the college for partaking in the mission of Forest department.In his presidential speech, Iqbal Suleman Langha appealed everyone to plant atleast one plant. He gave 'each one ,plant one ' slogan.He presented saplings to Mr Sharma to plant them and inaugurated the programme amidst great applause. Layeeque Ahmed Sir proposed vote of thanks and declared the end of program.
روداد نمبر 01 : آپ کے کالج میں چلائی گئی شجرکاری مہم کی روداد :( سرگرمی شعاع امید ورک بک کے صفحہ نمبر 129 سے لی گئی ہے)
جواب :
رودادنمبر : 02
روداد نمبر 3
روداد نمبر 04
روداد نمبر 05
روداد نمبر 6
روداد نمبر 7
"ایک پیڑ ماں کے نام" - سلیمانیہ کالج میں شجر کاری کی بامراد تقریب
مانورہ (نامہ نگار) : سلیمانیہ اردو جونیئر کالج، مانورہ ضلع باسم میں آج ماحول دوستی اور شجرکاری کے جذبے سے لبریز ایک خوبصورت تقریب منعقد کی گئی۔ یہ تقریب ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کے تحت منعقد ہوئی جس کا بنیادی مقصد طلبہ میں شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ماحول کے تحفظ کی طرف عملی قدم بڑھانا تھا۔
اس تقریب میں صدارت کے فراٸض حلیمہ ایجوکیشن سوسائٹی کے رکن جناب الحاج روف لنگھا انجام دے رہے تھے جبکہ ضلع محکمہ جنگلات کے افسر اعلی جناب پی این راٹھور کو بحیثیت مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔حسب روایت تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس نے ماحول کو روحانی نور سے بھر دیا۔ جناب غضنفر حسین سر نے تعارفی اور استقبالیہ کلمات پیش کئے۔پرنسپل محترمہ نعیم احمد خان نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ایک درخت صرف سایہ یا آکسیجن دینے والا پودا نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے زندگی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ترغیب دی کہ وہ اپنی ماں کی محبت اور قربانیوں کے اعتراف میں ایک پیڑ لگا کر ماحول اور معاشرے کے لیے نیکی کا بیج بوئیں۔
بعد ازاں اساتذہ اور طلبہ نے باری باری اس مہم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے ماحولیاتی تبدیلی، بڑھتی گرمی، پانی کی قلت اور جنگلات کے خاتمے جیسے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شجرکاری ان تمام مشکلات کے حل کی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔ طلبہ نے بھی جوش و خروش سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور عہد کیا کہ وہ نہ صرف پودے لگائیں گے بلکہ ان کی نگہداشت بھی ذمہ داری سے کریں گے۔
تقریب کا سب سے اہم اور جذباتی لمحہ وہ تھا جب طلبہ نے اپنے ہاتھوں سے پودے لگائے اور ہر پودا اپنی والدہ کے نام منسوب کیا۔ اس موقع پر پورا کالج کیمپس ماحول دوستی کے عزم اور محبت بھری یادوں سے گونج اٹھا۔ اساتذہ نے طلبہ کی رہنمائی کی اور پودوں کی صحیح دیکھ بھال سے متعلق ضروری ہدایات فراہم کیں۔
آخر میں شکریہ کی رسم التمش سر کے ذریعے ادا کی گئی۔یاد رہے کہ شاہنواز خان سر نظامت کے فراٸض انجام دے رہے تھے۔کالج اسٹاف نے اس مہم کی کامیابی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہر سال منانے کا عزم کیا۔ تقریب اختتام پذیر ہوئی تو کالج کی فضا تازگی، امید اور ذمہ داری کے نئے احساس سے بھر چکی تھی۔
یوں سلیمانیہ اردو جونیئر کالج، مانورہ ضلع باسم میں ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ کی یہ تقریب نہ صرف کامیاب رہی بلکہ دلوں میں ایک خوبصورت پیغام بھی چھوڑ گئی—
“درخت لگائیں، ماحول بچائیں… اور ماں کی محبت کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔”
(یا)
(طلبہ انگریزی میں لکھی گئی رپورٹ کا ترجمہ اردو میں کرلے تو جواب ہو جائے گا )
روداد نمبر 8
سائنس نمائش کا رنگارنگ انعقاد—والدین، اساتذہ اور طلبہ کی بھرپور شرکت
مانورہ؍ ۱۰ نومبر (نامہ نگار) :
سلیمانیہ اردو جونیئر کالج میں ہر سال کی طرح امسال بھی سالانہ سائنس نمائش نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد کی گئی، جس میں طلبہ نے جدید سائنسی ماڈلز اور تحقیقی منصوبوں کے ذریعے حاضرین کو بے حد متاثر کیا۔ نمائش کا ماحول ایک سائنسی میلے کا منظر پیش کر رہا تھا جہاں والدین، مقامی عوام اور معزز مہمان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ اس کے بعد مہمانِ خصوصی پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد (سائنس کالج، پوسد)، صدرِ محفل ڈاکٹر موثق احمد (سینئر لیکچرر) اور مہمانانِ اعزاز میں جناب محمد قاسم (سماجی کارکن) اور مسز اسماء آفرین (ہیڈ مسٹرس، مقامی اسکول) کی آمد سے محفل رونق افروز ہوئی۔
افتتاحی خطاب پرنسپل جناب نعیم احمد خان نے کیا۔ انہوں نے کہا:
“یہ نمائش طلبہ میں تحقیق، مشاہدہ اور سائنسی سوچ کو ترقی دینے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ہمارا مقصد بچوں کو کتابی حد تک نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی مضبوط بنانا ہے۔”
نمائش میں مختلف شعبہ جات کے اسٹالز قائم کیے گئے تھے۔ طلبہ نے:
* قابلِ تجدید توانائی
* روبوٹکس
* ماحول دوست ٹیکنالوجی
* پانی کی خودکار بچت
* آلودگی کنٹرول
* تھری ڈی میڈیکل ماڈلنگ
جیسے موضوعات پر خوبصورت اور معلوماتی ماڈلز پیش کیے۔
ڈاکٹر مختار احمد نے اپنے خطاب میں کہا:
“ان نوجوانوں کی یہ تخلیقی صلاحیتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ مستقبل کا سائنسی میدان انہی کے ہاتھوں روشن ہوگا۔ ایسے پروگرام قوم کا سرمایہ بڑھاتے ہیں۔”
اسی طرح ڈاکٹر موثق احمد نے اپنے صدارتی خطاب میں طلبہ کی محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی رہنمائی اور طلبہ کی دلچسپی اس نمائش کی کامیابی کا راز ہے۔
نمائش کے دوران مختلف طلبہ نے اپنے پروجیکٹس کے تعارف اور سائنسی اصولوں کی وضاحت پر مختصر تقاریر بھی کیں۔ ان میں نمایاں طور پر ارشق احمد ، عفیراء فاطمہ اور صادق احمد شامل تھے جنہوں نے اپنے ماڈلز کی تخلیق اور افادیت کے بارے میں اعتماد سے گفتگو کی۔
تقریب کے اختتام پر بہترین پروجیکٹس بنانے والے طلبہ کو اسناد اور خصوصی انعامات سے نوازا گیا۔ انعامات کی تقسیم جناب محمد قاسم اور مسز اسماء آفرین نے کی۔
اختتامی کلمات اور اظہارِ تشکر جناب ظریف اللہ خان (سینئر سائنس ٹیچر) نے پیش کیے۔ انہوں نے تمام مہمانوں، والدین، اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ:
“طلبہ کی یہ محنت اور اساتذہ کا تعاون اس نمائش کو یادگار بنا گیا۔ ہم آئندہ برس اس کے دائرے کو وسیع تر کریں گے۔”
رواں سال کی یہ سائنس نمائش اپنے منظم انتظام، تخلیقی سرگرمیوں اور بھرپور عوامی شرکت کی وجہ سے نہایت کامیاب قرار دی گئی۔
روداد نمبر ۹
یوم نسواں کے موقع پر آپ کے کالج میں منعقد تقریری مقابلے کی روداد کیجئے
یومِ نسواں پر سلیمانیہ جونیئر کالج میں تقریری مقابلہ
مانورہ : 8 ؍ مارچ (نامہ نگار)
یومِ نسواں کے عالمی دن 8 مارچ 2025 کے موقع پر سلیمانیہ جونیئر کالج، مانورہ میں ایک پُروقار اور علمی فضا سے بھرپور تقریری مقابلہ منعقد کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت معزز استاد لئیق احمد سر نے کی، جب کہ موثق احمد اور مختار احمد بحیثیت مہمانانِ خصوصی شریک ہوئے۔ پرنسپل نعیم احمد خان نے اپنے استقبالیہ خطاب میں طالب علموں کو یومِ نسواں کی تاریخی اہمیت اور خواتین کے عالمی کردار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مہذب معاشرہ اسی وقت پروان چڑھتا ہے جب عورت کو اس کی تعلیم، تحفظ اور مواقع فراہم کیے جائیں۔
تقریری مقابلے میں مختلف درجات کے طلبہ و طالبات نے نہایت شاندار اور پُرجوش انداز میں حصہ لیا۔ نوجوان مقررین نے خواتین کے حقوق، معاشرتی کردار، صنفی مساوات، اسلامی تعلیمات اور ترقی یافتہ معاشرے میں عورت کی حیثیت پر مدلل اور پراثر تقاریر پیش کیں۔ طالب علم عبدالرحمٰن نے "خواتین—معاشرہ کی معمار" کے عنوان سے اپنی تقریر میں کہا کہ اگر ایک عورت تعلیم یافتہ ہو تو پورا خاندان روشنی سے منور ہو جاتا ہے۔ طالبہ اقصیٰ فاطمہ نے "اسلام میں خواتین کا مقام" جیسے اہم موضوع پر نہایت پُراعتماد اور علمی گفتگو کی، جبکہ ثنا تبسم، علی حیدر اور رابعہ انصار نے بھی معاشرتی شعور اور فکری گہرائی سے بھرپور تقاریر کیں جنہیں سامعین کی بھرپور داد ملی۔
مہمانِ خصوصی موثق احمد نے نوجوان نسل کی فکری پختگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کے طلبہ نے خواتین کے مسائل کو جس ذمہ داری اور سنجیدگی سے بیان کیا ہے، وہ معاشرتی ترقی کی علامت ہے۔ مختار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ عورت صرف خاندان نہیں بلکہ پوری تہذیب کی معمار ہے، اس لیے اس کی تعلیم اور ترقی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
صدرِ تقریب لئیق احمد سر نے اپنے خطاب میں مقررین کی قابلیت اور زبان و بیان کی مہارت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرام نہ صرف طلبہ میں خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں بلکہ انہیں سماجی مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
آخر میں مقابلے کے نتائج کا اعلان کیا گیا اور بہترین مقررین میں تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں۔ اختتام پر شاہنواز خان سر نے اظہارِ تشکر پیش کیا اور مہمانانِ خصوصی، انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یومِ نسواں کا یہ پروگرام طلبہ میں شعور، احترام اور ذمہ داری کے احساس کو مضبوط کرتا ہے
یہ کامیاب اور یادگار تقریب علمی، سماجی اور تہذیبی بیداری کاپیغام دیتے ہوئے اختتام پذیر ہوئی۔
روداد نمبر ۱۰
سلیمانیہ کالج میں ادبی نشست— شاعری اور فکر کی دل آویز محفل
مانورہ، ۱۳ فروری( رپورٹر ): سلیمانیہ کالج کےآڈیٹوریم میں آج ایک بھرپور ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں طلبہ، اساتذہ اور ادب دوست شہری بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ بیٹھک کا آغاز صبح 11 بجے ہوا۔ ناظمِ پروگرام فہد رشید نے نہایت خوش اسلوبی سے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے اس نشست کے مقاصد بیان کیے اور بتایا کہ کالج طلبہ کی فکری اور تخلیقی تربیت کے لیے سالانہ ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔
تقریب کی صدارت ممتاز محقق اور نقّاد پروفیسر سمیع اللہ ندوی نے کی، جن کی موجودگی نے پروگرام کے وقار میں اضافہ کیا۔ مہمانانِ خصوصی کے طور پر شہر کے معروف شاعر ڈاکٹر حارث قیوم اور افسانہ نگار مسز سعدیہ اقبال تشریف لائیں۔ ان کا استقبال کالج کی ادبی کمیٹی کے طلبہ نے پھول پیش کرکے کیا، جس سے محفل کا ماحول مزید خوشگوار ہو گیا۔
پروگرام میں سب سے پہلے نوجوان محقق محمد فواد علوی نے ’’جدید ادب کی فکری سمتیں‘‘ کے حوالے سے اپنا خطاب پیش کیا۔ انہوں نے معاشرتی تبدیلیوں، نئی نسل کی ترجیحات اور ادبی رجحانات کے بدلتے پہلوؤں کا مدلل جائزہ پیش کیا، جسے سامعین نے خاصی دلچسپی سے سنا۔ اس کے بعد شائستہ نورین نے اردو افسانے میں عورت کے داخلی تجربات اور عصری زندگی کے اثرات پر مفصل گفتگو کی۔ ان کی باتوں میں فکری گہرائی اور عصری حساسیت نے حاضرین کو متاثر کیا۔
نشست اس وقت اپنے جمالیاتی عروج پر پہنچی جب شاعرِ شہر ڈاکٹر حارث قیوم نے اپنا تازہ کلام سنایا۔ ان کے اشعار پر سامعین نے بھرپور داد دی، اور محفل دیر تک تالیوں سے گونجتی رہی۔ انہوں نے محبت، معاشرتی شعور اور انسانی جذبات کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل کلام پیش کیا جس نے ماحول کو ایک خاص وقار بخشا۔
پروگرام کے اختتام پر صدرِ نشست پروفیسر سمیع اللہ ندوی نے اپنی گفتگو میں ادب کی تہذیبی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ادبی سرگرمیاں طلبہ کے اندر برداشت، فہم اور تخلیقی فکر کو پروان چڑھاتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مستقل مطالعہ اور تحریری مشق جاری رکھنے کی تلقین کی۔
آخر میں ناظمِ نشست فہد رشید نے اظہارِ تشکر پیش کیا اور مہمانانِ خصوصی، صدرِ محفل، اساتذہ، طلبہ اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس نشست کی کامیابی سب کے تعاون کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سلیمانیہ کالج مستقبل میں بھی ادبی و علمی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اسی جذبے سے کام کرتا رہے گا۔
یہ ادبی نشست ہر اعتبار سے کامیاب اور یادگار ثابت ہوئی اور طلبہ کے ذہنوں میں تخلیقی فکر کا ایک نیا در کھول گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رودادنمبر 11۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بچوں کی دنیا، انعامی کوٸز مقابلہ" کے تقسیم انعامات کی تقریب منعقد
🎁🎁🎁🎁🎁🎁🎁🎁🎁🎁🎁
ناگپور، ۲۸ دسمبر (رپورٹر):
مولانا ابوالکلام آزاد ہائی اسکول و جونیٸر کالج، گاندھی باغ میں انعامی کوٸز مقابلہ کے تقسیمِ انعامات کی ایک تقریب پرنسپل عبداللطیف صاحب کی صدارت میں منعقد کی گٸی۔
اس موقع پر سپروائزر ڈاکٹر محمد اسعد حیات صاحب، مہمانِ خاص ڈاکٹر بختیار احمد غازی صاحب، پی ٹی اے کے رکن حافظ شکیل احمد صاحب شریکِ تقریب تھے۔
واضح رہے کہ اردو زبان و ادب اور طلبہ میں کتب بینی کے شوق کو فروغ دینے کے لیے رسالہ ”ماہنامہ بچوں کی دنیا“ ہر ماہ ادارہٕ ہٰذا، طلبہ و طالبات کو فراہم کرتا ہے۔
کتب بینی کے شوق میں مزید اضافے کے لیے ادارہٕ ہٰذا کی جانب سے نومبر ماہ کے شمارے سے ایک ”انعامی کوٸز مقابلہ“ شروع کیا گیا۔جس میں اس شمارے سے پانچ سوالات پوچھے گئے۔ جس کے لیے چار گروپ بنائے گئے۔ پہلا گروپ پانچویں اور چھٹویں جماعت، دوسرا گروپ ساتویں اور آٹھویں جماعت، تیسرا نویں اور دسویں جماعت جبکہ چوتھا گیارہویں اوربارہویں جماعت کا تھا۔ ہر گروپ سے الگ الگ سوالات پوچھے گٸےتھے۔خاص بات یہ رہی کہ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے اس مقابلے میں شرکت کی اور صحیح جوابات دیٸے۔ قرعہ اندازی کے ذریعے ہر گروپ سے دو طالبِ علموں کا انتخاب کیا گیا۔اور مہمانان کے دستِ مبارک سے انعامات سے نوازاگیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر بختیار احمد غازی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کی ضامن ہوتی ہیں۔
صدارتی خطبے میں پرنسپل عبداللطیف صاحب نے اس منفرد پروجیکٹ کے لیے اس کے سربراہ سپروائزر ڈاکٹر محمد اسعد حیات صاحب اور تمام اراکین کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ پروجیکٹ طلبہ میں مطالعہ کا شوق پیدا کرنے کے لیے میل کا پتھر ثابت ہوگا۔
اس تقریب کی نظامت کے فراٸض محمد عامرآفاق صاحب نے بحسن خوبی انجام دیٸے اور ہدیہٕ تشکر ڈاکٹر اسعدحیات صاحب نے پیش کیا۔
اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے پروجیکٹ کے اراکین نجم الصبیح صاحبہ، افروز شاہین صاحبہ، نازیہ فردوس صاحبہ، محمد عامرآفاق صاحب، صالحہ فیصل خان صاحبہ، مفتی حکیم الدین محسن صاحب اور تمام تدریسی و غیر تدریسی عملے نے انتھک کوششیں کیں۔
مزید معلومات گیارہویں جماعت کی درسی کتاب صفحہ نمبر 62 اور 63 سے
۔۔۔۔۔۔۔۔..........................................................................
روداد نمبر ۱۲
👈آپ کے کالج میں منائے گئے یوم غالب کی روداد تحریر
سلیمانیہ کالج میں یومِ غالب کی تقریب— فکرِ غالب سے نئی نسل کو روشناس کرایا گیا
مانورہ ،27 دسمبر (نامہ نگار):
سلیمانیہ کالج میں آج یومِ غالب کے موقع پر ایک پُروقار اور علمی تقریب منعقد کی گئی جس میں اساتذہ، طلبہ اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز صبح 10 بجے ناظمِ پروگرام لئیق احمد لئیقؔ کی نظامت میں ہوا، جنہوں نے شرکائے محفل کو خوش آمدید کہا اور مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ کی ادبی عظمت پر مختصر تعارفی کلمات پیش کیے۔
تقریب کی صدارت ممتاز محقق و نقّاد پروفیسر اقبال احمد خان بالاپوری نے کی، جب کہ مہمانانِ خصوصی کے طور پر معروف شاعر ڈاکٹر ارشق احمد ارشقؔ اور اردو کی ممتاز استادہ عفیراء فاطمہ جہاںؔ تشریف لائیں۔ مہمانوں کی آمد پر کالج کے طلبہ نے تالیوں سے بھرپور استقبال کیا۔
تقریب کا آغاز حسب معمول تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ پروگرام میں مقررین نے غالب کی شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔ پہلے مقرر صادق احمد نے ’’غالب کی شاعری میں فلسفیانہ رنگ‘‘ کے موضوع پر مقالہ پیش کیا اور کہا کہ غالب کے اشعار محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ گہری فکری بصیرت کے حامل ہیں۔ اس کے بعد ناہید تبسم نے ’’غالب اور جدید ذہن‘‘ کے عنوان سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ غالب آج بھی نوجوان نسل کے لیے فکری رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
نشست کا اہم مرحلہ اس وقت آیا جب مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ارشق احمد ارشقؔ نے غالب کے منتخب اشعار ترنم سے سنائے۔ ان کے کلام پر حاضرین نے خوب داد دی اور محفل دیر تک تالیوں سے گونجتی رہی۔ اس موقع پر عفیراء فاطمہ جہاںؔ نے بھی غالب کے خطوط اور نثر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غالب نہ صرف عظیم شاعر تھے بلکہ ایک منفرد نثر نگار بھی تھے۔
صدارتی خطاب میں پروفیسر اقبال احمد خان بالاپوری نے کہا کہ مرزا غالب اردو ادب کا وہ روشن چراغ ہیں جن کی روشنی آج بھی ہمارے فکری راستوں کو منور کرتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ غالب کے کلام کو محض نصابی حد تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کی معنوی گہرائی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
تقریب کےاختتام سے قبل جناب موثق احمد موثقؔ نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے صدرِ تقریب، مہمانانِ خصوصی، مقررین اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کالج انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی سلیمانیہ کالج میں اس طرح کی ادبی تقاریب منعقد ہوتی رہیں گی۔ اس کے بعد صدرتقریب کی اجازت سے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیاگیا۔
تقریب مجموعی طور پر ایک کامیاب اور یادگار علمی نشست ثابت ہوئی جس نے طلبہ میں غالب شناسی کے شعور کو مزید مستحکم کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روداد نمبر ۱۳
👈آپ کے کالج میں منائے گئے یوم غالب کی روداد تحریر کیجئے
سلیمانیہ کالج میں یومِ اردو کی تقریب— زبان و ادب کے فروغ پر زور
مانورہ، ۹ نومبر (نامہ نگار غضنفر حسین):
سلیمانیہ کالج میں یومِ اردو کے موقع پر ایک باوقار اور علمی تقریب منعقد کی گئی جس میں اساتذہ، طلبہ اور ادب سے وابستہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز صبح 10 بجے ناظمِ پروگرام جناب لئیق احمد لئیقؔ کی نظامت میں ہوا، جنہوں نے حاضرین کو خوش آمدید کہتے ہوئے یومِ اردو کی اہمیت اور مقصد پر روشنی ڈالی۔
تقریب کی صدارت ممتاز ماہرِ لسانیات پروفیسر اقبال احمد خان بالاپوری نے کی، جب کہ مہمانانِ خصوصی کے طور پر معروف شاعر ڈاکٹر ارشق احمد ارشقؔ اور ممتاز افسانہ نگار عفیراء فاطمہ سحرؔ نے شرکت کی۔ مہمانوں کی آمد پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور کالج انتظامیہ کی جانب سے انہیں گل دستے پیش کیے گئے۔
حسب معمول تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ پروگرام میں مقررین نے اردو زبان کی تاریخی اہمیت اور عصری تقاضوں پر اظہارِ خیال کیا۔ پہلے مقرر صادق احمد نے ’’اردو زبان کا تہذیبی کردار‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو نے برصغیر میں مختلف تہذیبوں کو جوڑنے کا فریضہ انجام دیا ہے۔ اس کے بعد واجدہ تبسم نے ’’عصرِ حاضر میں اردو کو درپیش چیلنجز‘‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا اور نوجوان نسل کو اردو کے فروغ کے لیے عملی کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ارشق احمد ارشقؔ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیبی شناخت ہے اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ میں اس زبان سے محبت پیدا کریں۔ اس موقع پر محترمہ عفیراء فاطمہ سحرؔ نے اردو افسانے اور جدید ادب پر مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کی تخلیقات اردو زبان کے روشن مستقبل کی علامت ہیں۔
صدارتی خطاب میں پروفیسر اقبال احمد خان بالاپوری نے کہا کہ اردو زبان نے ہمیشہ علم، محبت اور رواداری کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی سطح پر اردو کے استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ یہ زبان آئندہ نسلوں تک پوری توانائی کے ساتھ منتقل ہو سکے۔
تقریب کے اختتام سے پہلے اس تقریب کے روح رواں جناب موثق احمد موثقؔ نے اظہارِ تشکر پیش کرتے ہوئے صدرِ تقریب، مہمانانِ خصوصی، مقررین، اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں کالج انتظامیہ اور ادبی کمیٹی کی مشترکہ کوششیں شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سلیمانیہ کالج مستقبل میں بھی یومِ اردو جیسی تقاریب کا اہتمام کرتا رہے گا۔ آخر میں صدر تقریب کی اجازت سے اس پروگرام کے اختتام کا اعلان کیاگیا۔
یومِ اردو کی یہ تقریب مجموعی طور پر ایک کامیاب اور یادگار ادبی نشست ثابت ہوئی جس نے طلبہ میں اردو زبان سے وابستگی اور اس کے فروغ کے جذبے کو مزید مضبوط کیا۔
JazakAllah sir
ReplyDeleteبہت عمدہ محترم
ReplyDeleteNice 👍👍👍
ReplyDeleteIt is very helpful for us thank you sir
ReplyDeleteبہت بہترین کارکردگی سر طالب علم اور تمام اساتذہ کے کے حق میں ۔۔۔۔جزاک الله
ReplyDeleteyes nice
ReplyDeleteUmair
ReplyDeleteThank you very much
ReplyDelete